Philippines “Pork-barrel” Protest – فلپائنی احتجاج

فلپائن بھر میں لاکھوں افراد عوامی فنڈز کے غلط استعمال کیخلاف ریلیاں نکال رہے ہیں، یہ لوگ میڈیا میں سامنے آنے والے ایک اسکینڈل کے بعد احتجاج کیلئے نکلے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

لاکھوں فلپائنی شہری عوامی نمائندگان کی جانب سے حکومتی فنڈز کے غلط استعمال کیخلاف مظاہرے کررہے ہیں، مقامی طور پر اسے پورک۔ بیرل اسکینڈل کا نام دیا گیا ہے،سول سوسائٹی گروپس کے اتحاد الا من کی رضاکار ایوی لین کاچھا اس حوالے سے بتارہی ہیں۔

ایوی لین”میں اس مظاہرے کی انتطامیہ میں شامل ہوں، میں بدانتطامی اور سرکاری فنڈز کے غلط استعمال پر اپنے غصے کا اظہار کرنا چاہتی ہوں”۔

میڈیا میں یہ اسکینڈل سامنے آیا تھا کہ پرییورٹی ڈیویلپمینٹ اسسٹینس فنڈ کے تین سو ملین ڈالرز کی خردبرد کی گئی ہے، حکومتی آڈٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ ٹیکس گزاروں کی صرف بیس فیصد رقم ہی حکومتی منصوبوں پر خرچ ہوئی، جبکہ باقی فنڈز فرضی این جی اوز اور گھوسٹ منصوبوں کیلئے مختص کرکے سیاست دانوں نے اپنی جیب میں ڈال لئے۔

اس احتجاج کی کال سوشل میڈیا پر دی گئی، جس پر انٹرنیٹ کے لاکھوں صارفین نے لبیک کہا،ان میں سے ایک کالاپن شہر کے جج مینولو بوروٹونل بھی ہیں۔

مانولو”میںاس بارے میں جان کر بہت مایوس ہوا ہوں، آخر منتخب ہونے کے بعد یہ لوگ کیا کررہے ہیں، قومی دولت کو لوٹنے والوں پر ہم کس طرح اعتماد کرسکتے ہیں کہ وہ عوامی بھلائی کیلئے کچھ کریں گے۔ لوگوں کے حقوق پر ڈاکہ مارا گیا ہے، ان کی زندگیوں کو بہتر بنانے کے مواقع چھین لئے گئے ہیں”۔

یہ احتجاج ملک بھر میں ہورہا ہے اور یہ صدر بینیگو اقینو سوئم کیلئے بہت بڑا دھچکہ ہے کیونکہ وہ کرپشن کیخلاف جنگ کے نعرے کے ساتھ اقتدار میں آئے تھے، اس احتجاج کو دیکھتے ہوئے صدر نے عوامی اشتعال میں کمی کیلئے سخت اقدامات کا اعلان کیا،انھوں نے اسکینڈل کی تحقیقات کا حکم دیتے ہوئے وعدہ کیا کہ تمام ملوث افراد کو قرار واقعی سزا دی جائے گی۔

بینگنو”میں نے محکمہ انصاف اور دیگر اداروں کو اسکینڈل کی تحقیقات کا عمل تیز کرنے کا حکم دیا ہے، تحقیقات سے ملزمان کیخلاف عدالتی ٹرائل تک ہر عمل تیز کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ لوٹی گئی دولت بھی بازیاب کرانے کا حکم دیا ہے”۔

تاہم سماجی کارکن ایویلین اس سے مطمئن نہیں۔

ایویلیس “کرپشن بیوروکریسی میں سرایت کرچکی ہے، آپ ان سب کو عدالتی کٹہرے میں اس وقت تک کھڑا نہیں کرسکتے، جب تک سرکاری ملازمین، سیاسی قیادت اور بیوروکریسی کے ذہنوں کو تبدیل نہیں کردیا جاتا۔ اس کے علاوہ عوامی شعور اجاگر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ آئندہ کوئی اس طرح کی حرکت نہ کرسکے”۔

احتجاجی مظاہرین نے وعدہ کیا ہے کہ اگر انصاف ہوتا نظر نہ آیا تو وہ پھر سڑکوں پر نکل آئیں گے۔ نیڈ دے گزمان ایک گروپ برادر ہوڈ کرسچن بزنس مین سے تعلق رکھتے ہیں۔

نیڈ”میں عوامی شعور اجاگر کرنے کی کوشش جاری رکھوں گا، متعدد افراد اس بات سے آگاہ نہیں کہ ان کے ادا کئے گئے ٹیکسوں سے ہی قومی خزانہ بھرا جاتا ہے”۔