Philippines Campaign Urges Politicians to Put Children First – فلپائنی انتخابات

فلپائن میں رواں ماہ وسط مدتی انتخابات کا دنگل سجنے والا ہے، تاہم ناقدین کا کہنا ہے کہ بچوں کے حقوق کا معاملہ سیاسی جماعتوں کے ایجنڈے سے غائب ہے۔ چوں کے حقوق کیلئے کام کرنے والے اداروں نے اس حوالے سے ایک مہم چلائی۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

اسٹیج پر نوجوان فنکار سپر ہیروز کے کاسٹیوم پہنے بچوں کے مسائل پر گیت گا رہے ہیں۔

اس کنسرٹ میں لگ بھگ ایک ہزار بچے شریک ہیں، یہ شو بچوں کے فلاح کیلئے کام کرنے والے تیس اداروں کے اتحادباٹا مونا نے منعقد کرایا ہے، جس کا مقصد بچوں کے مسائل کو انتخابات میں مرکز توجہ بنانا ہے۔ سولہ سالہ گیرلین تپڑے ایک گروپ چلڈرن ٹالک ٹو چلڈرن سے تعلق رکھتی ہیں، وہ اس وقت اسٹیج پر نوجوانوں کو درپیش مسائل کی فہرست سنارہی ہیں۔

گیریلے”اسکولوں میں جسمانی سزائیں، مزدور بچے، کم خوراکی، غربت، بچوں کو مشاورتی عمل میں شریک نہ کرنا، اسکول چھوڑ کر جانے والے بچوں کی شرح میں اضافہ، خطرناک ماحول، قدرتی آفات، مسلح جھڑپیں، بچوں کی ٹریفکنگ، ناقص تعلیمی نظام اور بچوں کی معذوری وغیرہ اہم مسائل ہیں”۔

عالمی ادارے سیو دی چلڈرن کے مطابق فلپائن کی نصف کے قریب آبادی بچوں پر مشتمل ہے، تاہم انتخابی امیدواروں نے انہیں اپنے منشور میں شامل ہی نہین کیا ہے۔ اس وقت منیلا میں 36 سیاستدانوں کے درمیان مقابلہ ہے، جنھیں اس ایونٹ میں مدعو بھی کیا گیا، تاہم صرف نو نے یہاں آنے کی زحمت کی۔ رووینہ کو ڈیرو
سیو دی چلڈرن کی عہدیدار ہیں۔

رووینا”یہ تو صرف آغاز ہے، ماضی کے انتخابات میں بچوں کے مسائل پر بہت کم بات ہوتی تھی، انتخابی امیدوار بچوں کو مہم چلانے کے لئے اپنے پوسٹرز پر تو استعمال کرتے تھے، تاہم وہ ان کے لئے کچھ کرنے کی بجائے صرف لفظی وعدوں تک ہی محدود رہتے تھے”۔

اس کنسرٹ میں موجود بیشتر بچے ووٹ ڈالنے کے اہل نہیں، تاہم گیرلین ان بچوں کا پیغام ان کے والدین تک پہنچانے کا وعدہ کررہی ہیں۔

گیرلین”میں نے اپنے والدین کو کہا ہے کہ وہ ایسے امیدواروں کو منتخب کرے جو ہمارے پلیٹ فارم سے کھڑے ہو، مجھے امید ہے کہ بچوں کے لئے مخلص یہ سیاستدان خالی وعدے نہیں کریں گے، جب میں چھوٹی تھی تو میں ٹی وی پر ان سیاستدانوں کو متعدد وعدے کرتے ہوئے دیکھتی تھی مگر کچھ بھی تبدیل نہیں ہوتا تھا۔ اب بھی بہت زیادہ بجے غریب ہیں، وہ اسکول نہیں جاسکتے، یہی وجہ ہے کہ میں سیاستدانوں پر اعتماد نہیں کرسکتی”۔

رووینا کورڈیرو نے سیاستدانوں پر زور دیا کہ وہ بچوں کی فلاح و بہبود کو اپنے ایجنڈے میں شامل کریں۔

رووینا”ہمیں توقع ہے کہ انتخابات کے بعد آنے والے مہینوں یا برسوں میں ہم ان افراد سے رابطہ کرنے میں کامیاب ہوسکیں گے جو انتخابات میں کامیابی حاصل کریں گے، جبکہ ہم ان کی کارکردگی کا ریکارڈ بھی مرتب کریں گے، اور دیکھیں گے انھوں نے اپنے پروگرامز اور ایجنڈے میں بچوں کے مسائل کو کس حد تک شامل کیا، میرے خیال میں اس سے متعدد بچوں کے حالات بدلیں گے”۔

کنسرٹ کے بعد بیس سالہ جیسیکا اورایا کا کہنا تھا کہ وہ اب اپنے پہلے انتخابات کیلئے تیار ہے، وہ ان امیدواروں کی حمایت کریں گی جو کرپٹ نہیں ہوں گے اور بچوں کیلئے اچھے منصوبے بنائیں گے۔

جیسیکا”میں ان کے خاندانی پس منظر کی تحقیق کروں گی اور جاننے کی کوشش کروں گی کہ ماضی میں انھوں نے بچوں کیلئے کیا کچھ کیا۔ تو اب یہ امیدواروں کے اوپر ہے کہ وہ ہماری بات سنتے ہیں یا نہیں۔ اگر وہ منتخب ہونے کے بعد بچوں کے حوالے سے ذمہ داری نہیں دکھاتے، تو ہماری نئی نسل کا کیا مستقبل ہوگا؟”