پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج خواندگی کا عالمی دن منایا جارہا ہے۔رواں سال اس دن کا موضوع امن اور خواندگی ہے۔ اقوام متحدہ کے زیرتحت گزشتہ چالیس برس سے خواندگی کا عالمی دن منا رہا ہے۔ اس دن کا مقصد خواندگی کی اہمیت کو عالمی سطح پر اجاگر کرنا ہے۔ تعلیم حاصل کرنا ہر انسان کا بنیادی حق ہے۔ اس کے ذریعے انسان خود مختار بنتا ہے اور معاشرے کی ترقی میں اہم کردار ادا کر سکتا ہے۔ اس کے علاوہ زندگی میں ایسے بہت سے مواقع آتے ہیں، جن سے وہ اسی وقت فائدہ اٹھا سکتا ہے، جب وہ لکھنا پڑھنا جانتا ہو۔ یونیسکو کے اعداد و شمار کے مطابق دنیا بھرمیں 774 ملین افراد ایسے ہیں، جو خواندگی کے بنیادی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ ہر پانچ بالغوں میں سے ایک نا خواندہ ہے اور ان میں تقریباً دو تہائی خواتین ہیں۔ یونیسکو کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ 75 ملین بچے اسکول نہیں جا پاتے اور ان بچوں کی تعداد اس سے بھی کہیں زیادہ ہے، جو یا تو باقاعدگی سے اسکول نہیں جاتے یا وہ اسکول چھوڑ چکے ہیں۔ اکیسویں صدی کے پہلے عشرے کے اختتام پر182 ممالک کی فہرست میں شرح خواندگی کے لحاظ سے پاکستان کا نمبر 158 واں ہے جبکہ ایک چوتھائی افریقی ممالک میں بھی شرح خواندگی 70 سے 80 فیصد تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 72 فیصد اسلامی ممالک بھی اس میدان میں پاکستان سے آگے نکل چکے ہیں۔ پاکستان میں موجودہ شرح خواندگی 58 فیصد ہے جبکہ دوسری جانب یورپ اور جنوبی امریکا کے تمام، ایشیا کے 65 فیصد اور دنیا کے نصف سے زائد ممالک میں شرح خواندگی 90 سے 100 فیصد تک پہنچ چکی ہے۔ بدقسمتی سے صرف 20 فیصد اسلامی ممالک ہی اس سطح کی شرح خواندگی کا ہدف حاصل کرپائے ہیں۔ 182 ممالک کی عالمی فہرست میں شرح خواندگی کے حو الے سے پاکستان 159 اور 47 اسلامی ممالک میں 34 ویں نمبر پر ہے۔ ہمارے ہمسایہ اور خطے کے ممالک میں سے مالدیپ میں شرح خواندگی 97 فیصد، چین 95.9، سری لنکا 94.2، بھارت 74، نیپال 68.2، بنگلہ دیش 55.9 اور بھوٹان میں 52.8 فیصد ہے۔