Japanese War Dead Tribute Angers China and Korea – جاپانی جنگی ہیروز کو خراج تحسین پر چین اور جنوبی کوریا مشتعل

اجاپانی وزیراعظم اپنے وزراءکی جانب سے جنگی ہیروز کو خراج تحسین پیش کرنے کے حق کا دفاع کررہے ہیں۔ یہ پہلی بار نہیں کہ انھوں نے درجن بھر وزراءکے ہمراہ ٹوکیو میں یسکونی کے مزار کا دورہ کیا ہو۔تاہم اس عمل پر جنوبی کوریا اور چین کو شدید تحفظات ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

یہ لوگ جنوبی کورین دارالحکومت سیول کی سڑکوں پر جمع ہوکر جاپانی اراکین پارلیمنٹ کی جانب سے یسکونی مزار پر جانے کے خلاف احتجاج کررہے ہیں۔ چینی دارالحکومت بیجنگ میں بھی اشتعال پایا جاتا ہے۔ ہوا چنینگ چینی وزارت خارجہ کی ترجمان ہیں۔

ہوا چن ” یسکونی مزار پر اس طرح کے دوروں کا مقصد جاپان کی جانب سے ماضی میں کی گئی فوجی جارحیت سے انکار کرنا لگتا ہے”۔

متعدد جاپانی اراکین پارلیمنٹ اس طرح کے دوروں کو حب الوطنی کا نشان سمجھتے ہیں، تاہم دیگر جیسے چینی اور کورین عوام اسے جنگی غلطیوں سے حاصل ہونے والے سبق سے انکار کا نشان سمجھتے ہیں۔ یسکونی مزار ایسے پچیس لاکھ افراد کی ہلاکت کا نشان ہے جو جنگوں میں ہلاک ہوئے۔ ان میں سے ایک شخص جو یہاں دفن ہے وہ ہیدیکے تو جوہے جو جنگ کے بیشتر اوقات میں وزیراعظم رہا۔ہیدیکے تو جو کو عالمی فوجی ٹربیونل نے مشرق بعید میں جنگی جارحیت اور جنگی جرائم کا مرتکب قرار دیا تھا اور اسے بعد ازاں پھانسی دیدی گئی تھی۔مگر آج کے جاپانی وزیراعظم شنزو اپنے وزراءاور اراکین پارلیمنٹ کے ان دوروں کو کوئی مسئلہ نہیں سمجھتے۔

شنزو” میرے لئے یہ امر حیرت انگیز ہے کہ اگر کوئی شخص اس مزار پر جاکر ان افراد کو خراج تحسین پیش کرے تو اسے تنقید کا نشانہ بنایا جائے۔ میرا کام اپنے فخر، اپنی تاریخ اور اقدار کا تحفظ کرنا ہے”۔

شنزوکے دادا بھی توجوکی کابینہ میں شامل تھے، اور انہیں بعد ازاں جنگی جرائم کے مقدمے کا سامنے بھی کرنا پڑا تھا، تاہم شواہد نہ ہونے کے باعث انہیں رہا کردی تھا۔ اب موجودہ وزیراعظم کا ماننا ہے کہ ان کے دادا کے ساتھ ناانصافی ہوئی تھی۔

شنزو”اپنے ملک کے لئے جانیں نچھاور کرنے والے افراد کی روحوں کو خراج تحسین پیش کرنا فطری امر ہے۔ ہمارے وزراءاس معاملے میں کسی قسم کی دھمکیوں کی پروا نہیں کریں گے”۔

تاہم اس خطے میں جنگ کا خاتمہ ہوئے 68 برس ضرور بیت چکے ہیں مگر اب بھی متعدد زخم روز اول کی طرح تازہ ہیں۔