چودہویں کا چاند ہو جیسے سینکڑوں لازوال گیتوں کے خالق معروف شاعر شکیل بدایونی کی پیدائش 3 اگست 1916ءکو اتر پردیش کے ضلع بدایوں میں ہوئی۔
ابتدائی تعلیم بدایوں سے حاصل کرنے کے بعد اعلیٰ تعلیم کے لئے وہ 1932 میں علی گڑھ مسلم یونیورسٹی سے گریجویشن کرکے کچھ عرصہ دہلی میں سرکاری ملازم رہے۔علی گڑھ میں زمانہ طالبعلمی کے دوران ہی شکیل نے شاعری شروع کی اور 1944ءمیں بمبئی منتقل ہونے کے بعد ان کی ملاقات معروف موسیقار نوشاد سے ہوئی، اور فلم درد سے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز کیا۔جس کے گیتوں نے پورے ہندوستان میں تہلکہ مچا دیا تھا، خصوصا افسانہ لکھ رہی ہوں دل بے قرار کا تو آج بھی لوگوں کے زبانوں میں رواں ہے۔
اس کے بعد نوشاد اور شکیل بدایونی کے اشتراک سے متعدد سپر ہٹ گیت سامنے آئے جن میں فلم میلہ کا یہ زندگی کے میلے دنیا میں کم نہ ہوں گے، فلم دلاری کا سہانی رات ڈھل چکی، فلم میرے محبوب کا میرے محبوب تجھے، اڑن کھٹولہ کا او دور کے مسافر، سمیت بیجو باورا کا گیت او دنیا کے رکھوالے قابل ذکر ہیں۔
تاہم اس جوڑی کا سب سے نمایاں کام فلم مغل اعظم میں سامنے آیا جس کے ہر گیت نے مقبولیت حاصل کی، خصوصاً پیار کیا تو ڈرنا کیا تو لافانی حیثیت اختیار کرگیا ہے۔
چاس سے ساٹھ کی دہائی تک دیگر نغمہ نگاروں کے مقابلے میں سب سے زیادہ گیت شکیل نے لکھے تھے بلکہ بین الاقوامی سطح پر بھی سب سے زیادہ فلمی گیت لکھنے والے نغمہ نگار شکیل بدایونی ہی رہے تھے۔
چودھویں کا چاند کے ٹائیٹل گیت پر 1961ء میںشکیل بدایونی کو پہلا فلم فئیر ایوارڈ ملا، اور اگلے سال پھر فلم گھرانہ کے نغمے حسن والے تیرا جواب نہیںپر اور 1963ءمیں ہیٹ ٹرک کرتے ہوئے فلم بیس سال بعد کے گانے کہیں دیپ جلے کہیں دل پر تیسرا فلم فئیر ایوارڈ حاصل کیا، جبکہ بھارتی حکومت نے انہیں گیت کار اعظم کے خطاب سے بھی نوازا۔
ایک سو سے بھی زائد فلموں میں گیت نگاری کرنے والے اس البیلے شاعر کا انتقال 20 اپریل 1971ءمیں بمبئی میں ہوا۔
اگرچہ آج وہ ہم میں نہیں تاہم آج بھی ان کے گانوں کو سن کر لوگ جھومنے لگتے ہیں۔