(Philippine Running Priest “Runs” With Post Workers) فلپائنی پادری پوسٹ ملازمین کے ساتھ
فلپائن میں انسانی حقوق کے مختلف معاملات پر ملک بھر میں میراتھن دوڑ لگانے والے پادری Robert Reyes آج کل پوسٹل ورکرز کی حمایت کررہے ہیں۔ ان ورکرز کے لئے انھوں نے آٹھ مئی کو ایک دوڑ کاآغاز کیا ہے۔
39 سالہ Joseline Guio پوسٹل ورکرز اور ان کے خاندانوں کے ساتھ یہاں پادری Robert Reyes کی میراتھن کی حمایت کیلئے موجود ہیں۔ جوزلین کو رواں برس محکمہ پوسٹل سروسز نے ملازمت سے برطرف کردیا تھا۔سترہ سال تک اس ادارے کے ساتھ کام کرنے والی جوزلین بغیر کسی نوٹس پر برطرف کئے جانے پر مشتعل ہیں۔
جوزلین(female) “میں نے سترہ برس تک اس ادارے میں کا م کیا، میرا خیال تھا کہ میں اپنا کام اچھے طریقے سے کررہی ہوں، یہاں تک کہ اگر کبھی میں چھٹی کرتی تھی تو بھی میڈیکل سرٹیفکیٹ جمع کراتی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ مجھ سمیت میرے ساتھیوں نے اپنے حقوق کے تحفظ کیلئے اس احتجاج میں شرکت کی ہے۔ پوسٹ ماسٹر جنرل بھی ایک ماں ہیں، انہیں اس طرح کے خودغرض روئیے کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہئے”۔
پچاس سے زائد موجودہ اور سابقہ ملازمین اس مارچ میں شرکت کے لئے صدر Benigno Aquino کے دفتر کے باہر جمع ہوئے ہیں۔
ان ملازمین کی یونین اپنی بحالی کیلئے پادری Robert Reyes سے بھی مدد کی خواہاں ہے، Robert Reyes کو میراتھن پادری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں کے دوران انھوں نے ملک بھر میں دوڑ کر بدعنوانی، انسانی حقوق اور ماحولیات کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کیا ہے۔ان کا کہنا ہے کہ حکومت کی جانب سے سرکاری ملازمتوں میں تقرریاں سیاست زدہ ہوگئی ہیں۔
رابرٹ(male) “موجودہ پوسٹ ماسٹر جنرل نے جب سے اپنا عہدہ سنبھالا ہے متعدد افراد کو ان کی ملازمتوں سے فارغ کیا جاچکا ہے۔ پوسٹ ماسٹر جنرل کا تعلق Bulacan سے ہے اس لئے اب اس علاقے کے لوگوں کو پرانے عہدیداروں کی جگہ بھرتی کیا جارہا ہے، یہ غیر منصفانہ عمل ہے۔ حکومت سرکاری اداروں کو سیاسی مفاد کیلئے استعمال کررہی ہے، اور وہ اپنے سیاسی اتحادیوں کو اہم عہدوں پر تعینات کررہی ہے، جسکی مثال پوسٹ ماسٹر جنرل ہیں۔ صدر کو تقرریوں کا کنٹرول اپنے پاس رکھنا چاہئے، مگر لگتا ہے کہ حکومت پر ان کا کنٹرول ختم ہوگیا ہے”۔
پادری Reyes کا کہنا ہے کہ پوسٹل سروسز ملک کیلئے بہت اہم ہیں، خصوصاً دیہی علاقوں کے رہائشیوں کیلئے، جنھیں انٹرنیٹ تک رسائی حاصل نہیں۔
رابرٹ(male) “ڈاکیے کو فلپائنی معاشرے میں طویل عرصے سے ایک مثبت علامت کے طور پر دیکھا جاتا ہے، کیونکہ ہم میں سے بیشتر افراد بچپن سے ان افراد کو اپنے گھروں میں خط ڈالتے ہوئے دیکھ رہے ہیں۔ اب اس محکمے کو انٹرنیٹ اور دیگر جدید مواصلاتی رابطوں سے خطرہ لاحق ہے، مگر اب بھی ہمارے ملک میں بیشتر افراد انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں”۔
محکمہ پوسٹل سروسز نے برطرفیوں کو جائز قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے محکمے کی کارکردگی زیادہ موثر اور بہتر ہو جائے گی۔ اس وقت فلپائنی حکومت اور سنگاپور کی ایک ہوٹل کمپنی کے درمیان پوسٹ آفسز کی عمارات ہوٹلوں میں تبدیل کرنے کی بات چل رہی ہے۔پادری Ryes کا کہنا ہے کہ اس پیشکش سے ایک بری نظیر قائم ہوجائے گی۔
رابرٹ(male) “کیا آپ سوچ سکتے ہیں کہ پوسٹ آفس ایک ہوٹل میں تبدیل ہوجائے، ان دفاتر کی تزئین نو ہوگی، انہیں خوبصورت بنایا جائے اور انہیں سہولیات سے لیس کیا جائے گا۔ آخر حکومت اپنی رقم ان دفاتر کی حقیقی خوبصورتی بحال کرنے میں کیوں خرچ نہیں کرتی؟ یہ دفاتر ہمارے ملک کی تاریخی اور ثقافتی پہچان ہیں، حکومت کی جانب سے اس پبلک پرائیویٹ شراکت داری سے ہمارا ملک نجی کمپنیوں کے ہاتھوں میں چلا جائے گا۔ عوام کو فراہم کی جانے والی بنیادی خدمات کا کنٹرول بڑی کمپنیوں کے ہاتھوں میں ہوگا”۔
مظاہرین پوسٹ ماسٹر جنرل Jospehine dela Cruz سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کررہے ہیں۔
Jospehine dela Cruz اور ان کے دفتر کے دیگر اراکین پر کرپشن اور سرکاری فنڈز سے بیرون ملک کے دورے کرنے کے الزامات ہیں۔ انجنئیر Mike Lalanto اسٹنٹ پوسٹ ماسٹر جنرل ہیں، انکا کہنا ہے کہ ان الزامات کے شواہد نہیں مل سکے ہیں۔
male) Mike Lalanto) “تمام حکومتی ادارے ہمیشہ اپنے محکموں میں شفافیت برقرار رکھنے کیلئے کام کرتے ہیں۔ ناقص کارکردگی کا مظاہرہ کرنے والے افراد نکال دیئے جاتے ہیں، جبکہ اچھے کارکنوں کو برقرار رکھا جاتا ہے، جبکہ بہترین کو آگے ترقی ملتی ہے۔ ہمارے ادارے سے نکالے جانے والے افراد کنٹریکٹ پر کام کررہے تھے۔ قوانین کے مطابق اگر کسی شخص کی ضرورت نہ ہو تو انتظامیہ کو اسے نکالنے کا اختیار حاصل ہے، یہ بات واضح رہنی چاہئے کہ جن لوگوں کو نکالا گیا ہے وہ مستقل ملازمین نہیں تھے”۔
Tirso Paglicawan Junior پوسٹ ورکرز یونین کے صدر ہیں۔
male) Tirso Paglicawan Junior) “میں نے محکمے میں کروڑوں روپوں کی بے قاعدگی کی نشاندہی کی ہے۔ انتظامیہ یہ رقم کہیں اور منتقل کرنا چاہتی تھی تاہم میں نے انکا ساتھ نہیں دیا، اس لئے مجھے برطرف کردیا گیا، جس کے خلاف میں نے سول سروس کمیشن میں اپیل کی ہے”۔
پادری Robert Reyes ورکرز کے ساتھ دعا کررہے ہیں، اس کے بعد ان سب افراد نے دوپہر کا کھانا کھایا۔ Joseline Guio کا کہنا ہے کہ انہیں توقع ہے کہ وہ اپنے مقصد میں کامیاب رہیں گی۔
female) Joseline Guio) “میں اپنے بچوں کو کس طرح اسکول بھیج سکوں گی؟ میرا سب سے چھوٹا بچہ دو سال کا ہے۔ ہم کرائے کے گھر میں رہتے ہیں، ملازمت ختم ہوجانے کے بعد ہماری زندگی بہت مشکل ہوگئی ہے۔ مجھے توقع ہے کہ صدر ہماری مدد کریں گے”۔