(Pakistan braces for another monsoon season) پاکستان ایک بار پھر مون سون سیزن کے دہانے پر
(Pakistan monsoon) پاکستان مون سون
پاکستان کو لگاتار دو برسوں سے طوفانی بارشوں اور سیلاب کا سامنا کرنا پڑا ہے، جبکہ حکومت کو ناقص ردعمل پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے۔اب ایک بار پھر مون سون کا موسم قریب ہے، اور امدادی ادارے حکومت سے اقدامات کرنے کا کہہ رہے ہیں۔
2010ءمیں مون سون کے دوران ایسا تباہ کن سیلاب آیا جس کا تجربہ پاکستان کو پہلے کبھی نہیں ہوا تھا۔ اس سیلابی پانی سے ملک کا بیس فیصد حصہ ڈوب گیا، جبکہ دو کروڑ افراد بے گھر ہوگئے۔ایسا ہی ایک متاثرہ شخص اپنی حالت و زار بتارہا ہے۔
man(male)”سیلابی ہمارے گاﺅں میں بہت تیزی سے داخل ہوا،ایک نوجوان لڑکا اس کمرے میں سو رہا تھا، میرے والد نے واپس جاکر اسے بچانے کی کوشش کی مگر گھر اچانک گر گیا، جسکے نتیجے میں میرے والد بری طرح زخمی ہوگئے۔ گاﺅں والوں نے میرے والد کو ملبے سے نکالنے میں مدد دی، تاہم وہ ہسپتال پہنچنے سے قبل دم توڑگئے”۔
مگر مشکلات کا سلسلہ یہاں تھم نہیں گیا، 2010ءکے نقصانات پر قابو پانے کی کوششیں جاری تھیں کہ 2011ءمیں تباہ کن بارشوں نے ایک بار پھر ملک کو نشانہ بنایا۔ انتہائی شدید بارشوں کے باعث صوبہ سندھ اور بلوچستان کے متعدد علاقے ڈوب گئے۔ یہ تباہی انتہائی تیزی سے واقع پذیر ہوئی۔ایک متاثرہ خاتون اپنا تجربہ بتا رہی ہیں۔
female(female)”ہم سو رہے تھے کہ اچانک پانی آگیا۔ ہمارا سب کچھ اس میں تباہ ہوگیا۔ ہم نے اپنا کچھ سامان کشتی پر جمع کردیا تھا، تاہم ہمیں اس سیلاب سے بہت زیادہ نقصانات ہوئے”۔
اس سیلاب کو گزرے چھ ماہ سے زائد عرصہ ہوگیا، تاہم امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ پاکستان تاحال بحران کا شکار ہے۔شاہین چغتائی پاکستان میں برطانوی امدادی ادارے آکسفیم کے نمائندے ہیں۔
شاہین(male)”ہمیں بلوچستان اور سندھ کے سیلاب زدہ علاقوں میں تاحال انتہائی مشکل صورتحال کا سامنا ہے، اگرچہ سیلاب کے باعث بے گھر ہونیوالے لاکھوں افراد گھروں کو واپس لوٹ گئے ہیں، تاہم انہیں وہاں انتہائی مشکل حالات کا سامنا ہے۔ ان لوگوں کا سب کچھ تباہ ہوچکا ہے، بہت سے لوگوں کے گھر اور ضروری سامان سیلابی پانی بہا کر لے گیا ہے”۔
انکا کہنا ہے کہ بیشتر افراد کو خوراک، صاف پانی اور پناہ گاہ جیسی بنیادی اشیاءکی قلت کا سامنا ہے، جبکہ وبائی امراض پھیلنے اور قحط سالہ کا خطرہ بہت زیادہ بڑھ گیا ہے۔شفیع محمد نامی ایک دیہاتی اس بارے میں بتارہا ہے۔
شفیع(male)”میری بیوی سیلابی پانی اور مچھروں کے باعث بیمار ہوگئی ہے۔ پینے کا پانی ہمارے گھر سے دس میل کے فاصلے پر واقع ہے، یہی وجہ ہے کہ ہمیں پینے کے صاف پانی کو لانے کیلئے دس میل تک چلنا پڑتا ہے”۔
شاہین چغتائی اس بارے میں بتارہے ہیں۔
شاہین(male)”ہم بہت فکرمند ہیں، کیونکہ یہ مسلسل دوسرے سال آنیوالا تباہ کن سیلاب تھا۔ اتنے بڑے پیمانے پر آنیوالے سیلاب کسی بھی ترقی یافتہ ملک کو بھی ہلا سکتے ہیں، بدقسمتی سے پاکستان کوئی امیر اور ترقی یافتہ ملک نہیں، یہی وجہ ہے کہ یہاں کروڑوں افراد انتہائی کسمپرسی کی زندگی گزار رہے ہیں”۔
