پاپ گائیکی کے بادشاہ آنجہانی مائیکل جیکسن انتیس اگست انیس سو اٹھاون کو امریکی ریاست انڈیانا میں پیدا ہوئے۔
وہ بہت کم عمر میں ہی ایک اسٹار بننے کی جستجو میں لگ گئے ، انہوں نے ابتدا میں اپنے بھائیوں کے ساتھ بینڈ ’جیکسن فائیو‘بنایااس دوران بین اور گوٹ ٹو بی دئیر جیسے شاندار ہٹ البم دیے۔صرف گیارہ برس کی عمر میں وہ ایک بہترین گلوکار اور ڈانسر کے طور پر اپنا نام منوا چکے تھے۔جیکسن ستر کی دہائی تک دنیا کے ایک بہترین سنگر اور ڈانسر کے طور پر ابھرے اور سپر ہیرو بن گئے۔انیس سو اسی میں ان کے کیرئیر کو وہ عروج حاصل ہواجو بہت کم لوگوں کو حاصل ہوتا ہے۔ سب سے پہلا البم’ آف دی وال‘آیاجس نے بے انتہا مقبولیت حاصل کی،اس کے بعد ’ڈونٹ اسٹاپ ٹل یو گیٹ ان آف‘اس کے بعد’ راک ود یو‘ اور پھر ان سب کے بعد پاپ دنیا میں سب سے زیادہ فروخت ہونے والا البم’تھرلر ‘ آیاجس نے پچھلے سارے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے سات گریمی ایوارڈ حاصل کیے، جبکہ اسے دنیا میں سب سے فروخت ہونے والا البم قرار دے کر گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈ میں بھی شامل کیا گیا ہے۔
نوے کی دہائی میں ان کا البم ڈینجرس سامنے آیا جو بہت زیادہ تو مقبول نہیں ہوا مگر اس کے گیت بلیک اینڈ وائٹ اور ریمیمبر دا ٹائم ان کے چند مشہور ترین گانوں میں شامل ہیں۔
جبکہ 1995ءمیں البم پاسٹ،پریزینٹ اینڈ فیوچر، کے گیت ہائی اسٹوری دے ڈونٹ کیئر ابا وٹ اَس نے دنیا بھر میں دھوم مچائی۔
بعد ازاں ان کے کیرئیر کا زوال شروع ہوا،اورمختلف معاملات نے مائیکل کے کیرئیر کو تقریباً تباہ کرکے رکھ دیا۔
مائیکل جیکسن کی موت 25جون 2008ءکو پچاس سال کی عمر میں لاس اینجلس میں سکون آور ادویات کے بے جا استعمال کے باعث ہوئی۔موت کے بعد جیکسن کو موسیقی کی دنیا میں وہ شہرت ملی جس کے لیے وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں ترستے رہے۔ دو ہزار نو میں ان کی میوزک البم کی فروخت تیراسی لاکھ تھی جو اس سال سب سے زیادہ فروخت ہونی والی البم تھی۔
ما ئیکل جیکسن اب ہم میں نہیں مگر ان کے گیت آج بھی دنیا بھر میں موسیقی کے دلدادہ افراد کو جھومنے پر مجبور کردیتے ہیں۔