Women Druger in Rehri Goath خواتین میں منشیا ت کا استعما ل

ریڑھی گوٹھ میں کئے گئے سروے کے مطابق غربت، گھریلو حالات، مالی پریشانیاں، احساس کمتری اور شعور و آگہی کا فقدان دیہاتی خواتین کو نشہ آور ادویات کے متواتر استعمال کی جانب دھکیل رہا ہے۔تعلیم کی کمی کے باعث اس علاقے کی خواتین منشیات کے استعمال کی جانب راغب ہو رہی ہیں اور پھر نشے کی طلب پوری کرنے کیلئے بھیک مانگنے اور منشیات فروشوں کے ہاتھوں کھلونا بن کر غیر قانونی اور غیر اخلاقی سرگرمیوں میں ملوث ہونے پر مجبور ہیں۔
سنتے ہیں ریڑھی گوٹھ میں رہنے والی ایک عورت۔۔۔ ایک ماں کی داستان خود اُسکی زبانی جو نشے کی لعنت میں مبتلا ہو کر اپنے فرائض سے غافل ہو چکی ہے:
جگہ جگہ غلاظت اور گندگی کے ڈھیر خواتین کو مختلف بیماریوں اور معذوری میں مبتلا کر رہے ہیں، ایسے میں بے شمار خواتین مختلف امراض سے وقتی طور پر نجات حاصل کرنے کیلئے نشہ آور ادویات استعمال کرتی ہیں اور پھر دھیرے دھیرے نشے کی عادی ہو جاتی ہیں۔
یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ریڑھی گوٹھ میں کچھ خواتین منشیات فروشی کے کاروبار میں بھی ملوث ہیں اور نہ صرف خود نشے کی عادی ہیںبلکہ ایسی خواتین اپنی قریبی رشتے دار عورتوں اورسہیلیوں کو بھی اس لعنت میں مبتلا کر کے انھیں استعمال کر رہی ہیں۔
ہم بات کرتے ہیں ایک ایسی خاتون سے جو منشیات کی خاطر اپنی ازدواجی زندگی داﺅ پر لگا چکی ہے یہاںتک کہ اپنی اولاد کو بھی کھو چکی ہے:
خواتین نشے کیلئے چرس، بھنگ، حشیش، شراب، پان، بیڑی، گٹکے خصوصاًہیروئن کے استعمال کی عادی ہیں، جبکہ ریڑھی گوٹھ میں کسی سرکاری و نجی ادارے کی جانب سے Rehabilitation Centre قائم نہیں ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ریڑھی گوٹھ اوردیگر علاقوں میں خواتین میں منشیات کے استعمال کی بڑھتی ہوئی شرح پر قابو پایا جائے،اس حوالے سے اِن علاقوں میںRehabilitation Centres قائم کرنے اور خواتین کو نشہ آور ادویات کے جان لیوا نقصانات سے آگہی فراہم کرنے کی ضرورت ہے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *