Instant Divorce’ Still Practiced in India – بھارت میں فوری طلاق

بھارتی مسلم خواتین تین طلاقوں کے خلاف جدوجہد کررہی ہیں، اس وقت مسلم مرد ایک وقت میں تین بار طلاق کا لفظ کہہ کر اپنی بیوی سے تعلق ہمیشہ کیلئے ختم کرلیتے ہیں۔ اسی بارے میں جانتے ہیں آج کی رپورٹ میں۔

صبیحہ خان تین سالہ بیٹے کی ماں ہیں، ان کی شادی بائیس سال کی عمر میں ہوئی تھی، تاہم کم جہیز لانے پر انکا شوہر انہیں اکثر تشدد کا نشانہ بناتا تھا۔ دو سال قبل شوہر نے انہیں طلاق دیدی۔

صبیحہ”یہ یکطرفہ طلاق تھی، مجھے میرے شوہر کی جانب سے طلاق کے فیصلے کا خط ملا، مجھے اس سے بہت دھچکہ لگا کیونکہ اس نے کبھی ظاہر نہیں کیا تھا کہ وہ مجھے طلاق دینا چاہتا ہے۔میں نے ایک مقامی مسلم عالم سے رابطہ کیا جو طلاق کے مقدمات دیکھتے ہیں، انھوں نے کہا کہ اس خط کے ذریعے ہی طلاق موثر ہوگئی ہے۔ میرے پاس اپنی قسمت کے اس فیصلے کو قبول کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں رہ گیا تھا”۔

تین بار طلاق کہہ کر مسلم برادری میں زندگی بھر کا رشتہ ایک سیکنڈ یا منٹ میں ختم کردیا جاتا ہے، اب چاہے یہ براہ راست زبان سے نکالے جائیں، خط کے ذریعے یا ایس ایم ایس بھیج کر، طلاق موثر ہوجاتی ہے۔

چھتیس سالہ کشور جہان کی طلاق کو پانچ سال سے زائد عرصہ گزر چکا ہے، مگر چونکہ وہ تعلیم یافتہ نہیں اس لئے وہ کوئی ملازمت تلاش نہیں کرپائیں اور ان کی گزربسر کا سارا بوجھ ان کی ماں کے اوپر ہے۔انکا کہنا ہے کہ مسلم عدالتیں ان مقدمات میں خواتین کا ساتھ نہیں دیتیں۔

کشور”عدالتوں کو خواتین کی حالت کو دیکھنا چاہئے، کیونکہ طلاق کے بعد انہیں مشکلات کا سامنا ہوتا ہے۔فوری طلاق بیشتر خواتین کی زندگیاں تباہ کردیتی ہے، بیشتر واقعات میں طلاق کسی انتباہ کے بغیر ہوتی ہے، اور اگر متاثرہ فریق عدالت کا رخ کرے تو پتا چلتا ہے کہ طلاق تو موثر ہوچکی ہے”۔

قرآن مجید میں شادی کو ایک مقدس بندھن جبکہ بغیر کسی ٹھوس جواز کے طلاق کی حوصلہ شکنی کی گئی ہے، تاہم بھارت میں سینکڑوں خواتین کو سالانہ فوری طلاق کا سامنا ہوتا ہے۔صفیہ اختر ایک این جی او بھارتیہ مسلم ماہیلا اندھولن کی سربراہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ وہ تین طلاقوں پر پابندی کیلئے جدوجہد کررہی ہیں۔

صفیہ”یہ مشق غیر اسلامی اور غیرمنصفانہ ہے۔ یہ قرآنی احکامات کی واضح خلاف ورزی ہے اور یہ انصاف کے خلاف ہے۔ آخر آپ کسی خاتون کو بغیر کسی ٹھوس جواز کے اچانک طلاق کیسے دے سکتے ہیں؟ ان خواتین کو اکثر بچوں کے ساتھ گھر سے نکل جانے کا حکم دیا جاتا ہے”۔

اس این جی او نے حال ہی میں مطلقہ خواتین کے مقدمات کی تعداد کے حوالے سے ایک رپورٹ شائع کی تھی،بیشتر خواتین عدالتوں سے رجوع کرتی ہیں، مگر کچھ مقدمات کئی برسوں تک لٹکے رہنے کے ڈر سے عدالتوں سے باہر تصفیہ کرلیتی ہیں۔

یہ این جی او اس حوالے سے خواتین میں شعور اجاگر کرنے کیلئے عوامی سماعتوں کا انعقاد بھی کراتی ہے۔

صفیہ”طلاق ایسا عمل ہے جس کی اسلام نے سب سے کم حمایت کی ہے او اللہ بھی اسے پسند نہیں کرتا۔ اگر کسی معاملے میں جوڑا مزید اکھٹا رہنا نہیں چاہتا، تو انہیں پہلے ثالث سے رابطہ کرنا چاہئے اور اس کے بعد طلاق کا عمل تین ماہ کے عرصے میں مکمل ہونا چاہئے، وہ بھی اس صورت میں جب مصالحت بالکل ناکام ہوجائے”۔

صفیہ کی این جی او کی جانب سے حکومت پر بھی زور ڈالا جارہا ہے کہ جو عالم دین تین طلاقوں کی حمایت کریں ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔

تاہم مسلم عالم مفتی شیش کے مطابق قرآن مجید میں تین طلاق کے بارے میں وضاحت موجود ہے اور ہر شخص کو قرآنی تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے۔

مفتی شیش”ہر شخص کو قرآن مجید کے مطابق اپنی زندگی گزارنی چاہئے، طلاق کے عمل کے بارے میں قرآن مجید میں آیات موجود ہیں، ایک مسلمان کو طلاق کے معاملے پر ان تعلیمات پر عمل کرنا چاہئے، میرا نہیں خیال کوئی شخص ان طے شدہ اصولوں کے خلاف جاسکتا ہے”۔

صبیحہ خان طلاق کے بعد اپنے والدین کے گھر مقیم ہیں، وہ ایک حکومتی مرکزی میں کام کررہی ہیں، اور وہ کوشش کررہی ہیں کہ ان کی سابقہ شوہر کی مالی معاونت کے بغیر گزر سکے۔

صبیحہ”مرد اپنے حق کا غلط استعمال کررہے ہیں، یہ بغیر کسی قانونی وجہ کے طلاق دیتے ہیں اور نتائج کے بارے میں سوچتے بھی نہیں۔ میری زندگی بکھر چکی ہے اور میں اللہ کی مدد پر بھروسہ کررہی ہوں”۔