Private Investment Scheme Ruins Poor Families in India – بھارت میں سرمایہ کاری گروپ کا فراڈ

مغربی بنگال کے ہزاروں رہائشی دو ماہ قبل ایک مالیاتی گروپ کے دیوالیہ ہونے پر اپنی جمع پونجی سے محروم ہوگئے تھے، ہزاروں افراد نے شردھا کی اسکیم میں اپنے پیسے لگارکھے تھے۔ اس اسکینڈل کے سامنے آنے کے بعد سے اب تک بیس سے زائد افراد خودکیشاں کرچکے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

کمال شیخ کا خاندان ماتم کررہا ہے، 42 سالہ کمال نے گزشتہ ماہ خودکشی کرلی تھی۔وہ دیوالیہ ہوجانے والے شردھا کے ایک فنڈ ایجنٹ تھے اور انھوں نے تیس سے زائد خاندانوں سے تیس ہزار ڈالرز سے زائد سرمایہ کاری کروائی تھی۔ان کے کزن رقیب غازی کا کہنا ہے کہ اس گروپ کے دیوالیہ ہونے کے بعد سے کمال کو شدید دباﺅ کا سامنا تھا۔

غازی”رقوم جمع کروانے افراد کو لگ رہا تھا کہ انہیں دھوکہ دیا گیا ہے اور وہ اپنے نقصان کا ذمہ دار کمال کو قرار دے رہے تھے۔وہ اس سے ایک ہفتے کے اندر رقم واپس کرنے کا مطالبہ کررہے تھے اور یہ دباﺅ اس وقت مزید بڑھ گیا جب کمال نے کہا کہ وہ گاﺅں والوں کی رقوم واپس نہیں کرسکتا، جس پر اس کے ساتھ بہت برا سلوک کیا گیا۔ کمال یہ دباﺅ برداشت نہیں کرسکا اور اس نے خود کو پھندے پر لٹکالیا”۔

سائیکل رکشہ چلانے والے رجب علی بھی کمال سے اپنی رقم کی واپسی کا مطالبہ کررہے تھے،انھوں نے شردھا فنڈ میں سات سو ڈالرز کی سرمایہ کاری اس یقین دہانی پر کی کہ آئندہ دس برسوں میں یہ رقم چار گنا منافع کے ساتھ واپس کی جائے گی۔ وہ اس رقم کو اپنی بیٹی کی شادی کے موقع پر استعمال کرنا چاہتے تھے۔

رجب علی”میں نے اپنے والد کے ورثے میں ملنے والی زمین کا ٹکڑا فروخت کیا تھا، اس وقت کمال نے مجھے سرمایہ کاری کی پیشکش کی، جو مجھے کافی پرکشش لگی اور میں نے اپنی تمام رقم اس پر لگادی۔ اب شردھا دیوالیہ ہوگیا ہے اور میں بہت فکرمند ہوں۔ اب میں اپنی بیٹی کے اخراجات کیسے پورے کروں گا؟ میں روزانہ کی آمدنی صرف دو ڈالر ہے اور میں بچت بھی نہیں کرسکتا۔ شردھا نے میری بیٹی کا مستقبل تباہ کردیا ہے”۔

شردھا گروپ بھارتی کمپنیوں کا ایک گروپ ہے جو 2007ءسے لوگوں سے سرمایہ کاری کی غرض سے رقوم جمع کررہا تھا۔اپنے عروج کے دور میں اس گروپ نے جائیداد اور میڈیا میں کافی سرمایہ کاری کی۔ صرف مغربی بنگال میں ہی اس گروپ میں ساڑھے تین لاکھ افراد نے مجموعی طور پر سات سو ملین ڈالرز کی سرمایہ کاری کی۔نندتا ھالڈر اس گروپ کی ایک ایجنٹ ہیں اور وہ اس وقت لوگوں کے ڈر سے چھپی ہوئی ہیں۔

