Rehri Goath Disability camp ریڑھی گو ٹھ میں طبی کیمپ

گزشتہ ہفتے ریڑھی گوٹھ میں طبّی کیمپ لگا یاگیا جس میںHANDSاورPAKISTAN POVERTY ALLEVIATION FUND کے تعاون سے معذور افراد کو مفت آلات تقسیم کئے گئے۔ سماعت سے محروم، بصارت کی کمزوری اور دیگر جسمانی معذوری کا شکار افراد خصوصاً خواتین اور کم عمر لڑکیوں کی بڑی تعداد کیمپ میں موجود تھی، جنہیں مفت چشمے، سماعت کے آلات اورآرتھوڈیک ڈیوائسز تقسیم کی گئیں۔ریڑھی گوٹھ میں خواتین خاص طور پر عمر رسیدہ عورتیں مختلف اقسام کے جسمانی امراض کا شکار ہیں۔۔۔جس کی اہم وجہ غذائی قلت، صفائی کا فقدان ، منشیات کا استعمال اور صحت عامہ کی سہولیات کا نہ ہونا ہے۔
ایک سروے کے مطابق صرف 3یونین کونسلز ابراہیم حیدری، ریڑھی اور لانڈھی میں5,000سے زائد افراد مختلف اقسام کی معذوری میں مبتلا ہیں جن میں 2,000سے زائد خواتین شامل ہیں، صرف ریڑھی گوٹھ میں 609مرد،897خواتین اور743بچے معذوری کی زندگی گزار رہے ہیں۔اس سلسلے میں ہم نے ڈاکٹر پیار علی خواجہ سے بات کی جو HANDS DISABILITY PROJECTکے ڈسٹرکٹ پروجیکٹ منیجر ہیں:
کراچی کی ساحلی پٹی پر واقع ریڑھی گوٹھ اور دیگر علاقوں سے مچھلی اور جھینگے سمیت کئی اقسام کے سی فوڈز پورے ملک اور پاکستان سے باہر بھیجے جاتے ہیں۔۔۔ اس کے باوجود یہاں کے لوگ بد ترین حالات میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، غربت اور جہالت کے باعث لوگوں کی بڑی تعداد مختلف امراض کا شکار ہے،جن میں بینائی کی کمزوری اور سماعت سے محرومی سرفہرست ہے۔ کیمپ میں موجود 15سالہ نسرین سے ہم نے بات کی جو5سال کی عمر سے ایک کان سے سننے سے معذور ہے:
ریڑھی گوٹھ اور کراچی کے دیگر نواحی گوٹھوں میں خواتین میں جسمانی بیماریوں اور معذوری کے ساتھ ساتھ مختلف سماجی مسائل بھی دیکھنے میں آتے ہیں۔۔۔ جن کی وجہ تعلیم اور روزگار کی کمی ہے،اس حوالے سے مختلف فلاحی اداروں کے ساتھ ساتھHANDSاورPPAFاس علاقے میں سرگرم عمل ہیں ، تاکہ خواتین کو سماجی اور معاشی مسائل سے نجات دلائی جا سکے، اس سلسلے میں ریڑھی گوٹھ میں لڑکیوں کو تعلیم اور خواتین کو روزگار اور کاروبار کی سہولیات بھی فراہم کی جارہی ہیں۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ریڑھی گوٹھ جیسے دیگر علاقوں میں بھی اس نوعیت کے طبی کیمپ لگائے جائیں۔۔۔ یہی نہیں بلکہ پسماندہ علاقوں میں خواتین کو درپیش صحت، تعلیم اور روزگار کے مسائل کے ازالے کیلئے ذمے دار اداروں کی جانب سے مثبت حکمت عملی اختیار کی جانی چاہئیے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *