نیپالی پولیس اہلکاروں کو ملازمتیں برقرار رکھنے کے لئے وزن کم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے، بیشتر نیپالی اہلکار کام کے دوران ورزش نہ کرنے کے باعث موٹاپے کا شکار ہوچکے ہیں، جس پر قابو پانے کے لئے خصوصی یوگا تربیتی کیمپ قائم کیا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
اس وقت صبح کے پانچ بجے ہیں اور چالیس کے لگ بھگ پولیس اہلکار اپنی یوگا کلاسز کا آغاز کررہے ہیں۔ یہ تربیتی کیمپ کھٹمنڈو میں کمیونٹی پولیس کی جانب سے لگایا گیا ہے، اسٹیج پر یوگا سیکھانے والے استاد شرکاءسے بات کررہے ہیں۔
ٹیچر”لوگ کہتے ہیں کہ وزن کھونے سے کچھ نہیں کھوتا، مگر صحت کھو جائے تو سب کچھ کھو جاتا ہے۔یوگا بھی اسی طرح ہے، یہ زندہ رہنے کا فن ہے، اس سے اچھی عادات کو برقرار رکھنے اور شخصیت بنانے میں مدد ملتی ہے، یہ آپ کو مختلف پوزیشنز کی ورزشوں کے ذریعے صحت مند اور چاق و چوبند رکھتی ہے، مجھے توقع ہے کہ اس کیمپ میں آپ میرے کہنے پر عمل کریں گے”۔
اس پانچ روزہ کیمپ کا آغاز جوگنگ اور دو گھنٹے کے یوگا سیشن سے ہوگا،ڈی آئی جی کیشیو ادھیکاری کا کہنا ہے کہ افسران میں موٹاپے کے بڑھتے ہوئے رجحان کیخلاف جدوجہد اہم ہے۔
کیشیو “جب ہمارے پولیس سربراہ اور ٹیم نے مختلف مقامات پر جانچ پڑتال کی، تو ہمیں معلوم ہوا کہ متعدد اہلکار موٹے ہیں۔ ان کی توندیں نکلی ہوئی ہیں، جبکہ اس مقابلے میں مجرم زیادہ مستعد ہیں۔ جسمانی طور پر ان فٹ اہلکار لوگوں کو سیکیورٹی کیسے فراہم کرسکتے ہیں؟ اس کے بعد ہم نے اپنی ٹیم کو وزن کم کرنے اور فٹ رہنے کی ہدایت کی، ہمارے ہیڈکوارٹرز نے بھی اسکی حمایت کی”۔
ساٹھ پولیس اہلکاروں میں موٹاپا ایک بڑھتا ہوا مسئلہ ہے، یہی وجہ ہے کہ وہ وزن کی کمی کیلئے یوگا پر توجہ دے رہے ہیں۔
یوگا کیمپ پولیس افسران کو سیکھایا جارہا ہے کہ کس طرح سانس لی جانی چاہئے اور کسی طرح وہ یوگا کے ذریعے اپنا وزن اور توند کم کرسکتے ہیں۔ کھیما بشواک راما ایک پولیس کانسٹیبل ہیں۔
کھیما”مجھے یہ حکمت عملی بہت پسند آئی ہے، یہ ہمارے معمول کی جسمانی تربیت سے بالکل مختلف ہے، یوگا کلاسز میں ہم رقص کرتے ہیں، موسیقی سنتے ہیں، گیت گاتے ہیں، یہ تفریحی کام ہے”۔
انکا کہنا ہے کہ یوگا سے انہیں اپنی بیماری پر قابو پانے میں مدد ملے گی۔
کھیما “مجھے ہمیشہ سے معدے کے امراض کا سامنا رہا ہے، میں نے مختلف ہسپتالوں میں علاج کروایا مگر کوئی فائدہ نہیں ہوسکا، مگر جب میں نے یوگا کی تربیت شروع کی، تو میرے استاد نے مجھے کہا کہ میں بٹرفلائی پوزیشن کی مشق روزانہ کروں، اس کے بعد سے میں اپنی حالت کو بہتر محسوس کرنے لگی ہوں”۔
گاناپاٹی یوگا ٹرینرز میں شامل ہیں، انکا کہنا ہے کہ پولیس اہلکاروں کا طرز زندگی، کھانے پینے کے اوقات مقرر نہ ہونا اور تناﺅ ان کی صحت پر انتہائی مضر اثرات مرتب کرتے ہیں۔
گانا پٹی “ان اہلکاروں میں تناﺅ پیدا کرنے والے ہارمون بہت زیادہ پائے گئے ہیں، یہ ہر وقت پریشان رہتے ہیں، ہمیشہ آدھے سر کے درد کا شکار رہتے ہیں، اس کے علاوہ کمردرد اور گھٹنوں کا درد بھی عام ہے، کچھ افراد کا علاج ممکن ہے، جبکہ اکثر یوگا کے مشقوں کے ذریعے اپنا وزن کم کرسکتے ہیں”۔
اب تک دو ہزار کے لگ بھگ اہلکاروں نے ان یوگا کلاسز میں شرکت کی ہے، اور پولیس افسرکیشو ادھاری کا کہنا ہے کہ مستقبل میں یوگا مشقوں کو معمول کے کورس کا حصہ بنایا جائے گا۔
کیشوا”ہم نے اپنے اہلکاروں کو تین گروپس میں تقسیم کردیا ہے، ایک وہ جو بہت زیادہ موٹے ہیں، جن کی کوئی مدد نہیں ہوسکتی، دوسرا گروپ وہ جنھیں فٹ ہونے کے لئے معمولی معاونت کی ضرورت ہے۔پہلے مرحلے میں ہم تمام اہلکاروں کو تربیت کیلئے ان گروپس میں شامل کریں گے، ہم اپنے پولیس اہلکاروں کی فٹنس کے حوالے سے کافی فکرمند ہیں”۔
اب واپس کیمپ چلتے ہیں جہاں پولیس اہلکار یوگا ورزشوں کی مشق کررہے ہیں۔پولیس کانسٹیبلکھیما بیسھواک رامایوگا جاری رکھنے کا عزم ظاہر کررہی ہیں۔
کھیما”ہمارا کام ہی ایسا ہے جس میں کھانے، ورزش اور آرام کسی چیز کا کوئی شیڈول ممکن نہیں۔ کئی بار تو ہمیں اپنا کام صبح کے چار بجے شروع کرنا پڑتا ہے، مگر میں نے خود سے وعدہ کیا ہے کہ صبح تین بجے اٹھ کر یوگا کی ورزش کو معمول بناﺅں گی، کیونکہ یہ میری صحت کے لئے اہم ہے”۔