نندتا”سرمایہ کاری کرنے والے افراد ہمارے گھروں پر حملے کرتے ہوئے اپنی رقوم کی واپسی کا مطالبہ کررہے ہیں، ہماری زندگیوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ ہم اپنے گاﺅں سے دور رہنے پر مجبور ہیں، اگر ہم وہاں واپس گئے تو سرمایہ کاری کرنے والے افراد ہمیں قتل کردیں گے۔ ہم نے ان افراد کی رقوم اچھے منافع کے ساتھ واپس کرنے کی یقین دہانی کرائی تھی، اب اگر ہم ان کی رقوم واپس کرنے میں ناکام رہے تو وہ یا تو ہمیں ماردیں گے یا خودکشی کرلیں گے”۔

مغربی بنگال میں متاثرہ افراد کی جانب سے احتجاجی مظاہرے کئے جارہے ہیں، پولیس اور حکومت کی جانب سے اس معاملے کی تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ شردھا بہت زیادہ منافع پر مختصر المدت کی سرمایہ کاری کی پیشکش کرنے والا واحد گروپ نہیں، سرمایہ کاری کے ماہر ڈاکٹر تیمیر باران گرائی بتارہے ہیں کہ اس طرح کے پروگرامز غریب افراد میں اتنے مقبول کیوں ہیں۔

بارن”پہلی بات تو یہ ہے کہ دیہی علاقوں میں بینکوں کی کمی ہے، بینک اکاﺅنٹ کھلنے کیلئے مناسب شناختی سرٹیفکیٹ، رہائش کا ثبوت اور دیگر دستاویزات کی ضرورت ہوتی ہے۔ غریب افراد ان دستاویزات کو فراہم نہیں کرپاتے، جس کے نتیجے میں غریب افراد کیلئے بینک اکاﺅنٹ کھلوانا ہرکولیس ٹاسک بن جاتا ہے۔ اس کے مقابلے میں سرمایہ کاری اسکیموں کے ایجنٹ کی جانب سے انتہائی دوستانہ شرائط پیش کی جاتی ہیں۔وہ ایسے دستاویزات کا مطالبہ ہی نہیں کرتے جو سرمایہ کاری کرنے والے افراد فراہم نہ کرسکے”۔

ریبا ٹھاکر کولکتہ میں سبزیاں فروخت کرتی ہیں۔

ریبا”میں ان پڑھ ہوں، مجھے نہیں معلوم کہ خط کیسے لکھا جاسکتا ہے۔ اگر میں بینک میں جاتی تو میں اکاﺅنٹ کھلوانے میں ناکام رہتی، یہی وجہ ہے کہ میں نے بینک میں رقم جمع کرانے یا سرمایہ کاری کا کبھی نہیں سوچا، تاہم میں اپنی رقم بچانا چاہتی تھی اس لئے میں نے اپنی بچے ایک سرمایہ کاری اسکیم میں جمع کرادی۔ اس فنڈ کے ایجنٹ نے مجھ سے کوئی کاغذ نہیں مانگا، وہ میری دکان پر آکر روزانہ 55 سینٹ لے لیتا، مجھے یہ سروس بہت زیادہ اچھی لگی”۔

انھوں نے اپنی رقم بھارت میں مقبول ایک اور سرمایہ کاری فنڈایم پی ایس گرینری میں جمع کرائی، تاہم انھوں نے دیگر گروپس کے دیوالیہ ہونے کی خبر سن کر تمام رقم نکلوا لی، مگر ڈرائیوربسواجی پل بروقت ایسا نہیں کرسکے۔

بسواجی”میں نے اپنی بیوہ ماہ کی زندگی بھر کی جمع پونجی یعنی دس ہزار ڈالرز شردھا میں جمع کرائے۔ مجھے اس کمپنی پر اعتماد تھا، مگر اب سب کو معلوم ہوچکا ہے کہ شردھانے سب لوگوں کو لوٹ لیا ہے۔ ہم اپنی زندگی بھر کی بچت سے محروم ہوگئے ہیں، اور اس وقت گہرے پانیوں میں غوطے کھا رہے ہیں۔ میں اب اپنی ماں کا سامنا نہیں کرسکتا اور میرے پاس خودکشی کے سوا کوئی راستہ نہیں بچا”۔