Poems from prisoners in India – بھارتی قیدی خواتین کی شاعری

جیل میں قید خواتین کی نظموں سے سجی ایک کتاب ایشیاءکے سب سے بڑے ادبی میلے جے پور رائٹرز فیسٹیول میں متعارف کرائی گئی، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ڈاکٹرورتکا ننداایک قیدی خاتون راما کی لکھی گئی نطم پڑھ کر سنارہی ہیں۔ یہ نظم اس مجموعے کا حصہ ہے جسے ڈاکٹرورتکا نندا نے اکھٹا کرکے ایڈیٹ کیا۔

ورتکا نندا”قیدخانے میں ہر جگہ آنسوﺅں کے آثار نظر آتے ہیں، ماں کی نگہداشت کے بغیر زندگی، بچوں کے لمس سے جدائی، بچوں کی محبت اور رونے جیسی اداﺅں سے دوری، اور خاندان کی گرمجوشی سے دور رہنا”۔

اس کتاب میں دہلی کی تہاڑ جیل میں قید خواتین کی تصاویر بھی موجود ہیں۔

ورتکا”اس کتاب کی ایک خاص بات یہ ہے کہ جب آپ اسے دیکھتے ہیں، تو آپ صرف تصاویر کو ہی دیکھتے ہیں، جب آپ کی نظریں تصویر سے نیچے جاتی ہے تو پھر آپ شاعری کے سحر میں مبتلا ہوجاتے ہیں”۔

اس کتاب کی چند نظموں پر موسیقی بھی ترتیب دی گئی ہے، جن میں سے ایک تنکا تنکا تہار ہے جسے مرد قیدیوں نے گایا ہے۔

اس کتاب کی پہلی ایڈیٹر پریتا بھرگاواہیں، وہ ریاست راجھستان کی خاتون جیلر بھی رہ چکی ہیں، اس کے علاوہ وہ ایک شاعرہ بھی ہیں اور ادبی طاقت پر بہت زیادہ یقین رکھتی ہیں۔

پریتا”اگرچہ ہم مجرموں کو جیل میں جسمانی طور پر قید کردیتے ہیں، تاہم ہم ان کے خیالات اور ذہینت کو قید نہیں کرسکتے، دل اور دماغ کبھی بھی قید نہیں ہوتے، تو ہم ان سے بات چیت کرکے ان کے خیالات کو تبدیل کرنے کی کوشش کرتے ہیں”۔
ورتکاایک ملزمہ سیماکی لکھی ہوئی نظم پڑھ رہی ہیں۔

اب تک اس کتاب کی پانچ ہزار کاپیاں شائع ہوچکی ہیں، اور اس سے حاصل ہونے والا منافع قیدی خواتین کی زندگیوں میںبہتری لانے کیلئے استعمال ہوگا۔