ایک تھائی عدالت نے صوبے سا مول ساکھُن کی انتظامیہ کو کوئلے کی کان کنی کا کام کرنے والی کمپنی کے آپریشنز ختم کرانے کا حکم دیا، تاکہ ماحولیاتی تباہی کو روکا جاسکے۔ مقامی افراد نے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے، تاہم اس کامیابی کیلئے انھوں نے کافی بھاری قیمت بھی چکائی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں کی آج کی رپورٹ
صوبہ سامول ساکھن میں ٹرک ڈرائیور جمع ہوکر اپنے دوستوں اور حامیوں کو بلا رہے ہیں، تاکہ ماحولیاتی رضاکار تھون گینک ساویکچندا کے قتل کو ایک برس مکمل ہونے پر تقریب کا انعقاد کیا جاسکے۔
تھونگواک کا گھر اس گاﺅں کی مرکزی شاہراہ پر واقع ہے، اس کی اہلیہ جومکوان ساویکچاند اپنے شوہر کی تصویر اٹھائے اس جگہ بیٹھی ہے جہاں وہ قتل ہوا۔
ساویکچاند”میں اس وقت گھر پر تھی جب میں نے فائرنگ یا پٹاخوں کی آواز سنی، مجھے لگ رہا تھا کہ یہ گولیاں چل رہی ہیں، اس لئے میں بھاگ کر باہر نکلی، میں نے اپنی والدہ اور بہن کو خوفزدہ دیکھا اور مجھے لگا کہ کسی کو گولی ماری گئی ہے”۔
گھر کے باہر اس نے دیکھا کہ دو حملہ مسلح حملہ آور نے اس کے شوہر کو گولیاں مار دی ہے،تھونگوا ک اس گاﺅں میں کوئلہ کمپنی ٹیکنیک ٹیم کی جانب سے ماحولیات کو نقصان پہنچانے پر انتہائی دلیری سے تحریک کی قیادت کررہا تھا۔
جومکوان”کوئلے کی کان کنی کے باعث لوگ بری طرح متاثر ہوئے اور یہ علاقہ آلودگی اور دیگر مسائل کا شکار ہوگیا۔ یہاں سانس لینا مشکل ہوگیا اور زرعی نظام بھی متاثرا ہوا ہے، یہی وجہ ہے کہ مقامی برادری نے اکھٹے ہوکر اس کے خلاف احتجاج کیا”۔
جومکوان کا کہنا ہے کہ میرے شوہر کو ہر وقت خطرات کا سامنا رہتا ہے۔
جومکوان”میرے شوہر کو کئی ماہ سے قتل کئے جانے کی دھمکیاں مل رہی تھیں، ہمارے رشتے داروں کو بھی دھمکیاں دی جارہی تھیں، ان دھمکیوں میں ہمارے خاندان کو لوگوں کو اغوا کرنے یا ان کے سروں میں گولیاں وغیرہ قابل ذکر ہیں، تاہم ہمیں براہ راست فون کرکے دھمکیاں نہیں دی جارہی تھیں بلکہ ہمارے رشتے داروں سے ہمیں اس بارے میں معلوم ہورہا تھا”۔
ہیومین رائٹس واچ کے مطابق تھومکوان ان بیس رضاکاروں میں سے ایک ہے جنھیں 2001ءکے بعد سے اب تک قتل کیا جاچکا ہے۔ حال ہی میں ایک ماحولیاتی رضاکار پارا جاب ناو اوپاس کو قتل کیا گیا، ماحولیاتی وکیل ساریسوان جنیااس قتل و غارت کا ذمہ داری کاروباری و سیاسی مفادات کو قرار دیتے ہیں۔
جنیا”جب کاروباری شخصیات اور سیاست دان اکھٹے ہوجائیں تو پھر عوامی مفاد ان کی نظر میں اہمیت کھو دیتا ہے، اور پھر جو ان کی بات ماننے سے انکار کردے وہ شدید خطرے کی زد میں آجاتا ہے۔ گزشتہ بارہ سال کے اعدادوشمار کے مطابق ماحولیاتی بہتری کیلئے کام کرنے والے 23 افراد کو قتل کیا جاچکا ہے”۔
انسانی حقوق کے حوالے سے معروف وکیل سومچائی ہولاور کے مطابق ان رضاکاروں کو ترقی کی راہ میں رکاوٹ کی حیثیت سے دیکھا جاتا ہے۔
سومچائی”حکومت تھائی لینڈ میں انسانی حقوق کے دفاع پر بہت کم توجہ دیتی ہے، اسی طرح رضاکاروں اور ماحولیاتی ورکرز کو یہاں مشکلیں پیدا کرنے والا سمجھا جاتا تھا، جو ترقیاتی منصوبوں کیخلاف احتجاج کرتا ہے”۔
تھائی لینڈ میں کمزور عدالتی نظام کے باعث اکثر قتل کے پشت پناہ سزاﺅں سے بچ نکلتے ہیں، پاسک پونگپیچت سیاسی تجزیہ کار ہیں۔
پاسک”یہ بہت کم ہوتا ہے کہ کسی قاتل یا اس طرح کی سازشیں کرنے والے افراد کو مناسب سزا دی جائے، میرے خیال میں یہ سب ہمارے عدالتی طریقہ کار کی خامی ہے، ہمیں اپنے عدالتی نظام میں اصلاحات کرنی چاہئے”۔
تاہم ہیومین رائٹس واچ ایشیا ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹرفل روبرٹسن کا کہنا ہے کہ ان اصلاحات کا امکان جلد نظر نہیں آتا۔
فل”اس وقت بااثر گروپس اور حکومت میں شامل کرپٹ افراد ان قاتلوں کی پشت پناہی میں ملوث ہیں، یہ لوگ صورتحال سے آگاہ ہوتے ہیں اور یہ اپنے خلاف جدوجہد کرنے والوں کو انتقامی کارروائیوں کا نشانہ بناتے ہیں اور اس کا انجام ان کے قتل پر ہوتا ہے”۔