The Rise of Philippine’s Middle Class – فلپائنی متوسط طبقہ

رواں برس کی پہلی سہ ماہی میں فلپائنی معیشت کی شرح نمو میں آٹھ فیصد اضافہ دیکھا گیا، جس کی وجہ ملک میں متوسط طبقے کی جانب سے اشیائے ضروریہ پر دل کھول کر خرچ کرنا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں کی رپورٹ

ہر سال دس لاکھ سے زائد سیاح پوئرٹو پرنکسا نامی شہر میں آتے ہیں، پہلے یہاں آنے والے زیادہ تر غیرملکی ہوتے تھے مگر حالیہ برسوں کے دوران صورتحال میں تبدیلی آئی ہے۔ ایک ہوٹل کے مالک روئل آلمونٹ کے مطابق کاروبار اچھا چل رہا ہے۔

روئل”میرے زیادہ تر مہمان اب غیرملکی نہیں بلکہ مقامی افراد ہوتے ہیں، جو مختلف کمپنیوں کے عہدیدار یا تفریح کیلئے یہاں آتے ہیں”۔

نیئل گووارینو تین برس سے گائیڈ کا کام کررہے ہیں، ان کے بقول مقامی سیاح بس دل کھول کر پیسہ خرچ کرنا چاہتے ہیں۔

نیئل”اب تک جو سب سے بڑی ٹپ مجھے ملی وہ کسی غیرملکی نہیں بلکہ فلپائنی شخص سے ہی ملی۔ مقامی افراد بہت سخی دل ہوتے ہیں، جب وہ آپ کو پیسے نہیں دیتے تو وہ کچھ اور جیسے ٹی شرٹ یا یہاں سے لی گئی چیزوں میں سے کچھ دیدیتے ہیں”۔

فلپائن کو دنیا میں کال سینٹرز کا دارالحکومت سمجھا جاتا تھا اور یہی وجہ ہے کہ نوجوان اچھا کما رہے ہیں اور وہ اسے تفریح کیلئے خرچ بھی کرنا چاہتے ہیں۔

نیئل”یہ نوجوان برانڈز کے دیوانے ہیں، یہ برانڈڈ کپڑے اور جوتے پہنتے ہیں، نت نئی ڈیوائسز استعمال کرتے ہیں، مہنگے سے مہنگا کیمرہ، اسمارٹ فون اور ٹیبلیٹ ان کے سامان میں موجود ہوتا ہے، ان کے خیال میں سفر کیلئے یہ چیزیں لازمی ہیں”۔

ہیلین دونیسا کیبالو ایک سرکاری ملازم کی بیٹی ہیں اور انھوں نے اپنی اکاﺅنٹنگ کمپنی قائم کرنے سے پہلے بینک منیجر کی حیثیت سے کام کیا۔

ہیلین”پہلے میرے والدین کا خیال تھا کہ پیسے کمانے کا مقصد ہمیں اسکول بھیجنا اور اچھی زندگی کا موقع فراہم کرنا تھا۔ سفر کا خیال تو ان کے ذہن میں کبھی آتا ہی نہیں تھا مگر اب سال میں کم از کم ایک بار ہم اپنے والدین کے ہمراہ تفریحی دورے پر ضرور نکلتے ہیں”۔

ہیلن کے خیال میں اسکی زندگی اسکے والدین سے زیادہ بہتر ہے۔

ہیلن”میں اکثر اپنی بیٹی کے ہمراہ شاپنگ سینٹر جاتی ہوں، میری والدہ، میری کزن اور دیگر لوگ بھی ہمراہ ہوتے ہیں، میں ان لوگوں کو اکثر فلم دکھانے لے جاتی ہوں یا تھوڑی بہت شاپنگ کراتی ہوں”۔

تاہم اس معاشی ترقی سے ہر ایک مستفید نہیں ہورہا، ایشیائی ترقیاتی بینک کے مطابق نئی ملازمتوں کے مواقعوں کے حوالے سے صورتحال بہتر نہیں اور بیروزگاری کی شرح ساڑھے سات فیصد سے تجاوز کرچکی ہے۔ سماجی کارکن جین ٹمبنکیا اربانک کا کہنا ہے کہ کرپشن دولت کی غیرمنصفانہ تقسیم کی سب سے بڑی وجہ ہے۔

جین”میرے خیال میں ہمیں اس کرپشن کی لعنت سے نجات حاصل کرنا ہوگی، کیونکہ بیشتر افراد کا سیاست میں جانے کا مقصد عوام کی خدمت نہیں بلکہ قومی خزانے کو لوٹنا ہوتا ہے۔ میرے خیال میں اگر اس حوالے سے کچھ کیا جائے تو حکومتی کرپشن کی شرح میں کمی آسکتی ہے”۔

حال ہی میں پچیس کروڑ ڈالرز کے ترقیاتی فنڈ کے حوالے سے کرپشن کی خبریں سامنے آئی ہیں، یہ فنڈ غریب افراد کیلئے قائم کیا گیا تھا۔

چالیس سالہ مچھلی فروش فرینسسکا اونیپاکو اس فنڈ سے مستفید ہونا چاہئے تھا۔

اونیپا”کئی بار ہمیں لگتا ہے کہ معیشت بہتر ہورہی ہے کبھی بار نہیں لگتا۔ اگر حکومت ہماری مالی ابتری کا جائزہ لیں تو وہ یقیناً ہماری مدد کیلئے کچھ کرے گی”۔

انکا کہنا ہے کہ وہ اپنے والدین سے زیادہ کمارہی ہے مگر وہ معاشی بڑھوتری سے زیادہ مستفید نہیں ہورہی ہے، فرینسسکا اونیپا اس آبادی میں شامل ہے جس کی روزانہ کی آمدنی تین ڈالرز سے بھی کم ہے۔

اونیپا”ہمیں تعلیمی سہولیات دستیاب نہیں، اگر ہم نے اعلیٰ ڈگری حاصل کی ہوتی تو بہتر ہوتا، ہمیں سرکاری ملازمتیں میسر نہیں”۔