یونیسیف کیساتھ شراکت داری کرکے پاکستان نے تمام لڑکیوں تک 2015ءمیں تعلیم کی رسائی یقینی بنانے کا وعدہ کیا ہے، اس حوالے سے ملالہ یوسفزئی کے نام سے عالمی فنڈ قائم کیا گیا ہے، تاہم ابھی بھی ملک بھر میں ایسے ہزاروں اسکول موجود ہیں جہاں اساتذہ ہی نہیں۔ ایسے ہی گھوسٹ اسکولوں کے بارے میں سنتے ہیں ،آج کی رپورٹ
کراچی کے نواحی علاقے گھاگرمیں اس وقت صبح کے آٹھ بجے ہیں، مگر اس اسکول میں کوئی طالبعلم یا استاد موجود نہیں۔ کلاس رومز تباہ شدہ اور بلیک بورڈز گرد سے اٹے ہوئے ہیں، چالیس سالہ مقامی رہائشی محمد عظیم مری اس اسکول کے برابر میں مقیم ہیں، مگر ان کے تین بچے تعلیم کے حصول سے محروم ہیں۔
محمد”اسکول کی عمارت کو اب چودہ سال ہوگئے ہیں، مگر یہاں کبھی کوئی استاد پڑھانے کیلئے نہیں آیا، یہاں کبھی کوئی کلاس نہیں ہوئی، اساتذہ کو تنخواہیں تو مل رہی ہیں مگر وہ طالبعلموں کو پڑھانے کے لیے نہیں آتے”۔
گزشتہ سال سامنے آنے والے سرکاری اعدادوشمار کے مطابق ملک بھر میں پچیس ہزار کے قریب گھوسٹ اساتذہ موجود ہیں، جن میں سے اکثریت کا تعلق صوبہ سندھ سے ہے۔
آدھا کلومیٹر دور ایک اور سرکاری اسکول واقع ہے، یہاں کی کرسیاں ٹوئی ہوئی ہیں جبکہ بچوں کیلئے بنچیں موجود نہیں، درحقیقت اس ساٹھ ہزار افراد کے اس علاقے میں ایسے 35 اسکول موجود ہیں جہاں بچے تعلیم حاصل کرنے سے محروم ہیں۔ اقبال گبول بھی اسکول کے قریب رہائش پذیر ہیں۔ انکے تین بچے جلد اسکول جانے کی عمر کے ہوجائیں گے۔
اقبال” 2005ءمیں اس اسکول کی تعمیر کے بعد اب تک کسی ایک استاد کو بھی یہاں تعینات نہیں کیا گیا، یہاں بجلی نہیں اور اس عمارت کا کوئی استعمال بھی نہیں ہورہا، ہم نے کئی بار وزیراعلیٰ، وزیر تعلیم یہاں تک کے صدر سے اسے فعال بنانے کی درخواستیں کی، مگر کچھ بھی نہیں ہوسکا”۔
حکومت نے ملک بھر میں ایسے ہزاروں اسکول قائم کئے ہیں جہاں کوئی کام نہیں ہورہا، اس مسئلے کی جڑ کرپشن اور نگرانی کا موثر نظام نہ ہونا ہے۔
آٹھ سالہ ماریہ علی کو تیسری جماعت میں اپنا تعلیمی سلسلہ منقطع کرنا پڑا۔
ماریہ علی”میں استاد بننا چاہتی ہوں تاکہ دوسروں کو پڑھا سکوں، مگر یہاں اسکول میں اساتذہ نہ ہونے کی وجہ سے میں وہاں جاہی نہیں سکتی، جس اسکول میں، میں جاتی تھی وہاں کے اساتذہ کو فارغ کردیا گیا ہے، اور ان کی جگہ نئے اساتذہ کو تعینات ہی نہیں کیا گیا”۔
رواں برس کے شروع میں سپریم کورٹ نے حکومتی اسکولوں کا سروے کرانے کا حکم دیا تھا، جس کے بعد معلوم ہوا کہ صوبہ سندھ کے بیس فیصد اسکول غیرفعال یا بس کاغذوں پر ہی موجود ہیں۔
