Pakistan’s Manchar Lake is Dying – منچھر جھیل مرنے لگی

پاکستان کی تازہ پانی کی سب سے بڑی منچھر جھیل آلودگی کے باعث آہستہ آہستہ مررہی ہے۔ یہ اس علاقے میں پینے کے پانی اور ماہی گیری کا سب سے بڑا ذریعہ ہے مگر اب یہ صنعت بھی ختم ہوتی جارہی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

علی الصبح پچاس سالہ سجن بی بی منچھر جھیل سے مچھلیاں پکڑنے کے بعد واپس آرہی ہیں۔ مقامی افراد نے منچھر کی ماں کہتے ہیں، کیونکہ وہ دہائیوں سے انہیں مچھلیاں کھلارہی ہیں، مگر اب ایسا مزید نہیں ہوسکے گا۔ وہ ہمیں آج کا شکار دکھا رہی ہیں، جو کہ صرف ایک مچھلی پر مشتمل ہے۔

©©سجن بی بی”دیکھو آج میں نے اسے پکڑا ہے اور ہم اسے کھائیں گے۔ پہلے ہم روزانہ بیس پچیس روپے کمالیتے تھے مگر اب صرف دس یا پندرہ روپے ہی کماپاتے ہیں۔ ہم اس مچھلی کو کھانے کے لئے صرف آٹا ہی خرید ہی سکتے ہیں، مزید کوئی اور چیز خریدنے کی ہماری سکت نہیں۔ ہم تو اپنی خراب کشتی کی بھی مرمت نہیں کراسکتے، کیونکہ ہمارے پاس پیسے نہیں”۔

یہ خاندان حال ہی میں جھیل کی دوسری طرف منتقل ہوگیا، اللہ بچائیو سجن بی بی کے شوہر ہیں، انکا کہنا ہے کہ یہ جھیل مررہی ہے۔

اللہ بچائیو”دہائیوں سے اس جھیل میں مچھلیوں کی کثرت تھی، مگر اب یہ پانی آلودہ ہوچکا ہے اور وہ زندہ نہیں رہ پاتیں۔ یہ اتنا زہریلا ہوچکا ہے کہ ہم اسے پی بھی نہیں سکتے۔ اب یہاں کوئی مچھلی یا روزگار موجود نہیں، اب اللہ ہی ہمیں زندہ رکھ سکتا ہے”۔

اب تک یہاں سے بیس ہزار سے زائد ماہی گیر نقل مکانی کرچکے ہیں، تاہم اب بھی دو سو کے لگ بھگ افراد اپنی گھر نما کشتیوں میں مقیم ہیں۔

ان میں سے ایک ساٹھ سالہ رحمت مائی بھی ہیں۔

رحمت مائی”میری پیدائش ایک کشتی میں ہوئی اور میں نے اپنی پوری زندگی ہی کشتی پر گزاری ہے۔ ہمارا اس کشتی کے سوا کوئی اور گھر نہیں، مگر میرے متعدد رشتے دار شہروں میں منتقل ہوچکے ہیں”۔

مہر علی منچھر جھیل سے پکڑی جانے والی مچھلیوں کو خریدنے والے ایک بڑے تاجر ہیں، مگر اب وہ بھی یہاں سے جانے کی منصوبہ بندی کررہے ہیں۔

مہرعلی”ہمارا کاروبار 1976ءتک عروج پر تھا، مگر پھر ایک ڈرین کے ذریعے ملک کے دیگر حصوں سے زہریلا زرعی فضلہ یہاں ڈالا جانے لگا، 1996ءسے کاروبار میں مندا شروع ہوا، اس وقت ہر ماہی گھیر روزانہ سو سے ڈیڑھ سو کلو میچھلی پکڑ لیتا تھا، مگر اب یہ مقدار بمشکل بیس سے تیس کلو گرام رہ گئی ہے، اب یہاں کی مچھلی جانوروں کی خوراک بنانے کے لئے موزوں رہ گئی ہے”۔

نثار پنہوار، ورلڈ وائلڈ لائف فنڈ سے منسلک ایک گروپ فرینڈز آف ینڈس فورم کے جنرل سیکرٹری ہیں،وہ خود بھی ایک ماہی گیر ہیں اور انہیں اس جھیل کے اچھے دن اب بھی یاد ہیں۔

نثار”منچھر جھیل بنیادی طور پر تازہ پانی کی جھیل ہے، یہ اپنی خوبصورتی، پرندوں اور آبشاروں کی وجہ سے معروف ہے، جبکہ یہاں مچھلی کے وسیع ذخائر بھی اس کی شہرت بڑھاتے ہیں۔ یہ دریائے سندھ کے اس راستے پر واقع ہے جہاں موسم سرما میں ہزاروں پرندے وسط ایشیاءسے ہجرت کرکے آتے ہیں۔ منچھر جھیل ان پرندوں کو قیام گاہ فراہم کرتی ہے، اب تک یہاں مقامی اور غیرملکی پرندوں کی ایک سو دو اقسام ریکارڈ کی گئی ہیں، جبکہ دو درجن سے زائد مچھلیوں کی اقسام بھی یہاں موجود رہی ہیں”۔

تاہم اب مچھلیاں مر رہی ہیں، جبکہ بدلتے ہوئے ماحول کی وجہ سے بھی پرندوں نے یہاں رکنا ختم کردیا ہے۔ 2001ءمیں سپریم کورٹ آف پاکستان نے سندھ حکومت کو اس جھیل میں آلودگی کی شرح میں کمی لانے کا حکم دیا تھا، مگر اس مسئلے کو حل کرنے کی بجائے حکام نے دیگر صوبوں پر پانی کا معیار خراب کرنے کا الزام عائد کرنا شروع کردیا۔ محمدیحییٰ ماحولیاتی تحفظ کیلئے قائم ادارے کے سنیئر رکن ہیں۔

محمد یحییٰ”مین نا را ویلی ڈرینج اس جھیل کو آلودہ کررہی ہے، کیونکہ آلودہ پانی اسی کے راستے یہاں پہنچ رہا ہے۔ اس کے علاوہ میر ناروا ڈرین کے ذریعے بھی 31 چھوٹے ذرائع سے فضلہ جھیل میں شامل ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہم واضح طور پر نہیں کہہ سکتے کہ اس آلودگی کی بنیادی وجہ کیا ہے۔ یہ آلودہ پانی بالائی علاقوں سے آتا ہے، جبکہ قریبی علاقوں سے بھی زرعی و صنعتی فضلہ جھیل کے پانی آلودہ کررہا ہے”۔

رواں برس کے آغاز میں درجنوں ماہی گیروں نے جھیل کو بچانے میں ناکامی پر اسلام آباد کی جانب مارچ کیا تھا، اب انہیں توقع ہے کہ نئی حکومت اس حوالے سے اقدامات کرے گی۔