Dangerous Low Number of Midwives in Burma – برمی حاملہ خواتین کے مسائل

برمی حکومت نے تسلیم کیا ہے کہ ملک کو تربیت یافتہ دائیوں کی بہت زیادہ ضرورت ہے، اس سلسلے میں بھرتی مہم شروع کی گئی ہے، اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

ما تھن تن نے اپنے بچے کو بغیر کسی دائی کی مدد کے جنم دیا۔

ما تھن”مڈواوزایک قریبی قصبے کاوا سے یہاں آتی ہیں”۔

تین ہزار افرادسین سین لاون گاں میں مقیم ہیں اور یہاں بچوں کی پیدائش میں مدد دینے والی خواتین دیگر علاقوں میں جاتی ہیں، چند برس قبل یہاں ایک سانحہ پیش آیا تھا، 61 سالہ نائٹ یے اس بارے میں بتارہی ہیں۔

نائٹ یے”ایک دائی قریبی گاں میں اپنا فرض ادا کررہی تھی، ہم اسکی مدد کررہے تھے، میں نے دوپہر کا کھانا کھایا تھا، جب حاملہ خاتون نے کہا کہ وہ بیت الخلائ جانا چاہتی تھیں اور پھر باہر چلی گئی، جب وہ واپس آئی تو اس کی حالت خراب ہوگئی”۔

نائٹ یے تربیت یافتہ دایہ نہیں مگر اکثر گاوں میں زچگی کے عمل میں مدد فراہم کرتی رہتی ہیں۔

نائٹ یے”نرس کی آمد میں تاخیر ہوگئی تھی اور حاملہ خاتون سے برداشت نہیں ہورہا تھا تو اس نے مجھے مدد کی درخواست کی، میری مدد سے اس کے ہاں بچی ہوئی، بدقسمتی سے وہ بچی مردہ تھی”۔

متعدد خاندان ہسپتال کے اخراجات کا بوجھ اٹھانے کی سکت نہیں رکھتے، اکیس سالہ اوو تھندر نوماہ کی بچی کی ماں ہیں۔

اوو”میں نے اپنے تمام زیورات فروخت کردیئے، مگر اس کے باوجود مجھے ستر ڈالرز ادھار لینا پڑے، اب تک میں صرف تیس ڈالرز ہی واپس کرسکی ہوں”۔

انتالیس سالہ شو اے ماپانچ ماہ کی حاملہ ہیں۔

شو”متعدد افراد مہنگے ہسپتالوں پر بات کرتے ہیں، یہ سب سن کر میں بہت پریشان ہوں، اسی لئے میں نے اپنے بچے کو گھر میں جنم دینے کا فیصلہ کیا ہے”۔

حکومت اپنے بجٹ کا صرف چار فیصد حصہ صحت کے شعبے پر خرچ کرتی ہے، طبی رضاکار ڈاکٹر منٹ میو اس مد میں فنڈز بڑھانے کی ضرورت پر زور دے رہے ہیں۔

میو منت”قدرتی وسائل اور ٹیکسوں سے حاصل ہونے والی آمدنی کا کتنا حصہ صحت کے شعبے پر خرچ ہوتا ہے؟ اس نظام کے تحت بھی بہتری ممکن ہے تاہم ہوسکتا ہے کہ کچھ وقت لگ جائے”۔

جب تک ایسا نہیں ہوتا خواتین جیسے آٹھ ماہ کی حاملہ اونگ اے اے اپنی زندگیاں خطرے میں ڈالتی رہیں گی۔

اونگ”میں نہیں چاہتی کہ ہماری دایہ کہیں اور چلی جائے، اگر وہ کہیں اور چلی گئی تو ہماری مدد کون کرے گا؟