شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان جنگ کو اب لگ بھگ ساٹھ برس مکمل ہوگئے ہیں، اس عرصے کے دوران دونوں ممالک کے درمیان کیشدگی بڑھی ہے۔ اس حوالے سے شمالی کوریا سے جنوبی کوریا آنے والے پناہ گزینوں کو کافی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، اور انہیں کافی امتیازی سلوک کا سامنا ہوتا ہے، تاہم ایک ادارہ اس صورتحال کو بہتر بنانے کی کوشش کررہا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
ہر ہفتے بروز بدھ لی من یونگ اپنے نئے دوستوں کو انگریزی کلاسوں میں خوش آمدید کہتی ہے،وہ یونیورسٹی کی طالبہ ہے اور اس کا کہنا ہے کہ اس زبان کو سیکھنے سے انکی زندگی تبدیل ہوکر رہ گئی ہے، مگر اب بھی وہ کورین بولنے کو ہی ترجیح دیتی ہے۔
لی”میں انگریزی سیکھ کر بہت لطف اندوز ہوتی ہوں، اس سے مجھے دیگر ممالک کے افراد سے ملنے کا موقع ملتا ہے جو میرے ساتھ ایک اچھے دوست جیسا رویہ اختیار کرتے ہیں، میں ان کے ساتھ بہت اچھا محسوس کرتی ہوں اور میرے خیال میں میری زندگی اب زیادہ دلچسپ ہوگئی ہے”۔
تاہم لی من یونگ کو پہلے انگریزی سیکھنے کا موقع میسر نہیں تھا، وہ ایک شمالی کورین پناہ گزین ہے اور وہ دس برس قبل اپنے خاندان کے بغیر جنوبی کوریا میں داخل ہوئی۔
لی”جب میں پہلی بار آئی تو مجھے ایک ثقافتی دھچکہ لگا، یہاں کا تعلیمی نظام، لوگوں طرز زندگی اور فکر، میرے تصورات سے بالکل مختلف تھا۔ یہاں تک کہ شمالی کورین افراد کے بولنے کا انداز بھی جنوبی کورین عوام سے مختلف ہے، یہی وجہ ہے کہ مجھے یہاں لوگوں سے بات چیت کرنے میں کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا”۔
لی من یونگ کی یہ مفت انگریزی کلاسز ایک این جی او پیپلز فار سکسیسفل کورین ریانفیکیشن ےا مختصر اً پی ایس سی او آر ای کے تعاون سے ہورہی ہیں۔ یہ این جی او جنوبی و شمالی کورین افراد کے درمیان ثقافتی و تعلیمی خلاءکو پر کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ اس این جی او کے بانی کم جونگ یل خود ایک پناہ گزین ہیں جو 2001ءمیں جنوبی کوریا آئے تھے۔
کم جونگ ال”نوجوان پناہ گزینوں کو یہاں کے تعلیمی نظام میں جگہ بنانے میں کافی مشکلات کا سامنا ہوتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ شمالی کوریا میں تعلیمی معیار کافی ناقص ہے، اس لئے وہ یہاں آکر خود کو کافی پیچھے محسوس کرتے ہیں۔ شمالی کوریا میں ہمیں صرف لیڈرزکم ال سونگ یا کم جونگ یل کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے۔ تمام مضامین ان رہنماﺅں کی عظمت اجاگر کرنے کیلئے ہوتے ہیں، اور لگتا ہے کہ پورا تعلیمی نظام اسی نقطہ کے گرد گھوم رہا ہے”۔
