Hazara Community Feels Their Identity Doubted in Pakistanپاکستانی ہزارہ برادری

پاکستانی ہزارہ برادری اکثر فائرنگ و بم دھماکوں کا نشانہ بنتی رہتی ہے، یہی وجہ ہے کہ متعدد ہزارہ خاندان ملک سے باہر چلے گئے ہیں، تاہم ان مین سے بیشتر پاسپورٹس کے حصول کیلئے مارے مارے پھر رہے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

پچیس سالہ الطاف حسین گزشتہ سال عسکریت پسندوں کے ایک حملے میں زخمی ہوگئے تھے اور ان کا علاج کراچی میں جاری ہے۔

الطاف حسین”حملہ آوروں کو ہمیں کم از کم یہ تو بتانا چاہئے کہ وہ ہمیں کیوں ماررہے ہیں؟ مجھے اس بارے میں ٹھیک سے تو معلوم نہیں مگر میرے خیال اس کی وجہ میری قومیت یا میرا عقیدہ ہے”۔

کوئٹہ شہر میں ہزارہ برادری خوف کے عالم میں زندگی گزار رہی ہے، ان کے زیادہ سے زیادہ افراد تحفظ کیلئے بیرون ملک جانا چاہتے ہیں، مگر ہزارہ افراد کیلئے پاسپورٹس کا حصول ایک چیلنج بن چکا ہے۔

ہزارہ قبیلے کے سربراہ سردار مہدی گزشتہ دنوں اس معاملے کو سندھ ہائیکورٹ میں لے گئے تھے، انکا کہنا ہے کہ یہ ہزارہ برادری کے بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے۔

مہدی”ہر انسان کو سفر کرنے اور بہتر مواقعوں سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے، ہم نے عدالت سے رجوع کیا ہے کہ تاکہ جان سکیں کہ ہزارہ افراد سے امتیازی سلوک کیوں کیا جارہا ہے۔ یہاں پاسپورٹ ڈیسک کے افراد ہمارے ساتھ ایسا سلوک کررہے ہیں، مجھے توقع ہے کہ یہ حکومتی پالیسی نہیں ہوگی۔ ہم پاکستان کے محب وطن شہری ہیں اور ہم یہاں ہی رہنا چاہتے ہیں، مگر ہم پر حملے ہورہے ہیں”۔

گزشتہ سال جنوری میں ایک پرہجوم اسنوکر کلب میں کار خودکش حملے میں کم از کم ایک سو بیس افراد ہلاک ہوگئے تھے، جبکہ ایک ماہ بعد ہی ایک بازار میں دھماکے سے درجنوں افراد جاں بحق ہوئے تھے۔

حال ہی میں ہزارہ برادری ایک بار پھر سڑکوں پر نکلی اور کوئٹہ میں اپنی برادری پر ہونے والے حملوں میں ملوث عناصر کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کا مطالبہ
کیا۔

کوئٹہ میں پاسپورٹ دینے سے انکار پر ایک تاجر محمد ہاشم نے کراچی میں قسمت آزمائی کا فیصلہ کیا۔

ہاشم”کوئٹہ میں مجھے نیا پاسپورٹ دینے سے انکار کرتے ہوئے کاہ گیا ہے کہ میرے دستاویزات پر لگی تصویر میچ نہیں کرتی، یہاں کراچی میں بھی مجھے انکار کرتے ہوئے واپس کوئٹہ جانے کا کہا گیا ہے”۔

دفتر کے باہر ایک عہدیدار نے نام چھپانے کی شرط پر ہزارہ افراد سے امتیازی سلوک کے الزامات مسترد کردیئے۔

چھبیس سالہ سکندر علی ان ہزارہ افراد میں سے ایک ہے جنھیں پاسپورٹ مل چکا ہے۔

سکندر علی”میں خود کو بہت خوش قسمت سمجھ رہا ہوں، میں نے کچھ لوگوں سے پاسپورٹ دفتر میں پیش آنے والی مشکلات کا سنا تھا، مجھے بھی پولیس کے پاس جانے کا کہا گیا تھا، اور میرا پس منظر چیک کرایا گیا، تمام دستاویزات کے حصول کے باوجود میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری قومیت یا کسی اور وجہ سے
میرے ساتھ امتیازی سلوک کیا گیا کہ نہیں”۔

مگر تمام ہزارہ افراد وطن چھوڑنے کے خواہشمند نہیں، گھریلو خاتون زینیب کا کہنا ہے کہ ان کے شوہر سے پاسپورٹس کیلئے بھاری رقم مانگی گئی، تاہم ہم تمام تر مشکلات کے باوجود پاکستان میں ہی رہنا چاہتے ہیں۔

زینیب”میں امن کیلئے دعا کرتی ہوں، میں چاہتی ہوں کہ میرے بچے یہیں رہ کر تعلیم حاصل کریں، حالانکہ یہاں حالات ہمارے لئے کچھ زیادہ اچھے نظر نہیں آتے”۔