No Cremation Rights in Afghanistan)افغانستان میں چتا جلانے کے حقوق دستیاب نہیں

 

افغانستان میں ہندو اور سکھ برادریاں صدیوں سے آباد ہیں، مگر اب انہیں مذہبی عقیدے پر عملدرآمد میں مشکلات کا سامنا ہے۔خصوصاً انکی میتوں کی آخری رسومات کا معاملہ اقلیتی برادریوں کیلئے کافی بڑا مسئلہ ہے۔لاشوں کو نذرآتش کرنا ہندو عقیدے کا حصہ ہے مگر اب یہ رسم ادا کرنا مشکل ہوتا جارہا ہے۔

اوتار سنگھ خالصہ افغانستان کی ہندو اور سکھ کمیونٹی کونسل کے سربراہ ہیں۔

اوتار(male) نو برسوں سے ہم اپنی لاشوں کو جلانے کیلئے جگہ ڈھونڈ رہے ہیں، مگر حکومت ہمارے اس مسئلے کو مسلسل نظر انداز کر رہی ہے”۔

ان دونوں برادریوں کیلئے اپنے پیاروں کی مذہبی عقیدے کے مطابق آخری رسومات ادا کرنا دن بدن مشکل ہوتا جارہا ہے۔

اوتار سنگھ (male) “جب ہماری برادری کا کوئی شخص مرتا ہے تو ہمیں بہت مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔لوگ ہمیں اپنے علاقے میں لاش نذر آتش کرنے کی اجازت نہیں دیتے، یہی وجہ ہے کہ ہم بہت زیادہ رقم خرچ کرکے لاش کو بھارت، پاکستان یا افغانستان کے کسی اور شہر لے جاتے ہیں، وہ لوگ جو یہ مالی بوجھ برداشت نہیں کرسکتے وہ آخری رسومات کی ادائیگی کے دوران سیکیورٹی کیلئے پولیس سے مدد مانگتے ہیں،مگر پولیس کی موجودگی کے باوجود مقامی رہائشی بیلچوں اور کلہاڑوں کے ساتھ ہمیں روکنے کیلیے آجاتے ہیں۔ایسے میں لاش کو چتا پر جلانا ہمارے لیے خطرناک ہوجاتا ہے”۔

کابل میں اس وقت پچاس لاکھ سے زائد افراد رہائش پذیر ہیں، جن میں سے بیشتر ملازمت کے سلسلے میں دوسرے شہروں سے یہاں آئے ہیں۔کابل کا مضافاتی علاقہ qalacha پہلے ہندو و سکھ اکثریتی علاقہ سمجھا جاتا تھا، مگر اب وہاں مختلف مذاہب سے تعلق رکھنے والے بھی رہائش پزیر ہیں۔صرف اس علاقے میں رہائش پذیر ہندوﺅں اور سکھوں کو لاش جلانے کیلئے جگہ دستیاب ہے، جسے شمشان گھاٹ یا مرگھٹ کہتے ہیںاٹھائس سالہ بشیر ایوبی مسلمان ہے جو آٹھ سال قبل صوبہ لوگر سے کابل آیا تھا۔

بشیر(male) “شمشان کے ارد گرد کی تمام زمین پہلے ہندوﺅں کی ملکیت تھی،لیکن انہوں نے یہ دیگر مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد کو فروخت کر دی،اور اب یہ علاقہ مختلف مذاہب کے ماننے والے رہائشیوں پر مشتمل ہے۔جب ہندو کسی لاش کو جلا رہے ہوتے ہیں اور کوئی بچہ وہاں سے گزر جائے تو وہ اسکی بو سے بے ہوش ہو جاتا ہے ۔لاش جلنے کی بو اتنی خراب ہوتی ہے کہ لوگ بیمار ہوجاتے ہیں۔اور یہ ہمارے لیے بہت بڑا مسئلہ ہے”۔

بشیر کا کہنا ہے کہ مقامی افراد کی جانب سے لاش نذر آتش کرنے کی مخالفت کی وجہ مذہبی تعصب نہیں۔

بشیر(male) دس سال قبل شمشان کے قریب کوئی گھر یا دکان نہیں تھی۔ اس وقت کابل کی اپنی آبادی بھی چند ہزار نفوس پر ہی مشتمل تھی، مگر اب صورتحال بالکل مختلف ہے اور شہری آبادی بہت زیادہ بڑھ چکی ہے۔ لاش جلنے کی بو لوگوں کو تنگ کرتی ہے، اسکا مطلب یہ نہیں کہ ہم ہندو اور ان کے مذہب کے خلاف ہیں”۔

