Myanmar Traditional Boxing Overshadowed by the Thai Style – تھائی روایتی باکسنگ

دہائیوں سے باکسنگ برما کے اہم قومی کھیلوں میں شامل ہے، تاہم رواں سال دسمبر میں برما میں شیڈول ساﺅتھ ایسٹ ایشیاءگیمز میں یہ کھیل ہی شامل نہیں بلکہ اس کی جگہ تھائی باکسنگ کو جگہ ملی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ساو اوہن مینت سابق برمی نیشنل باکسنگ چیمپئن ہیں۔

ساو”میں باکسنگ کا دیوانہ ہوں اس کے لئے میں نے کافی قربانیاں بھی دی ہیں، جس کے بعد ہی میں گولڈ بیلٹ حاصل کرنے میں کامیاب ہوسکا”۔

وہ سال رواں کے اختتام میں شیڈول ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز میں برما کی نمائندگی کرنا پسند کرتے مگر اب ان کی ساری توجہ مقامی مقابلوں پر مرکوز ہے۔

مینت”میں تھائی باکسنگ کو زیادہ پسند نہیں کرتا، میں اس کے مقابلوں میں حصہ لینا نہیں چاہتا، مجھے صرف برمی روایتی باکسنگ پسند ہیں”۔

برمی باکسنگ میں تھائی باکسنگ جتنی ہی پرانی تاریخ ہے، دونوں کھیل میں کک باکسنگ پر زور دیا جاتا ہے، مگر برمی انداز زیادہ تیز اور پرتشدد ہے، اور اس میں مقابلے کا فیصلہ حریف کے ناک آﺅٹ ہونے پر ہی ہوتا ہے۔ اس کھیل کو عالمی سطح پر فروغ دینے کیلئے نئے اصول اور اسکورنگ سسٹم متعارف کرایا گیا، برمی باکسرز کو تربیت دینے والے یُو ہلا سوئی او اسے ساﺅتھ ایسٹ ایشین گیمز میں شامل کرنے کیلئے مہم چلارہے ہیں۔

یُو”جب ہم نے میانمار باکسنگ فیڈریشن کو اپنی باکسنگ کے بارے میں بتایا، تو اس کا کہنا تھا کہ وہ اس طرز باکسنگ سے آگاہ نہیں، اس لئے وہ ہماری مخالفت نہیں کریں گے، تاہم وہ صرف تھائی باکسنگ کے ایونٹ ہی کو منعقد کرانا چاہتے ہیں، ہماری روایتی باکسنگ سے دیگر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک واقف نہیں”۔

اس کھیل کو حکومت کی بھی زیادہ حمایت حاصل نہیں اور اسپانسرشپ بھی نہ ہونے کے برابر ہے۔ ہلا سوئی اوواپنے روایتی کھیل کو پڑوسی ملک تھائی لینڈ میں فروغ پاتا دیکھنا چاہتے ہیں۔

ہلا سوئی اوو”ہم تھائی لینڈ میں ایک ٹریننگ اسکول کھولنا چاہتے ہیں، ہم وہاں ٹورنامنٹس منعقد کرانا چاہتے ہیں، تاکہ لوگ وہاں آکر ہماری فائٹ کا انداز جان سکیں، اسی طرح ہماری باکسنگ کو شہرت مل سکے گی، بس اس کیلئے صرف مارکیٹنگ کی ضرورت ہے”۔

ڈاون نیو لے معروف روایتی باکسر ہیں، وہ بھی اس خلاءکو بھرنے کی کوشش کررہے ہیں، انھوں نے ایک باکسنگ کلب ٹاپ ون بھی قائم کیا ہے۔

ڈاون”ہم اپنے نوجوان باکسرز کو تعاون فراہم کرنا چاہتے ہیں، اگرچہ میں زیادہ دولتمند نہیں، مگر اپنے امیر دوستوں کی مدد سے میں نے یہ کلب قائم کیا ہے، یہ کلب ہمارے مستقبل کو بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہوگا، میں کبھی اپنے طالبعلموں کی پشت پناہی سے پیچھے نہیں ہٹوں گا”۔
مگر باکسرسا اوہن مینٹ کا کہنا ہے کہ انہیں اپنا کیرئیر آگے بڑھتا دکھائی نہیں دے رہا اور وہ جلد ریٹائر ہوجائیں گے۔

ساو اوہن”میں کسی اور کاروبار کا خواب دیکھ رہا ہوں، کیونکہ ہمیں اپنے کھیل کیلئے حکومت کی جانب سے کوئی تعاون نہیں مل رہا اور ہمارا یہ روایتی کھیل زیادہ مقبول بھی نہیں رہا، آخر ہمیں اپنے خاندانوں کی کفالت بھی کرنی ہے”۔