آثار قدیمہ میں اعزاز حاصل کرنے والے پروفیسر پرویز شاہین وادی سوات کے رہائشی ہیں، انھوں نے اس وادی کے کئی خفیہ گوشوں کو دنیا کے سامنے بے نقاب کیا ہے، طالبان دور میں بھی وہ بہادری سے اپنے کام میں مصروف رہے اور اپنی لائبریری کو بچانے کی کوشش کرتے رہے۔
پروفیسر پرویز شاہین کو طالبان عہد کی تمام تفصیلات روز اول کی طرح یاد ہیں۔
پرویز(male) “وادی سوات میں جب طالبان نے طاقت پکڑی تو یہاں سے خوشی ختم ہوکر رہ گئی تھی”۔
وہ مزید بتارہے ہیں۔
پرویز(male) “عسکریت پسندوں نے ریڈیو پر مجھے اور میرے دو بیٹوں کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا تھا، مجھے اپنی ذات کی فکر نہیں تھی مگر بچوں کے حوالے سے میں کافی فکرمند تھا۔ عسکریت پسند اس سے پہلے میرے ایک بیٹے کو اغوا کرکے اسکی رہائی کیلئے بھاری تاوان طلب کرچکے تھے، میں نے عسکریت پسندوں سے ملاقات کرکے انہیں بتایا کہ میں رقم ادا نہیں کرسکتا کیوںکہ ہم بہت غریب ہیں، مگر یہ درخواست کسی کام نہ آسکی”۔
ان کے بیٹے کو اسی وقت رہائی ملی جب طالبان کو بھاری تاوان ادا کیا گیا، مگر اس کے باوجود پروفیسر پرویزشاہین طالبان پر تنقید کرنے سے پیچھے نہیں ہٹے، طالبان نے جب وادی سوات میں موجود گوتم بدھ کا تاریخی مجسمہ تباہ کیا تو پروفیسر پرویز نے اس پر شدید تنقید کی۔جسکے بعد طالبان نے پروفیسر کو ہدف بنالیا اور ان کی لائبریری ان کا خاص نشانہ بن گئی۔
پرویز(male) “میں ہمیشہ لوگوں کو کہتا ہوں کہ کسی کو زبردستی پڑھانا ممکن نہیں، آپ کو پڑھائی میں دلچسپی بچپن سے اپنے اندر پیدا کرنا ہوتی ہے۔ میں فطری طور پر کتابوں سے محبت کرتا ہوں، اور ساتویں جماعت سے کتابیں جمع کررہا ہوں، اور اس زمانے کی کتابیں ابھی بھی میرے پاس موجود ہیں”۔
پرویز شاہین کا خاندان غریب اور غیر تعلیم یافتہ تھا، ان کے خاندان میں صرف ایک شخص پڑھا لکھا تھا۔
پرویز شاہین(male) “میں نے اپنے انکل کی کتاب انکے گھر سے چرا لی۔ وہ انگریزی زبان کی ایک کتاب تھی،اور وہ پہلی کتاب تھی جو میں نے پڑھی اور اس کے بعد سے میں کتابوں کے عشق میں مبتلا ہوگیا۔ اس کے بعد میں نے اپنی کتابیں جمع کرنا شروع کیں اور انہیں گھر کی ایک پرانی الماری میں جمع کرنے لگا۔ میں تعلیم حاصل کرنے کیلئے لاہور گیا تو وہاں کے فٹ پاتھوں پر مجھے سستی کتابیں ملیں۔ میں دن میں صرف ایک بار کھانا کھا کر پیسے بچاتا تھا اور جمع ہونے والے پیسوں سے کتابیں خریدتا تھا۔ 1972ءکی بات ہے جب میں نے گھر کے ایک کمرے میں اپنی لائبریری قائم کی”۔
پروفیسر پرویز کے پاس ہر موضوع کی کتابوں کا بہت زیادہ مجموعہ موجود تھا، اور ان کی تعداد چالیس ہزار سے بھی زائد ہوگئی تھی۔