یہ شمشان گھاٹ آٹھ ہزار اسکوائر میٹر کھلے میدان پر پھیلا ہے، جس کے ارگرد کچی دیواریں اور پھلوں کے درخت لگت ہوئے ہیں۔اکسٹھ سالہ Jawansher Khaliliکی دکان شمشان کے برابر میں ہے۔وہ لاشوں کو جلانے سے پیدا ہونیوالی بو کے بارے میں بتارہے ہیں۔

خلیلی(male) “آپ ایک کلو گوشت کو جلا کر خود دیکھ لیں کہ اس سے کیسی بو پیدا ہوتی ہے۔یہ عمل اسطرح نہیں جیسے آپ کھانا پکاتے ہیں، بلکہ یہاں تو لاش کو اس تک جلایا جاتا ہے جب تک وہ راکھ میں تبدیل نہ ہوجائے۔انسانی لاشوں کی بو اتنی زیادہ خراب ہوتی ہے کہ میں بیان نہیں کر سکتا ۔اگر کسی انسانی جسم کو آپ کے گھر کے پاس جلایا جائے تو یہ احساس ہی آپ کو مضطرب کر دیتا ہے۔اور جب آپ کو جلے ہوئے جسم کی بو محسوس ہوتی ہے تو آپ بیمار ہوجاتے ہیں اور دل خراب ہوجاتا ہے”۔

کابل میں جب ہندو یا سکھ اپنے پیاروں کی آخری رسومات ادا کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیں، تو وہ دس ہزار ڈالر تک خرچ کرکے لاشوں کو بھارت یا پاکستان بھیجتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ سات برس قبل افغانستان میں رہائش پزیر تین ہزار ہندو اور سکھ خاندان ملک چھوڑ کر چلے گئے تھے،اب صرف 500 سے بھی کم خاندان افغانستان میں مقیم ہیں ،وہ بھی اسی لیے کہ انکا کوئی عزیز رشتہ دار بیرون ملک موجود نہیں۔افغان ہندووسکھ کونسل کا کہنا ہے کہ حکومت انکے حقوق کے تحفظ میں ناکام ہوگئی ہے۔سمیع یوسف زئی ایک مسلمان صحافی ہیں۔جو معروف امریکی جریدے نیوز ویک کیلئے کام کرتے ہیں۔

سمیع(male) “میرے خیال میں ایک ایسا ملک جہاں اکثریتی آبادی کو ہی رہائشی و انسانی حقوق کے حوالے سے متعدد مسائل کا سامنا ہے، وہاں اقلیتوں کے ساتھ بہت زیادہ خراب سلوک حیرت انگیز نہیں۔میرے خیال میں حکومت کو بنیادی ضروریات کی فراہمی کو یقینی بنانا چاہیے اور اقلیتیوں کو انکی رسومات ادا کرنے کیلئے جگہ فراہم کرنی چاہئے۔اگرچہ افغانستان میں ہندو او رسکھوں کی آبادی بہت زیادہ نہیں، مگر وہ بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں اور وہ بھی افغان شہری ہیں”۔

گزشتہ دنوں کابل کی بلدیاتی حکومت نے شہر میںہندوﺅں اور سکھوں کو آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے نئی جگہ فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا۔Khogman Olumi کابل کی بلدیاتی خدمات کے ادارے میں ڈپٹی ڈائریکٹر ہیں۔

 (male) Khogman Olumi “ہم کابل کے مشرقی حصے ،جہاں ہم نے ہندووں اور سکھوں کے شمشان کیلیے نئی جگہ منتخب کی ہے، میں آباد افراد سے بات چیت کر رہے ہیں۔ یہ ایک بڑی جگہ ہے اور رہائشی علاقہ یہاں سے دور ہے، مگر یہ زمین خریدنے میں ہمیں کئی سال لگ گئے، جسکی وجہ مقامی آبادی کے اعتراضات تھے۔اس علاقے کے لوگ ہندووں کو لاشیں جلانے کیلئے یہ جگہ دینے پر راضی نہیں تھے۔مگر اب ہم معاہدے کے قریب ہیں اور جلد ہی یہ مسئلہ حل ہو جائے گا”۔

تاہم اوتار سنگھ خالصہ حکومتی بیانات پر یقین کرنے کیلئے تیار نہیں۔

اوتار سنگھ(male) “ہم نے حکومت کی مجوزہ جگہ کا دورہ کیا ہے، وہاں کے مقامی رہائشیوں نے ہم سے پوچھا کہ ہم یہاں کیا کرنے والے ہیں۔ہم نے انہیں بتایا کہ حکومت ہمیں یہ زمین آخری رسومات کی ادائیگی کیلئے فراہم کر رہی ہے۔جس پر وہ مشتعل ہوگئے اور انھوں ہمیں علاقے سے نکل جانے اور کبھی واپس نہ آنے کا کہا”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *