Philippine Politics – It’s a Family Affair – فلپائنی سیاست میں خاندانوں کی اجارہ داری

فلپائن میں آئندہ ماہ وسط مدتی انتخابات ہونے والے ہیں، جس میں بلدیاتی کونسلرز کو منتخب کیا جائے گا۔ اس الیکشن میں بیشتر ایسے افراد حصہ لے رہے ہیں، جن کا خاندان سیاست میں داخل ہوچکا ہے، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

فلپائن میں سیاسی موسم عروج پر ہے، ٹی وی پر انتخابی اشتہارات دیکھتے ہوئے آپ کو کئی نئی اور پرانے چہرے نظر آئیں گے۔37 سالہ لویس مرکیڈا،پوئرٹو پرنسیسا شہر سے نائب مئیر کیلئے انتخاب لڑ رہے ہیں، انھوں نے یوتھ فیڈریشن کے رہنماءسے سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور کئی برس سے اس میدان سے وابستہ ہیں۔

مرچنڈا”نوجوانوں کی تنظیم سنگو نینگ کاباتان کے ذریعے 1992ءمیں میرا سیاسی سفر شروع ہوا، جس کے بعد سے میری نجی زندگی ختم ہوکر رہ گئی، میں اس تنظیم کا دس برس تک چیئرمین رہا، جبکہ 2007ءسے ابھی تک میں اپنے شہرپوئرٹوپرنسیسا کے بلدیاتی ادارے کا رکن ہوں، اب میرا پورا وقت عوام میں ہی گزرتا ہے”۔

انکا کوئی رشتے دار سیاست میں نہیں اور نہ ہی ان کے پاس اپنی مہم چلانے کیلئے فنڈز موجود ہیں، انکا مقابلہ مئیر کے بھانجے سے ہے، تاہم وہ پراعتماد ہے۔

لویس”نوجوان ہونے کا بہت فائدہ ہوتا ہے، یعنی مہم کے دوران آپ بہت دیر تک اپنی انتخابی مہم جاری رکھ سکتے ہیں، آپ نئے خیالات سامنے لاسکتے ہیں، اور جسمانی طور پر تو مضبوط ہوتے ہی ہیں۔ ایک شخص کیلئے ایک رہنماءبننے کے لئے کچھ صلاحیتیں درکار ہوتی ہیں، ان میں سے ایک مخلص ہونا بھی ہے۔ اس کے علاوہ عوامی خدمت کی سچی خواہش اور اپنی کارکردگی کیلئے جسمانی طور پر زیادہ مضبوط ہونا بھی اس میں شامل ہے”۔

منیلا کے ایشیئن انسٹیٹیوٹ آف منیجمینٹ کے ایک حالیہ سروے کے مطابق فلپائن میں سیاسی شہنشاہیت قائم ہورہی ہے، کچھ سیاسی خاندان اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط رکھ کر قومی اور مقامی پوزیشنز پر اجارہ داری قائم کئے ہوئے ہیں۔ اس امر کے پیش نظر اثررسوخ، طاقت، دولت اور دیگر چیزوں سے محروم نوجوانوں کیلئے سیاست میں زیادہ مواقع دستیاب نہیں۔ گیرتھی مایو اندا ایک وکیل اورپالاوان این جی او نیٹ ورک کی عہدیدار ہیں۔

مایو”اس وقت نوجوانوں کے پاس کوئی مواقع دستیاب نہیں، ہوسکتا ہے کہ سننے میں یہ مایوس کن لگے مگر میں فلپائن اور پالاوان کی روایتی سیاست پر عملی سوچ کا اظہار کررہی ہوں۔ میرے خیال میں عام لوگوں کو اپنے حلقہ انتخاب یا اثر رسوخ کو بڑھانا چاہئے،مثال کے طور پر اگر میں بیس سال کی ہوں اور میں بارہ برس بعد گورنر یا مئیر کا انتخاب لڑنا چاہوں، تو میرے خیال میں ہمیں اس کی بنیاد ابھی سے رکھ دینی چاہئے”۔

