Pakistan’s First Tribal Woman to run for Parliament – انتخابات میں شریک پہلی پاکستانی قبائلی خاتون

پاکستان میں انتخابات کے انعقاد کو کچھ ہی روز رہ گئے ہیں اور اس بار تاریخ میں پہلی بار قبائلی علاقہ جات سے بھی ایک خاتون انتخابی عمل میں شریک ہے۔ بادام زری نامی یہ خاتون باجوڑ ایجنسی کی رہائشی ہیں اور وہ تمام تر دھمکیوں اور تنقید کے باوجود انتخابات میں حصہ لینے کیلئے پرعزم ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

پینتالیس سالہ سالہ بادام زری اپنے گھروالوں کیلئے دوپہر کا کھانا تیار کررہی ہیں، وہ ایک گھریلو خاتون ہیں اور ان کے شوہر ایک اسکول کے پرنسپل ہیں۔ بادام زری نے سیاہ اسکارف سے اپنے چہرہ ڈھانپ رکھا ہے اور آپ کو صرف ان کی آنکھیں ہی نظر آسکتی ہیں۔

بادام زری”میں اپنے ٹی وی پر روزانہ اپنے ملک کی زوال پذیر صورتحال کو دیکھتی ہوں، اسی لئے میں نے انتخابات میں حصہ لینے کا فیصلہ کیا، اگرچہ میں کوئی خاص پڑھی لکھی نہیں”۔

وہ پڑھ یا لکھ نہیں سکتی، تاہم پاکستانی قوانین کے تحت یہ کوئی مسئلہ نہیں۔

بادام زری”میرے شوہر نے مجھ سے کہا کہ مجھے کسی قسم کی تعلیمی قابلیت کی ضرورت نہیں، کیونکہ میں کافی ذہین ہوں، میں اپنے علاقے کے تما رہائشیوں اور ملک کی خدمت کرنے کیلئے پرعزم ہوں، اس لئے دیگر افراد پر انحصار کرنے کی مجھے اس موقع سے فائدہ اٹھانا چاہئے”۔

بادام زری قبائلی علاقے باجوڑ ایجنسی سے آزاد امیدوار کی حیثیت سے قومی اسمبلی کے انتخابات میں حصہ لے رہی ہیں۔اسی نشست سے کھڑی ہونے والی ایک اور خاتون نے طالبان کی دھمکیوں کے بعد دستبرداری کا اعلان کردیا تھا۔

بادام زری”میں ان انتخابات میں ایک جذبے، صاف دل اور ضمیر کے ساتھ حصہ لے رہی ہوں۔ میں نے کچھ غلط نہیں کیا اس لئے مجھے کسی سے ڈر یا خوف محسوس نہیں ہورہا”۔

بادام زری کے شوہر سلطان خان اپنی اہلیہ کے فیصلے کے حامی ہیں۔ایک تعلیم یافتہ شخص ہونے کے ناطے وہ پاکستانی معاشرے میں اصلاحات ہوتے دیکھنا چاہتے ہیں۔

سلطان خان”بادام زری ہمیشہ سے مظلوم افراد کے حقوق کی حامی رہی ہے اور میں بھی اسکی حمایت کرتا ہوں۔ ابتدائی طور پر ہماری منصوبہ محروم مرد و زن کے حقوق کی آگاہی کو اجاگر کرنا ہے، الیکشن ہماری ہدف نہیں، مگر اس سے ہمیں اپنے مقاصد کے حصول میں مدد ملے گی۔ ہم نے اپنی انتخابی مہم کے دوران دیکھا ہے کہ لوگ بنیادی حقوق جیسے تعلیم، صحت اور مواصلات وغیرہ سے محروم ہیں، اور ہم ان معاملات کو ہر موقع پر اٹھا رہے ہیں، چاہے طاقتور افراد ہماری سنے یا نہ سنے”۔

پاکستان کا قبائلی علاقہ انتہائی قدامت پسند ہے، جہاں خواتین کو تعلیم کے حصول کی اجازت نہیں اور نہ ہی انہیں اپنے شوہر یا کسی مرد محرم کے بغیر سے گھر سے باہر نکلنے دیا جاتا ہے۔ ایک معروف پشتو محاورے کے مطابق خواتین کو اپنے گھر یا قبر کے اندر ہی زندگی گزارنی چاہئے۔ تاہم بادام زری خواتین کی آواز بننے کا وعدہ کررہی ہیں۔