2009ءمیں پاک فوج نے سوات میں طالبان کیخلاف آپریشن شروع کیا، جسکے باعث بیس لاکھ سے زائد افراد کو گھر بار چھوڑ کر دیگر علاقوں کا رخ کرنا پڑا، مگر پروفیسر پرویز شاہین اپنے گھر میں موجود رہے، تاہم انھوں نے اپنی بیوی اور بچوں کو محفوظ مقامات پر چلے جانے کا کہا۔
پرویز شاہین(male) “میرے خاندان اور دوستوں نے مجھ سے کئی بار وادی سوات چھوڑنے کی درخواست کی، وہ لوگ میرے سامنے روتے بھی رہے مگر میں نے قسم کھائی تھی کہ میں اپنے گھر میں اپنی لائبریری میں ہی مرنا پسند کروں گا۔ میں اپنی کتابوں کو تنہا چھوڑ کر نہیں جاسکتا تھا، اگر طالبان میری لائبریری کو تباہ کرنے کی کوشش کرتے تو میں انکا سامنا کرتا، عسکریت پسند مجھے قتل کرکے ہی میری کتابوں کو ختم کرسکتے تھے”۔
جب پروفیسر کا خاندان گھر چھوڑ کر چلا گیا تو عسکریت پسندوں نے لائبریری تباہ کرنے کی کوشش کی۔
پرویز(male) “عسکریت پسند گھر کے اندر آئے اور میری کتابوں کے ذخیرے کو دیکھنے لگے۔ میں نہیں جانتا تھا کہ انہیں کن کتابوں کی تلاش تھی مگراچانک انھوں نے میری کتابوں کو جلانے کی کوشش کی، اسکے ساتھ ساتھ انھوں نے گھر میں موجود چند مجسمے اور گندھارا تہذیب کے نوادرات کو تباہ کردیا۔ میں اس وقت بہت افسردہ تھا اور میں نے انہیں کہا کہ وہ میرے خزانے کو تباہ کرنے کی بجائے مجھے قتل کردیں۔ میں نے کئی بار ان سے گڑگڑا کر یہ درخواست کی”۔
اس رات طالبان نے پروفیسر کی کتابوں کی بڑی تعداد تباہ کردی تھی، اس واقعے کے تین سال بعد بھی لائبریری کی حالت تاحال خراب ہے، اور متعدد کتابیں زمین پر پڑی ہیں، کیونکہ پروفیسر پرویز کے پاس الماریاں خریدنے کی سکت نہیں۔ وہ ریٹائر ہوچکے ہیں اور ان کی جمع پونجی کا بڑا حصہ پہلے ہی لائبریری کی نذر ہوچکا تھا۔سادات شاہ اسلام آباد کی ایک یونیورسٹی کے طالبعلم ہیں، وہ پروفیسر پرویز سے ملاقات پر فخر محسوس کررہے ہیں۔سا دا ت شا ہ کہتے ہیں کہ پروفیسر بہت بہادر شخص اور کتابوں کے حقیقی عاشق ہیں۔ وہ واحد شخص تھے جو اپنی لائبریری بچانے کے لئے طالبان کے سامنے کھڑے ہوئے۔ وہ وادی سوات، پشتون ثقافت، بدھ مت اور پشتو موسیقی کے بارے میں بہت کچھ جانتے ہیں۔ تاہم پروفیسر پرویز شاہین اپنی کتابوں کے مستقبل کے حوالے سے فکر مند ہیں۔
پرویز(male) “میرے کسی بھی بچے کو کتابوں یا لائبریری سے دلچسپی نہیں، میں نے ان سے اپنے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ میری کتابوں کا ذخیرہ کہیں گم ہوجائے گا۔ میں نے انہیں کہا ہے کہ وہ مجھے مرنے کے بعد لائبریری کے فرش میں دفن کریں اور میری لائبریری کو عوامی ملکیت قرار دیدیں۔ یہ لائبریری میرے بچوں کی ملکیت نہیں بلکہ ان افراد کی ہے جو یہاں آتے ہیں۔ میں اپنی لائبریری کو میوزیم بنانے کا خواہشمند ہوں”۔