اس حکمت عملی پر انتالیس سالہ ایڈلبرٹو میگ پائیو عمل کررہے ہیں۔انھوں نے ایک ماحولیاتی این جی او کیلئے کام کرتے ہوئے اپنا عوامی اثررسوخ قائم کیا۔

میگ پائیو”این جی او کیلئے کام کرکے میںنے جو چیز سیکھی وہ یہ تھی کہ کس طرح عوام کو قائل کیا جائے کہ وہ گورننس کے شراکت دار بنے، کیونکہ ہم سب ہی گورننس اور ترقیاتی کاموں کے حصے دار ہیں۔ ہم اپنی برادریوں کو کردار ادا کرنے کے لئے رہنمائی فراہم کررہے ہیں، یہ صرف سیاست کی بات نہیں، میں ان برادریوں کو علاقے کو ترقی دینے کے لئے بھی استعمال کروں گا”۔

تاہم وہ اعتراف کرتے ہیں کہ آزادانہ انتخابی مہم چلانا زیادہ مشکل اور مہنگا کام ہے۔

ایڈیلبرٹو”میرا نہیں خیال کہ میں ایک روایتی سیاستدان ہوں۔ میں سیاست میں نیا ہوں، مگر میں اپنے پورے خلوص کے ساتھ عوام کی خدمت کرنا چاہتا ہوں، کیونکہ میں نے این جی او میں کام کرکے یہی سیکھا ہے۔ اگر میرے پاس ترقیاتی منصوبوں کیلئے کم بجٹ بھی ہوا تو، تو میں اپنے پورے دل سے اس پر کام کرکے اس بات کو یقینی بناﺅں گا کہ یہ منصوبے چھوٹی برادریوں کیلئے فائدہ مند ثابت ہوں”۔

تاہم متعدد نوجوان امیدوار ایسے ہیں جنھیں امید ہے کہ ان کے خاندان کا اقتدار انہیں ووٹ دلائے گا،میتھو میندوذا بھی ایسے ہی ایک امیدوار ہیں، جو پالاوان کے پہلے گورنر کے پوتے ہیں۔

میتھو”انتخابات کے دوران ووٹرز مجھے اچھا تسلیم کریں گے، وہ کہیں گے کہ اس کا والد اور دادا یا دیگر رشتے داروں نے سیاست میں اچھا کام کیا ہے۔ اگر آپ کا خاندان سیاست کے میدان میں رہ کر کچھ اچھے کام کریں تو اس سے آپ کو اضافی پوائنٹس مل جاتے ہیں”۔

میتھو تعلیم سے فارغ ہوکر ہی سیاسی میدان میں شامل ہونا چاہتے تھے، مگر پھر وہ ماڈل اور اداکاری کرنے لگے۔

میتھو”اگر میرا تعلق اس شہر کے ایک معروف خاندان سے نہ ہوتا تو بھی میں سیاست میں

ایک اداکار کی حیثیت سے کافی کامیاب ثابت ہوتا، میرے خیال میں لوگ اس صورت میں بھی مجھ پر اعتماد کرتے، میرے خیال میں ہر اس شخص کے پاس سیاست میں آگے بڑھنے کا موقع ہے جو استقامت کا مظاہرہ کرے، اگر آپ اپنے خاندان کے نام اور عزت کا خیال رکھ کر آگے بڑھے تو آپ کو معلوم ہوتا ہے کہ عوام کیساتھ معاملات کیسے آگے بڑھانے ہیں”۔
تاہم وکیل گیرتھو مایو اینڈا کی سوچ مختلف ہے، انھوں نے سیاسی اجارہ داری کو بری جمہوریت سے تشبیہہ دی ہے۔

گیرتھو مایو اینڈا ” آپ مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے افراد کو مقامی برادریوں کی خدمت ووٹ کے ذریعے کرتے دیکھنا چاہتے ہیں، میرے خیال اگر سیاسی اجارہ داری برقرار رہی تو آئندہ چند برسوں میں یہ رجحان مزید مضبوط بن جائے گا”۔