حالیہ مردم شماری میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جکارتہ کے دس لاکھ سے زائد بچے پرائمری اسکولوں تک رسائی سے محروم ہیں، ان میں بیشتر غریب خاندانون سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم ایک اسکول ایسے بچوں کیلئے امید کی نئی کرن بن کر ابھرا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
بچے اپنے اسکول کے باہر کھیل رہے ہیں۔
یہ اسکول ایک عیسائی تعلیمی فاﺅنڈیشن کے فنڈز سے چل رہا ہے۔ سیموئل لیمبوک نینگولان اس سیکولاہ ہراپن باگی بنگسانامی اسکول کے بانی ہیں، یہ غریب بچوں کیلئے قائم کیا گیا ہے تاہم یہاں بین الاقوامی نصاب پڑھایا جاتا ہے۔
سیموئل”کیمبرج کے نصاب کے ذریعے ہم دیکھ سکتے ہیں کہ یہ بچے کتنی تیزی سے سیکھ رہے ہیں۔ انہیں کتب یاد کرنے کی ضرورت نہیں بلکہ وہ عملی طور پر اسے سیکھ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ سبق کو بہت تیزی سے یاد کرلیتے ہیں”۔
اس اسکول میں گزشتہ چار برس سے برطانوی نظام کو استعمال کیا جارہا ہے، یہاں انگریزی میں تعلیم دی جاتی ہے اور تمام کتب بھی انگریزی میں ہی ہیں۔ اس کے علاوہ یہاں موجود کمپیوٹرز پر مفت انٹرنیٹ کی سہولت بھی دستیاب ہے۔ اسکول کی پرنسپل روسلیانا سارگیہی کا کہنا ہے کہ ہم تعلیمی سلسلے کے متعدد طریقہ کار استعمال کررہے ہیں۔
روسلیانا”ہم ہر وہ چیز استعمال کررہے ہیں جو دستیاب ہے۔ ہم جب پودوں کے بارے میں پڑھاتے ہیں، تو ہم بچوں کو اسکول کے ارگرد موجود پودوں کے پاس لے جاتے ہیں، وہاں انہیں جڑوں، پتوں، پھلوں اور دیگر چیزوں کے بارے میں بتایا جاتا ہے۔ اس طرح بچے اپنا سبق زیادہ جلد سمجھ لیتے ہیں، ہم انہیں سب کچھ انگریزی زبان میں پڑھاتے ہیں اور اس کے لئے بھی اپنے ارگرد کی تمام چیزوں کو استعمال کرتے ہیں”۔
انڈونیشیاءمیں ایسے اسکولوں کی تعداد بڑھ رہی ہے جو بین الاقوامی نصاب کا استعمال کررہے ہیں، مگر ان کی فیسیں بہت زیادہ ہیں، مگر اس اسکول میں والدین کو ماہانہ صرف تین ڈالر ہی دینے پڑتے ہیں۔استانی دورا کرسٹیانا اس حوالے سے بتارہی ہیں۔
دورا”ہم تمام نصابی کتابوں کی فوٹو کاپیاں کرالیتے ہیں، اگر ہم اصل کتب خریدیں تو وہ بہت مہنگی پڑیں گی”۔
یہ اسکول جکارتہ کے نواحی علاقے پلو گیبانگ میں واقع ہے، اس کچی بستی کے بیشتر افراد معمولی کام کرتے ہیں۔
نو سالہ ٹریسے بھی اسکول میں زیرتعلیم ہے۔
تریسے”میرا نام ٹریسی ہے”۔
وہ اسکول کے بعد کچرا چننے اور اسے فروخت کرنے کا کام کرتی ہے۔
ٹریسی”میں اسکول کے بعد ایک بجے کچرا چنتی ہوں، اس کے بعد گھر جاکر کھانا کھاتی ہوں اور پھر اسکول کا کام کرتی ہوں”۔
چو نتیس سالہ ریاتامینا ٹریسی کی والدہ ہیں۔
ریا تا مینا”میری بیٹی اس اسکول میں جانے کے بعد سے بہت عقلمند ہوگئی ہے۔ وہ اسکول میں اچھے گریڈ لیتی ہے، اور اسے وہاں کے بہترین طالبعلموں میں سے ایک سمجھا جاتا ہے، مجھے اس پر فخر ہے”۔
انڈونیشیاءمیں سرکاری اسکولوں میں پرائمری تک تعلیم مفت ہے، مگر غریب افراد شکایت کرتے ہیں کہ ان سے خفیہ فیس لی جاتی ہے جبکہ وہاں کا معیار تعلیم بھی ناقص ہے۔سیموئل کا کہنا ہے کہ وہ اس علاقے کے غریب افراد میں امید پھیلانا چاہتے ہیں۔
سیموئل”یہاں کے متعدد بچے اسکول نہیں جاتے، یہ غریب علاقہ ہے اور کوئی بھی یہاں کی صورتحال بہتر بنانے کیلئے تیار نہیں۔ پھر یہ بچے کس طرح اسکول جاسکتے ہیں؟”