ملائیشیاءمیں چار لاکھ سے زائد بچوں کو گود لیا گیا ہے، مذہبی اور قانونی نظام کے تحت گود لینے کا عمل کافی طویل اور پیچیدہ ہوتا ہے، جس کے باعث متعدد والدین مایوس ہوجاتے ہیں اور کچھ بچے خرید لیتے ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ
بکتی ا نجونافطری نامی اس بچے کوفِن جمال نے گود لیا ہے۔
گن جمال”میرے خیال میں مجھے اس دنیا سے مزید اور کچھ نہیں چاہئےے، میں بہت خوش ہوں”۔
فِن جمال نے فیس بک پر پیغام کے ذریعے ایک بچے کو گود لینے کی خواہش کا اظہار کیا تھا، کیونکہ شادی کے کئی برس بعد بھی وہ ماں بننے میں ناکام رہی تھیں، جس کے بعد ایک شخص نے اس بچے کو گود لینے کی پیشکش کی اور بکتی ارجونا فتری کی پیدائش کے چند ہفتے بعد ہی اس حوالے سے متعلقہ کاغذی عمل مکمل کرلیا گیا۔
فِن”یہ کافی آسان ثابت ہوا، میں یہ بات کہہ کر خوشی محسوس کررہی ہوں کہ ملائیشیاءمیں کاغذی دستاویزات مکمل کرانے کا عمل کافی آسان ہے، بس آپ کو شفافیت کا مظاہرہ کرنا ہوگا اور کام ہوجائے گا”۔
یونیسیف کے تخمینے کے مطابق ملائیشیاءمیں چار لاکھ سے زائد بچوں کو گود لیا گیا ہے، جبکہ یہاں دو ہزار سے زائد یتیم خانے اور بچوں کیلئے دیگر مراکز بھی قائم ہیں۔
گوہ سیو لین خاندانی قوانین کی ماہر وکیل ہیں،انکا کہنا ہے کہ ایسی مائیں جو ایسی پوزیشن میں نہیں ہوتیں کہ پرورش کی ذمہ داریاں پوری کرسکیں وہ اپنے بچوں کو دیگر افراد کو دیدیتی ہیں۔
گوہ سیو”عام طور پر یہ وہ بن بیاہی لڑکیاں ہوتی ہیں، جو خاندانی منصوبہ بندی سے آگاہ نہیں ہوتیں، جب وہ بچے کی ماں بن جاتیں تو معاشرے میں ذلت سے بچنے کیلئے وہ اپنے بچے سے دستبردار ہونے پر مجبور ہوجاتی ہیں۔ اگر ان ماﺅں کو معاشرے اور اپنے گھروں سے تعاون ملیں تو وہ کبھی اپنے بچوں کو نہیں چھوڑیں گی”۔
الیےا لم عبداللہ ایک این جی اورفن کیئر کی شریک بانی ہیں۔
عبداللہ”اس وقت ہمارے پاس تین ہزار جوڑے ویٹنگ لسٹ میں موجود ہیں، جن میں سے صرف چھ سو کے انٹرویوز ہی مکمل ہوسکے ہیں”۔
تاہم اگر اتنے زیادہ والدین بچوں کے خواہشمند ہیں تو پھر اتنی تعداد میں بچے یتیم خانوں میں کیوں موجود ہیں؟ ایلیا لم عبداللہ کے مطابق اس کی وجہ سرخ فیتہ ہے۔
لم”یتیم خانہ کا آغاز کرنے سے قبل ہمیں معلوم تھا کہ ایک جوڑے کو کسی بچے کو متعلقہ وزارت سے گود لینے میں کم از کم دو سال لگ جاتے ہیں، اور لوگ اتنا طویل انتظار کرنا پسند نہیں کرتے”۔
گو سیو لِن کا کہنا ہے کہ کوئی بھی شخص بھی طویل طریقہ کار کو برداشت نہیں کرسکتا۔
گوہ سیو”اگر بچے کے والدین موجود ہیں، تو باہمی رضامندی سے کام جلدی ہوجاتا ہے، تاہم اگر والدین موجود نہ ہوں یا ذہنی طور پر معذور ہوں تو پھر گود لینے کیلئے آپ کو عدالت سے رجوع کرنا پڑتا ہے”۔
یتیم خانے جیسے لائٹ ہاوس چلڈرن ویلفیئر ایسوسی ایشن ایسے بچوں کو گود نہیں دیتے جن کے والدین موجود ہوں جیسینٹا سٹیون اس یتیم خانے کی ڈائریکٹر ہیں۔
سٹیون”یہ سب بچے غریب گھرانوں سے آتے ہیں، ان میں سے کچھ تو جسمانی اور جنسی طور پر تشدد کا نشانہ بھی بن جاتے ہیں”۔
اگرچہ ان بچوں کو گود نہیں لیا جاسکتا تاہم جیسینٹا کا کہنا ہے کہ وہ لوگوں کو اس بارے میں پوچھنے سے نہیں روک سکتیں۔
سٹیون”لوگ یہاں آکر ہم سے پوچھتے ہیں کہ کیا آپ کے پاس دس سے بارہ سال کی عمر کا کوئی بچہ ہے جسے گود لیا جاسکے؟ جس پر میں پوچھتی ہوں کہ وہ ایسا کیوں کررہے ہیں؟ تو وہ کہتے ہیں چونکہ وہ بوڑھے ہورے ہیں تو انہیں کسی دیکھ بھال کرنے والے کی ضرورت ہے، جس پر میں کہتی ہوں کہ کسی کو گود لینے کیلئے یہ وجہ کافی نہیں”۔
سیو لِن اورایلیاکے خیال میں گود لینے کے عمل میں تیزی لاکر اس مسئلے پر قابو پانے میں مدد مل سکتی ہے۔
ایلیا”ہمیں گود لینے کے قوانین کا جائزہ لیکر اس عمل کو آسان بنانا چاہئے۔ ہمیں مزید پبلسٹی کی ضرورت ہے، اور ہمیں لگتا ہے کہ حکومت کو خود کہنا چاہئے کہ یہ بچے ان جگہوں پر موجود ہیں اور وہاں سے انہیں گود لیا جاسکتا ہے”۔
فن کیلئے اپنے بچے کے والدین کی شناخت سے عدم واقفیت کوئی مسئلہ نہیں، اس کیلئے اتنا کافی ہے کہ وہ اپنے بچے کیلئے مطلوبہ دستاویزات حاصل کرچکی ہے۔تاہم اپنے بچے کو شناخت دینے کیلئے وہ اس کے حقیقی والدین کو بھی اپنی زندگی کا حصہ بنانا چاہتی ہے۔