یہ گھاگر کا واحد لڑکیوں کا اسکول ہے، اس گرم صبح میں یہ لڑکیاں کھلے آسمان تلے پڑھنے میں مصروف ہیں، مٹھل سیا ل اس اسکول کی ہیڈمسٹریس ہیں۔
مٹھل”ساڑھے چار سو طالبات کیلئے صرف چار کلاس رومز ہیں، یعنی سو سے زائد طالبات کیلئے ایک کمرہ ہے، یہاں ایک بیت الخلاءہے اور یہاں کے دونوں پانی کے ٹینک ناقابل استعمال ہیں، طالبات اور اساتذہ کو اپنے گھروں سے پانی لانا پڑتا ہے”۔
گزشتہ برس پاکستان اور یونیسیف نے تمام لڑکیوں کو 2015ءتک تعلیم دلانے کیلئے ایک عالمی فنڈ قائم کیا تھا، صدر پاکستان نے ملالہ یوسفزئی کے نام سے منسوب اس فنڈ کیلئے ایک کروڑ ڈالرز دیئے تھے۔
ملالہ یوسفزئی پر لڑکیوں کی تعلیم کیلئے مہم چلانے پر طالبان نے قاتلانہ حملے کا نشانہ بنایا تھا۔
ملالہ”تو سب ملکر جہالت، غربت اور دہشتگردی کیخلاف ملکر عالمی جدوجہد کا آغاز کریں، آئیے اپنی کتابیں اور قلم اٹھائیں، یہ ہمارے سب سے طاقتور ہتھیار ہیں، ایک بچہ، ایک استاد، ایک کتاب اور ایک قلم دنیا کو تبدیل کرسکتے ہیں، تعلیم ہی واحد حل ہے اور تعلیم ہی سب سے پہلے ہے”۔
دو ہزار دس میں پاکستانی حکومت نے ایک آئینی ترمیم کرتے ہوئے مفت اور لازمی پرائمری تعلیم ہر بچے کا بنیادی حق قرار دیا تھا۔ حال ہی میں صوبہ سندھ کی اسمبلی نے ایک بل کے ذریعے اسے حقیقی شکل دی، مگر تعلیمی رضاکاروں کا کہنا ہے کہ صورتحال میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ لال خان پنہور سندھ گریجوئٹس ایسو سی ایشن کے رکن ہیں۔
لال خان”سیاستدانوں نے ہی تو تعلیمی شعبے کو تباہ کیا ہے، طالبان عسکریت پسندوں اور ہمارے سیاستدانوں کی ذہنیت میں کوئی فرق نہیں، دونوں ایک ہی طرح کا سوچتے ہیں اور وہ تعلیم کے خلاف ہیں”۔
نثار کھوڑو وزیر تعلیم سندھ ہیں، وہ حکومتی ریکارڈ کا دفاع کررہے ہیں۔
نثار کھوڑو”یہاں ایسے اساتذہ موجود ہیں، جنھوں نے اپنا ٹرانسفر دیگر مقامات پر کرالیا، مگر ہم اس بات کا خیال رکھ رہے ہیں، اگر اساتذہ واپس آجائیں تو غیرفعال اسکولوں کی تعداد کم ہوجائے گی، ان اسکولوں کی بندش کی کوئی سیاسی وجہ نہیں”۔
مگر اب لوگوں نے اس مسئلے کا حل اپنے ہاتھ میں لے لیا ہے۔
نبی داد نے ایک حکومتی گھوسٹ اسکول کے باہر ایک مدرسہ قائم کردیا ہے، اس وقت یہاں دس لڑکے زیرتعلیم ہیں۔
نبی”یہ بچے جدید تعلیم سے محروم تھے، تو میں نے سوچا کم از کم انہیں مذہب کی تعلیم تو دے دوں، مگر ہم انہیں ہر چیز نہیں سیکھا سکتے، اور یہ طالبعلم تعلیمی میدان میں کافی پیچھے ہیں”۔