Dying Tourism in Pakistan Affects Workers – پاکستان میں سیاحت کا زوال

گزشتہ دنوں پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے ہزاروں ورکرز نے ہڑتال کی، انکا مطالبہ تھا کہ انکی تنخواہیں ادا کی جائیں، اس وقت متعدد افراد کو ایک برس سے تنخواہ کے نام پر ایک روپیہ بھی نہیں ملا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن کے تین سو کے قریب ملازمین اسلام آباد میں اپنے صدر دفتر کے باہر کھڑے ہیں، انھوں نے ہاتھوں میں احتجاجی بینر اٹھائے ہوئے ہیں، جن میں حکومت کو کرپٹ قرار دیا گیا ہے۔ یہ لوگ اپنی تنخواہوں کی ادائیگی کا مطالبہ کررہے ہیں۔ مجید یعقوب میں مظاہرین میں شامل ہیں، وہ ورکرز یونین کے صدر ہیں۔

مجید یعقوب”ہم اپنے حقوق کی جدوجہد کررہے ہیں اور ہم اپنی آخری سانس تک ملازمین کے حقوق کا دفاع کریں گے۔ ہمیں گزشتہ ایک برس سے تنخواہیں نہیں ملیں جبکہ منیجنگ ڈائریکٹر کی کرپشن میں کوئی کمی نہیں آئی۔ ہم اس ناانصافی کو اب مزید برداشت نہیں کریں گے”۔

پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کارپوریشن ایک سرکاری ادارہ ہے جو مختلف علاقوں تک رسائی کیلئے ٹرانسپورٹ کی سہولت فراہم کرتا ہے جبکہ سیاحوں کے آرام کے لئے اس کے مختلف علاقوں میں ہوٹل بھی موجود ہیں۔ ورکرز یونین کے الزام ہے کہ اعلیٰ عہدیداران کرپٹ ہیں اور وہ اس حوالے سے نیب میں کیس دائر کریں گے۔ تاہم انتطامیہ کا دعویٰ ہے کہ ادارے کو مالی مسائل کا سامنا ہے اور حکومت سے مالی معاونت کی درخواست کی گئی ہے۔

افغانستان میں امریکی حملے کے بعد سے پاکستان میں سیاحت کی صنعت زوال کا شکار ہے، سب سے زیادہ متاثر ہونے والا علاقہ وادی سوات ثابت ہوا، جہاں پہلے طالبان کا غلبہ رہا اور پھر پاک فوج کے آپریشن کے بعد متعدد سیاحتی مقامات تباہ ہوگئے۔ عثمان خان فیڈرل انسٹیٹیوٹ آف ٹو رزم اینڈ ہوٹل مینیجمینٹ کے چیئرمین ہیں۔

عثمان خان”جب کسی ملک میں جنگ ہوتی ہے تو اس پورے خطے سے سیاح نکل جاتے ہیں۔ پاکستنا میں بھی سیاحت کا شعبہ مقامی اور بین الاقوامی میڈیا کی جانب سے پاکستان کے پیش کردہ خراب امیج کی وجہ سے زوال کا شکار ہوا”۔

ورلڈ اکنامک فورم نے پاکستان کو غیرملکیوں کیلئے انتہائی خراب ممالک کی فہرست میں شامل کیا ہے۔ تیس سالہ ٹور گائیڈ اسما خان کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ کو سیاحوں کو واپس لینے کیلئے کافی اقدامات کرنا ہوں گے۔

اسما خان”نائن الیون کے بعد سے پاکستان کو بدترین زوال کا سامنا ہوا ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ عہدیداران نے بھی کافی غلطیاں کی ہیں۔ وہ پاکستان میں سیاحت کو فروغ دینے میں مکمل طور پر ناکام رہے ہیں، خصوصاً پاکستان ٹورازم ڈویلپمنٹ تو بالکل ناکام رہا ہے، جسے ماضی میں غیرملکی سیاحوں سے بہت زیادہ آمدنی ہوتی تھی”۔

اس ادارے کے اپنے ملازمین بھی موجودہ صورتحال سے متاثر ہیں، 29 سالہ طاہرہ خان تحریک انصاف کی رہنماءہیں، انکا کہنا ہے کہ حکومت کو سیاحت کو فروغ دینے سے قبل کرپشن الزامات پر کارروائی کرنی چاہئے۔

طاہرہ”پاکستان کے محکمہ سیاحت کو کرپشن الزامات اور دیگر چیلنجز کا سامنا ہے، حالانکہ ہمیں اللہ تعالی نے سیاحتی اعتبار سے بے مثال مقامات عطا کررکھے ہیں، پاکستان کے شمالی علاقے خوبصورتی اور ثقافتی طور پر غیرملکی سیاحوں کیلئے بہت کشش رکھتے ہیں۔ ہمیں افسران میں کرپشن کا خاتمہ کرنا چا ہئے اور ملازمین کو تنخواہیں دی جانی چاہئے”۔

احتجاجی مقام پر واپس چلتے ہیں، ورکرز یونین کے جنرل سیکرٹری وقار احمد کا کہنا ہے کہ اگر نومنتخب حکومت نے عملی اقدام نہ کیا تو ہماری ہڑتال جاری رہے گی۔

وقار احمد”موجودہ صورتحال میں کام کرنا بہت مشکل ہے، ہم اپنے خاندانوں کا پیٹ بھرنے میں ناکام ہوچکے ہیں کیونک ہمیں ایک سال سے تنخواہیں نہیں ملیں۔ کیا یہ انصاف ہے؟ یہ غریب افراد کے ساتھ مذاق ہے اور ہم اس معاملے پر خاموش نہیں بیٹھ سکتے”۔