(Pakistan’s cross-dressing girls) مردانہ لباس پہننے والی پاکستانی لڑکیاں

اگر آپ بیٹے کے خواہشمند ہوں اور پیدائش بیٹیوں کی ہورہی ہو تو آپ کیا کریں گے؟ افغانستان اور پاکستان کے کچھ حصوں میں تو اس کا جواب ہے کہ اپنی بیٹیوں کو ہی لڑکوں کے کپڑے پہنا کر شوق پورا کیا جائے۔اس قدیم روایت کو Bacha Posh کے نام سے جانا جاتا ہے۔

پانچ بچے ہاتھوں میں لکڑی سے بنی گنیں لئے ایک دوسرے کو فرضی طور پر مارنے کا کھیل کھیلنے میں مصروف ہیں۔ ان میں سے ایک دس سالہ رفیقہ بھی ہے۔

رفیقہ(female) “مجھے اس وقت غصہ چڑھ جاتا ہے جب لوگ مجھے لڑکی کہتے ہیں، میں ان سے لڑنا اور انہیں مارنا شروع کردیتا ہوں”۔

رفیقہ ایک لڑکی ہے مگر وہ لڑکوں کی طرح بلند آواز میں بات کرنے کی عادی ہے۔ دو ہفتے قبل تک وہ بالکل لڑکوں کی زندگی گزار رہی تھی یہاں تک کہ پشاورمیں ایک لڑکوں کے اسکول میں داخل ہوگئی تھی۔ اسے bacha posh کہا جاتا ہے اور اسے یہ پسند ہے۔

رفیقہ(female) “میں اپنے والد کے ساتھ باڑہ مارکیٹ جاتا ہوں اور اپنے لئے مردوں کے کپڑے خود خرید کر لاتا ہوں اور اپنی بہنوں کے لئے لڑکیوں کے کپڑے، لڑکیوں سے کوئی نہیں پوچھتا کہ ان کے لئے کیا خرید کر لانا چاہئے”۔

پشتون ثقافت میں بیٹوں کے مقابلے میں بیٹیوں کو زیادہ اہمیت دی جاتی ہے، بلکہ انہیں خاندان کا فخر سمجھا جاتا ہے، اسی طرح صرف بیٹے ہی اپنے والد کے اثاثوں کی ملکیت کے حقدار قرار پاتے ہیں۔

کچھ خاندان اپنی بیٹیوں کو لڑکوں جیسے بہروپ میں رکھتے ہیں، جس کی بدولت وہ باآسانی کام کرکے اپنے خاندان کی کفالت کا بوجھ اٹھالیتی ہیں۔

مگر رفیقہ کے والد رحمن سید نے اپنی بیٹی کو لڑکوں کا لباس اس خواہش کے ساتھ پہنایا کہ اللہ انہیں بیٹے کی نعمت عطا فرمائے، ان کی نو بیٹیاں ہیں اور وہ بیٹے کے خواہشمند ہیں۔

رحمن سید(male) “کچھ لوگ اپنی بیٹیوں کو لڑکوں کی طرح غربت کے باعث پالتے ہیں، مگر میں اپنی بیٹیوں کو لڑکوں کا لباس اس لئے پہناتا ہوں کیونکہ میرا کوئی بیٹا نہیں۔ میں اسے ہی اپنا بیٹا سمجھتا ہوں اور یہ خیال مجھے خوش رکھتا ہے”۔

یہاں یہ توہم پرستی عام ہے کہ جن گھروں میں لڑکا نہیں ہوتا وہ خوش قسمتی کیلئے لڑکیوں کو لڑکا بنادیں، تو اللہ تعالیٰ کی جانب سے انہیں اولاد نرینہ عطا ہوگی۔ چھ برس تک لڑکا بنا رہنے کے بعد رفیقہ کو ایک بار پھر لڑکی بنانے کی کوشش کی جارہی ہے، کیونکہ اسکے والد کو فکر ہے کہ اگر ایسا نہ ہوا تو اسکی شادی نہیں ہوسکے گی، اب لڑکا بننے کی باری اس کی ساڑھے چار سالہ بہن نسرین خان کی ہے۔

نسرین خان(female) “میں لڑکوں کا لباس پہن کر اور مرد مہمانوں کے ساتھ بیٹھ کر بہت خوش ہوں، میری ماں نے مجھے بتایا ہے کہ اگر میں یہ لباس پہنوں تو جلد میرا بھائی آجائے گا”۔

عام طور پر لڑکا بنائی جانے والی لڑکیاں سترہ یا اٹھارہ سال کی عمر تک مردانہ لباس استعمال کرتی ہیں، مگر چھ برس تک لڑکوں کی زندگی گزارنے کے بعد رفیقہ کیلئے لڑکی بننا آسان نہیں رہا۔

رفیقہ(female) “اس وقت بہت گرمی ہے اور ہمارے علاقے میں پانی کی قلت ہے۔ مردوں کو گھروں سے باہر رہنے کی اجازت ہوتی ہے اور انہیں گھریلو مسائل کا سامنا بھی نہیں جو خواتین کو درپیش ہوتے ہیں۔ مجھے اسکول بہت یاد آتا ہے”۔

یہ روایت پاکستان میں صدیوں سے موجود ہے، مگر اہم سوال یہ ہے کہ کب پاکستانی لڑکیاں لڑکوں جتنی آزادی اور احترام حاصل کرسکیں گیں؟ تاج الدین پشتون تاریخ اور ثقافت کے ماہر ہیں۔ وہ اس رسم کے خلاف برسوں سے لکھ رہے ہیں۔

تاج الدین(male) “یہ مضحکہ خیز خیال ہے کہ بیٹیوں کو لڑکوں کی طرح کے کپڑے پہنائے جائیں۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ آپ کتنے کم عقل ہیں۔اس سے دنیا کو دکھایا جارہا ہے کہ ہم اس مہذب دنیا سے کتنے پیچھے ہیں جہاں مرد و خواتین کو یکساں حقوق حاصل ہیں۔یہ رسم بیٹیوں کے ذہن کو متاثر کرتی ہے، انہیں دکھایا جاتا ہے کہ مرد خواتین سے برتر ہیں، جس سے ان لڑکیوں کی زندگی قابل رحم ہوجاتی ہیں۔ ان کے والدین ہی ان کی زندگیاں برباد کردیتے ہیں”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *