نیپال میں تھیٹر کی صنعت تیزی سے فروغ پارہی ہے، دارالحکومت کھٹمنڈو میں پانچ جگہوں پر تھیٹر ڈراموں کا انعقاد ہوتا ہے، جو عوام میں بہت مقبول ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
بارہ نوجوان ایک بڑے ہال میں ریہرسل کررہے ہیں، ان نوجوانوں کو معروف تھیٹر ڈائریکٹر اشیش ملا نے اداکاری کی تربیت کیلئے منتخب کیا ہے۔
یہ تربیت کورس گزشتہ سال شروع ہوا تھا اور اب وہ چوتھے گروپ کو اداکاری کے رموز سیکھا رہے ہیں۔
اشیش”نیپال میں تھیٹر کلچر فروغ پارہا ہے مگر ہمیں پیشہ ور فنکاروں کی کمی کا سامنا ہے۔ یہ ایسی ورکشاپس یا تربیت گاہیں نہیں جہاں نوجوان اداکاری کی تربیت حاصل کرسکیں۔ ان کو زیادہ مواقع دستیاب نہیں، اسی کو دیکھتے ہوئے ہم نے یہ ورکشاپ شروع کی، تاکہ فنکاروں کی کمی پر قابو پایا جاسکے”۔
نیپالی تھیٹر کی تاریخ بہت پرانی ہے، ماضی میں یہاں بہت کم تھیٹر ہال تھے اور وہاں ایک وقت میں صرف پچاس افراد ہی ڈرامہ دیکھ پاتے تھے، مگر تین سال حالات میں تبدیلی آنا شروع ہوئی۔
اشیش” 2007ءمیں نیپالی بادشاہت کے خاتمے کے بعد لوگوں کی دلچسپی تھیٹر، فنون لطیفہ اور ادب میں بہت زیادہ بڑھ گئی ہے، ہمارے پاس تخلیقی سوچ رکھنے والے ڈرامہ رائٹر، ڈائریکٹرز اور اداکار موجود ہیں، یہ لوگ مختلف طریقہ جیسے ملٹی میڈیا کو اپنے کام کیلئے استعمال کررہے ہیں، تو میرے خیال میں یہ وہ مرکزی وجہ ہے جس کی وجہ سے ڈرامے مقبولیت حاصل کررہے ہیں”۔
آج زیادہ سے زیادہ نوجوان تھیٹرہالوں کا رخ کررہے ہیں۔
اس کھیل کا نام نراوان ہے جو ایک تھیٹر طالبعلم سروانام نے تیار کیا ہے۔
اس میں نیپالی سیاست کے خفیہ گوشوں پر روشنی ڈالی گئی ہے۔
ہال مکمل بھرا ہوا ہے، تیس سالہ اکاﺅنٹنٹ دھیرج راج سوبیدی ڈرامے سے لطف اندوز ہورہے ہیں۔
دھیرج”تفریح کیلئے میرا پہلا انتخاب تھیٹر ڈرامہ ہوتا ہے، کیونکہ ہم ان ڈراموں میں فطری اداکاری دیکھ پاتے ہیں، ہم ان اداکاروں کے جذبات کو سمجھ پاتے ہیں، ہم ڈائریکٹرز کو اپنی تجاویز دے سکتے ہیں اور اداکاروں سے بھی رابطہ کرسکتے ہیں، یہی وجہ ہے کہ مجھے ان ڈراموں سے محبت ہے”۔
چھتیس سالہ دیپک اچاریہ ایک اداکار ہیں، وہ اس شعبے میں بیس سال سے سرگرم ہیں اور آج کل ڈراموں میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔
دیپک”چند سال قبل ایک ماہ تک چلنے والے ڈرامے میں اس قدر ہجوم کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا تھا، مگر اب یہ معمول بنتا جارہا ہے، میرا خواب تعبیر پاچکا ہے۔
ہال میں واپس چلتے ہیں جہاں طالبعلموں کا ایک گروپ ریہرسل میں مصروف ہے۔
انیس سالہ استھا ایم ایم انگریزی پڑھاتی ہیں اور وہ ایک نئے ڈرامے میں ماں کے کردار کیلئے ریہرسل کررہی ہیں۔وہ اب پڑھانے کی بجائے اداکاری کے میدان میں قدم رکھنا چاہتی ہیں۔
استھا ایم ایم “سب سے پہلے میں تو اچھی اداکارہ بننا چاہتی ہوں اور پھر میں ایک ڈائریکٹر اور اسکرپٹ رائٹر بننا پسندکروں گی، مجھے توقع ہے کہ اس ورکشاپ سے مجھے اعتماد حاصل کرنے میں مدد ملے گی”۔
اشیش ملانیپالی تھیٹر کے روشن مستقبل کیلئے پرامید ہیں۔
اشیش”مجھے توقع ہے کہ ہمارے ڈراموں کو اچھے ناظرین ملتے رہیں گے، اب ہم ان ڈراموں سے منافع حاصل کرنے کے حوالے سے پراعتماد ہے اور توقع ہے کہ اداکاروں کی تنخواہیں بھی بڑھے گی”۔