دو ہزار چھ میںپی ایس سی او آر ای کے قیام کے بعد سے اس کے تحت چھ سو شمالی کورین نوجوانوں کو مختلف کورسز کرائے گئے ہیں، ان میں انگریزی، کمپیوٹر اور ریاضی کے کورسز شامل ہیں۔ کم یونگ یل کا کہنا ہے کہ یہ وہ کورسز ہیں جو جنوبی کورین یونیورسٹیوں میں داخلے اور یہاں کے مسابقتی معاشرے میں بقاءکیلئے ضروری ہیں۔ جنوبی کوریا کی وزار ت یونیفیکیشن کے مطابق شمالی کورین پناہ گزینوں میں بے روزگاری کی شرح ساڑھے سات فیصد کے قریب ہے، جو کہ قومی اوسط سے دوگنا زائد ہے۔ اسی طرح جو پناہ گزین ملازمتیں حاصل کرنے میں کامیاب رہتے ہیں انہیں دیگر مقامی شہریوں کے مقابلے میں کم تنخواہیں دی جاتی ہیں، تاہم کم کا کہنا ہے کہ شمالی کورین افراد کو تعلیم کے ساتھ دیگر چیلنجز کا بھی سامنا ہے۔
کم”ہمیں جنوبی کورین افراد کے امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ہمیں ایک غریب تارکین وطن ہی سمجھا جاتا ہے، یہی وجہ ہے کہ کچھ شمالی کورین افراد اپنے ملک کے بارے میں جھوٹ بولتے ہیں اور وہ کہتے ہیں کہ چین کے قبائلی کورین گروپ سے تعلق رکھتے ہیں، کیونکہ ان کے خیال میں اس سے ان کے ساتھ بہتر سلوک ہوگا”۔
شن من نیو جنوبی کوریا میں ان پناہ گزینوں کی بحالی نو کیلئے قائم گروپ سائی جووی اینیشیٹو فار نیشنل انٹیگریشن کی سربراہ ہیں، انکا کہنا ہے کہ شمالی کورین افراد کے بارے میں لوگوں کی سوچ میں کافی غلط تصورات پائے جاتے ہیں۔
شن”مقامی افراد شمالی کورین حکومت اور شمالی کورین شہریوں کو ایک ہی نظر میں دیکھنے کے عادی ہیں، لوگوں کے خیال میں ہم شمالی کوریا کو جو امداد دیتے ہیں وہ ضائع جاتی ہے اور وہ ہمیں دھوکہ دیتے ہیں۔ اس خیال نے شمالی کوریا مخالف جذبات کو فروغ دیا ہے جس کا سامنا پناہ گزینوں کو کرنا پڑتا ہے اور ان کے ساتھ امتیازی سلوک شروع ہوجاتا ہے”۔
انکا کہنا ہے کہ اس ناانصافی کا خاتمہ تعلیمی نظام سے ممکن ہے جس میں جنوبی کورین افراد کو سمجھا جایا جائے کہ وہاں کی حکومت اور عوام کے درمیان کیا فرق ہے۔
پی ایس سی او آر ای کی کلاسز میں غیر ملکی رضاکاروں کیساتھ جنوبی کورین افراد بھی شمالی کورین پناہ گزینوں کو تعلیم دینے کا کام کرتے ہیں۔کم گنا بھی تین ہفتوں سے یہ کام کررہی ہیں۔ وہ اس بات سے اتفاق کرتی ہیں کہ بیشتر جنوبی کورین افراد کو ان پناہ گزینوں کی کوئی پروا نہیں، تاہم اگر یہ لوگ ان کے قریب آئیں تو ان کی رائے بدل جائے گی۔
گنا”جب میں اپنے جنوبی کورین دوستوں کو بتاتی ہوں کہ میں شمالی کورین پناہ گزینوں کو پڑھا رہی ہوں، تو وہ میرے بارے میں فکرمند ہوجاتے ہیں۔ وہ مجھے کہتے ہیں کہ کیا وہ لوگ مجھے تنگ تو نہیں کرتے یا گھورتے تو نہیں، جس پر میں کہتی ہوں وہ بھی ہمارے جیسے عام انسان ہیں، جو کام کرتے ہیں اور بالکل ہمارے جیسے ہیں۔ ہماری آپسی مشابہت نے مجھے واقعی بہت حیران کیا ہے”۔
لی من یونگ کا کہنا ہے کہ پی ایس سی او آر ای میں جنوبی کورین افراد سے ملاقاتوں نے اس کے ذہن کو مزید کھول دیا ہے۔
لی”جب سے میری پی ایس سی او آر ای میں جنوبی کورین رضاکاروں سے ملاقات ہوئی ہے، مجھے لگتا ہے کہ میں نے جنوبی کوریا کے بارے میں کافی کچھ سیکھا ہے، جو اس سے پہلے مجھے معلوم نہیں تھا۔ اس سے پہلے میں جنوبی کورین شہریوں کے بارے میں کافی غلط تصورات رکھتی تھی اور مجھے لگتا تھا کہ ان سب کے دو چہرے ہوتے ہیں، مگر اب مجھے ایسا نہیں لگتا”۔