اور اس بار بھی ایک اور تباہ کن سیلاب کی آمد کے خطرے کا حقیقی امکان موجود ہے، مون سون کی آمد میں اب صرف چند ماہ کا ہی عرصہ باقی ہے۔نصیر میمن پاکستان سول سوسائٹی آرگنائزیشن کے چیف ایگزیکٹو ہیں۔
نصیر(male)”ہرشخص فکرمند ہیں، گزشتہ دو برس کے تجربے سے ثابت ہوتا ہے کہ خطے میں موسم انتہائی متلون مزاج ہوچکا ہے۔ دونوں برسوں میں موسمیاتی پیشگوئی میں اس طرح کے بڑے پیمانے کی تباہی کی بات سامنے نہیں آئی تھی، بلکہ یہ سیلاب تو ہماری توقعات سے بھی زیادہ بڑے تھے”۔
نصیر میمن کا ادارہ سندھ میں سیلاب سے متاثرہ افراد کی مدد کا کام کررہا ہے۔
نصیر(male)”لوگوں کی بحالی نو میں کئی برس لگ سکتے ہیں، اور یہ بھی اسی صورت میں ممکن ہے جب ہمیں آئندہ برسوں میں کسی اور قدرتی آفت کا سامنا نہ ہو”۔
2011ءکے سیلاب کے بعد حکومت پاکستان کو گزشتہ برس یعنی 2010ءکے سیلاب سے سبق سیکھ کر اقدامات نہ کرنے پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا، اب بھی امدادی اداروں کو ڈر ہے کہ حکومت آنیوالی تباہی سے نمٹنے کیلئے تیار نہیں۔ شاہین چغتائی ان خدشات کا اظہار کررہے ہیں۔
شاہین(male)”ماضی سے سبق سیکھتے ہوئے ہمیں متاثرہ برادریوں کو مضبوط بنانا اورانہیں قدرتی آفات سے محفوظ بنانے کیلئے اقدامات کرنے چاہئے۔اس بات کو یقینی بنایا جانا چاہئے کہ لوگوں کی آمدنی اچھی ہو، انہیں معلومات اور سیلاب سے پیشگی اطلاعاتی نظام تک رسائی دی جائے۔ مگر بدقسمتی یہ ہے کہ ہمیں اپنے سامنے پیشرفت ہوتی نظر نہیں آرہی ہے”۔
نصیر میمن حکومت کے بارے میں زیادہ سخت موقف نہیں رکھتے۔
نصیر(male)”ہمیں اس کو سمجھنا چاہئے کہ یہ تباہی بہت بڑے پیمانے پر ہوئی، اس پیمانے کے بحران سے موثر طریقے سے نمٹنا دنیا کی کسی بھی حکومت کیلئے آسان نہیں”۔
تاہم وہ اعتراف کرتے ہیں کہ بہت سی چیزوں کو بہتر بنایا جاسکتا تھا اور ابھی بھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔
نصیر(male)”ہمیں موجودہ صورتحال کی سنگینی کو سمجھنا ہوگا، مگر یہ بات ذہن میں رکھنی چاہئے کہ پاکستان ایسا ملک جسے مختلف
النوع چیلینجز کا سامنا ہے، ان میں سے ایک یہ قدرتی آفت بھی ہے۔ اس کے علاوہ عسکریت پسندی اور سیاسی چیلینجز الگ ہیں”۔
آکسفیم نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ دستیاب وسائل کو استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائے کہ اگر ایک بار پھر سیلابی پانی ملک کو ہدف بنائے تو انسانی امداد کا عمل اطمینان بخش ہو۔ رچرڈ ینگ آکسفیم سے تعلق رکھتے ہیں۔
رچرڈ(male)”اہم چیز ملکر کام کرنا ہے، عالمی برادری، حکومت پاکستان اور مقامی برادریوں کو آنیوالے سیلاب کے لئے تباہی کے بعد کی بجائے قبل از وقت تیار ہوجانا چاہئے”۔
گزشتہ برس کے سیلاب کے بعد اقوام متحدہ نے عالمی برادری سے 356 ملین ڈالر کی اپیل کی، مگر اس کا نصف بھی اکھٹا نہیں ہوسکا۔عالمی برادری کے اس ردعمل نے امدادی سرگرمیوں کو بہت زیادہ متاثر کیا ہے۔رچرڈ ینگ اس بارے میں بتارہے ہیں۔
رچرڈ(male)”اس سے بہت زیادہ اثر پڑا ہے، اقوام متحدہ کی اپیل کے بعد صرف 47 فیصد رقم ہی جمع ہوسکی ہے، جو کہ بہت کم ہے۔ درحقیقت اس وقت اقوام متحدہ اور امدادی ادارے پاکستانی سیلاب متاثرین کیلئے اپنے فنڈز استعمال کرتے ہیں”۔
