غیر ملکی کاروبار کیلئے کھلنے کے بعد سے برما میں کام کی غرض سے آنے والے غیرملکیوں کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، تاہم برطانوی سامراج کے عہد سے نافذ ملکی شہری نہ ہونے کے حوالے سے سخت رہائشی قوانین کا اطلاق اب بھی ہورہا ہے، جس کی وجہ سے غیرملکیوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ڈیوڈ نے ینگون میں ہاﺅسنگ مشیر کی حیثیت سے کام کرتے ہیں، وہ اس شہر میں تین برس سے مقیم ہیں۔
ڈیوڈ”میرا نہیں خیال کہ رسد میں کوئی بہت زیادہ تبدیلی آئی ہے، اسی طرح میرے خیال میں یہاں غیرملکیوں کی رہائشی سہولیات فراہم کرنے کے لئے زیادہ تیزی سے کام نہیں ہورہا۔ میرے خیال میں ابھی بھی یہاں کافی جگہ موجود ہیں جو کرائے کیلئے دستیاب ہے”۔
برما میں بیشتر افراد گھروں کی تعمیر میں پیسہ لگانے سے ڈرتے ہیں، جس کی وجہ یہاں کافی طویل عرصے تک فوجی حکومت قائم رہنا ہے، جبکہ متعدد افراد ایسے ہیں جو غیرملکیوں کو گھر دینے کی بجائے انہیں خالی رکھنے کو ہی ترجیح دیتے ہیں۔
ڈیوڈ”یہاں بہت سے لوگ ہاتھوں میں پیسے لیکر گھومتے ہیں، میں خود بھی جب پہلی بار یہاں آیا تو رقم میرے ہاتھ میں تھی، مگر اس کے باوجود مجھے کافی عرصہ اپنے سامان کیساتھ گلیوں میں گزارنا پڑا اور جب بھی میں اپنے ایجنٹ کا پاس جاتا تو وہ بتایا کہ فلاں مالک مکان نے ایک غیرملکی کو کرائے پر گھر دینے سے انکار کردیا ہے”۔
جبپاول مینولیٹی نے نئے گھر کی تلاش شروع کی تو انہیں بھی اسی صورتحال کا سامنا ہوا۔
پال”بروکر نے مجھے ایک گھر دکھایا، وہ اچھی جگہ تھی اور ہمارے درمیان قیمت پر بھی اتفاق ہوگیا۔ پھر میں بینک گیا اور اپنی رقم کو مقامی کرنسی میں تبدیل کرایا تاکہ ایک سال کا کرایہ فوری طور پر ادا کردوں۔ پھر میں واپس پہنچا تو مالک مکان نے اپنے وکیل سے بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا، کیونکہ اس سے پہلے اس نے کبھی غیرملکیوں کو اپنی جائیداد کرائے پر نہیں دی تھی اس لئے وہ وکیل سے بات کرنا چاہتی تھی۔ اس وکیل نے غیرملکی شخص کو کرائے پر گھر نہ دینے کا مشورہ دیا، کیونکہ یہ عمل کافی پیچیدہ اور مہنگا ثابت ہوسکتا تھا”۔
متعدد افراد غیرملکیوں کو برما میں گھر دینے کا انتہائی خطرناک سمجھتے ہیں،اس حوالے سے سرکاری قوانین بھی برطانوی عہد سے نافذ چلے آرہے ہیں، جس میں غیرملکیوں کو کرائے پر گھر دینے کا طریقہ کار کافی پیچیدہ رکھا گیا ہے۔ اس سلسلے میں متعدد دستاویزات اور فارمز وغیرہ جمع یا بھرنے پڑتے ہیں، ان کی چار مختلف سطحوں کی اتھارٹیز سے تصدیق کرانا ہوتی ہے، اور یہ کام تنہا کرنا آسان نہیں۔
ڈیوڈ”آپ کو کسی ایسے شخص کی ضرورت ہوتی ہے جو اس پیچیدہ طریقہ کار میں آپ کی مدد کرسکے، یعنی کوئی ایسا برمی دوست جو قطار میں کھڑا ہوسکے یا سرکاری دفاتر میں جاسکے، یا کوئی ایجنٹ اورو نیک دل مالک مکان جو اس کام میں آپ کی مدد کیلئے تیار ہو۔ کچھ مالک مکان کافی اچھے ہوتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ اگر آپ ہمارے گھر میں رہنا چاہتے ہیں تو وہ طریقہ کار کو خود مکمل کرائیں گے، مگر اکثر مالک مکان ایسا کرنا پسند نہیں کرتے کیونکہ اس کیلئے کافی وقت درکار ہوتا ہے”۔
رجسٹریشن کے عمل سے ہرغیرملکی کو برما میں داخلے کے وقت گزرنا پڑتا ہے اور متعدد افراد کو سب کام ٹھیک نہ ہونے پر سزا کا ڈر ہوتا ہے۔ کیا من سن ایک مقامی وکیل ہیں۔
کیا من سن”مالک مکان خطرے کی زد میں ہوتے ہیں، انہیں انتظامیہ کی جانب سے انتظامی طریقہ کار کے دوران انتباہ یا سزا بھی مل سکتی ہے”۔
تاہم ہر قصبے میں اس معاملے کو اتنی سختی سے نہیں نمٹا جاتا، مگر قانون کی حکمرانی مکمل طور پر نہ ہونے کے باعث برمی افراد کو کسی بھی وقت مشکل کا سامنا ہوسکتا ہے۔
کیا من سن)”میرے خیال میں ایک نیا قانون متعارف کراکے پرانے قوانین کو کالعدم قرار دیدینا چاہئے۔ مگر مجھے 2012ءکے بعد سے اب تک کبھی کسی غیرملکی کے خلاف کارروائی کے بارے میں پتا نہیں چلا، یعنی اب کہہ سکتے ہیں کہ صورتحال کافی پرسکون ہوچکی ہے”۔
کئی ہفتوں بعد پال اپنے لئے ایک مکان ڈھونڈنے میں کامیاب ہوگئے، مگر وہ اب بھی کوئی اچھا گھر ڈھونڈنے کی کوشش کررہے ہیں۔
پال”میں متعدد مقامات جاچکا ہوں جن کے بارے میں لوگوں یا ایجنٹوں نے بتایا کہ وہ کرائے کیلئے خالی ہیں، مگر بھی میں وہاں گیا تو مالک مکان کا کہنا تھا کہ یہاں غیرملکی نہیں رہ سکتے، بنیادی طور پر مالک مکان غیرملکیوں سے خوفزدہ رہتے ہیں”۔
برما میں تیزی سے تبدیلیاں آرہی ہیں مگر اب بھی متعدد افراد پرانے نظام کے تحت سزا سے خوفزدہ رہتے ہیں، کیونکہ پرانے قوانین ابھی بھی موجود ہیں۔ ڈیوڈ اس بارے میں اظہار خیال کررہے ہیں۔
ڈیوڈ”میرا نہیں خیال کہ گھروں کے مالکان قوانین سے مکمل طور پر آگاہ ہیں، مجھے نہیں لگتا کہ بروکرز کو بھی قوانین سے آگاہی حاصل ہے، میرے خیال میں یہ ایجنٹ عام افراد سے تو زیادہ باخبر ہوسکتے ہیں مگر پھر بھی تمام چیزیں ان پر واضح نہیں”۔