بادام زری”میں خود ایک عورت ہوں اور میں اس علاقے کی خواتین کے مسائل اور معاملات کو بخوبی سمجھتی ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ میں بہتر کام کرسکتی ہوں۔ میں ان پڑھ ضرور ہوں مگر مجھے تعلیم کی اہمیت معلوم ہے، یہی وجہ ہے کہ میں اگر منتخب ہوئی تو میں اس علاقے میں خواتین کی تعلیم اور صحت کیلئے کام کروں گی۔ میرے بچے نہیں مگر میں اپنے علاقے کے تمام نوجوانوں کا اپنی اولاد کی طرح سمجھتی ہوں اور میں ان کے بہتر مستقبل اور کامیاب زندگی کیلئے ہرممکن کوشش کروں گی”۔

دیگر امیدواروں نے اپنی مہم شروع کرتے ہوئے ہر جگہ پوسٹرز اور بل بورڈز لگادیئے ہیں، تاہم بادام زری غربت کے باعث مہم چلانے کی سکت نہیں رکھتیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ گھر گھر جاکر لوگوں کو انہیں ووٹ ڈالنے کیلئے قائل کررہی ہیں۔

وہ خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایک میڈیکل اسٹور میں کام کرنے والا بائیس سالہ نوجوان جاوید خان انتخابی مہم میں مدد کیلئے مل گیا ہے۔ وہ بادام زری کے چند مخلص ترین حامیوں میں سے ایک ہے اور ان کے لئے مہم بھی چلا رہا ہے۔ وہ اپنی دکان پر آنے والے ہر شخص کو بادام زری کو ووٹ ڈالنے کیلئے قائل کرنے کی کوشش کرتا ہے۔

جاوید خان”خواتین کو ان کے حقوق دیئے جانے چاہئے اور بادام زری الیکشن جیتی تو وہ اپنے حقوق سے آگاہ ہوسکیں گی۔ ہم متعدد برسوں سے مردوں کو منتخب کررہے ہیں مگر یہاں کوئی تبدیلی نہیں آسکی۔ انھوں نے علاقے میں امن کیلئے کچھ بھی نہیں کیا اور ہماری زندگیوں میں بھی کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ یہی وجہ ہے کہ ہم اس بار بادام زری کو موقع دینا چاہتے ہیں”۔

باجوڑ میں اٹھارہ لاکھ افراد آباد ہیں، جن میں خواتین کی تعداد ستر ہزار ہے۔آئین کے تحت قومی اسمبلی کی ستر نشستیں خواتین اور اقلیتوں کیلئے مختص ہیں، مگر قبائلی خواتین کیلئے اس کوٹے میں کوئی جگہ نہیں۔ اورنگزیب انقلابی سابق حکمران جماعت پیپلزپارٹی کے باجوڑ میں صدر ہیں۔

اورنگزیب”ہم جمہوری لوگ ہیں اور ہم بادام زری کی جانب سے انتخابات میں حصہ لینے کے عمل کو سراہتے ہیں۔ مگر قبائلی اقلیت کا حصہ ہونے کی وجہ سے میں سختی سے ان کے اس فیصلے کی مذمت کرتا ہوں۔ یہ ان کے لئے انتخابات میں حصہ لینے یا جیتنے کیلئے مناسب وقت نہیں۔ وہ اپنے گھر سے باہر نہیں آسکتی اور ان کے لئے اپنے منشور پیش کرنا یا لوگوں کو ووٹ دینے کے لئے قائل کرنا مشکل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ میں حیران ہوں کہ وہ ووٹ کس طرح حاصل کریں گی”۔

طالبان نے دھمکی دی ہے کہ جو کوئی ان کی مخالفت کرے گا وہ اس امیدوار کی مہم پر حملہ کریں گے۔ اب تک بادام زری کو براہ راست تو کوئی دھمکی نہیں ملی، مگر خواتین کے حقوق کے حوالے سے ان کے خیالات انہیں ہدف بناسکتے ہیں۔ مگر وہ ہار ماننے کیلئے تیار نہیں۔

بادام زری”میرا مقصد اور مشن اپنے علاقے، ملک اور پوری دنیا میں امن کیلئے کام کرنا ہے۔ میں امن اور ہر ایک کی خوشحالی چاہتی ہوں، اور مجھے توقع
ہے کہ میرے ہم وطن اور عالمی برادری میرے اس مقصد کے حصول کیلئے میری حمایت کریں گے”۔