برما میں مسلمانوں کے خلاف بدھ بھکشوﺅں کا تشدد جاری ہے اور حکومت کی جانب سے ہی مسلم برادری کو ہی نشانہ بنایا جارہا ہے، حال ہی میں سات مسلمانوں کو ان جھڑپوں کا ذمہ دار قرار دیکر قید کی سزا سنا دی گئی۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
تھندر ہلا اور انکا خاندان ایک بار پھر اس جگہ واپس لوٹ رہے ہیں، جہاں انھوں نے اپنی پوری زندگی گزاری ہے، برما کے علاقے میختلا میں نسلی فسادات کے بعد انکا خاندان ایک ماہ تک ایک اسٹیڈیم میں مسلم برادری کیلئے قائم پناہ گاہ میں مقیم رہا تھا۔
تھندر”جب میں اپنے گھر واپسی پہنچی تو میری آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے”۔
بیس مارچ کو شروع ہونے والے فسادات کے بعد یہ خاندان اپنا گھر چھوڑ کر بھاگنے پر مجبور ہوگیا تھا، یہ فسادات ایک مسلم سنار کی دکان میں مالک اور دو بدھ صارفین کے درمیان جھگڑے سے شروع ہوا، اس لڑائی کے دوران ایک بدھ بھکشو ہلاک ہوگیا، جس کے بعد برما بھر میں فسادات پھیل گئے۔ بدھ بھکشوﺅں نے مسلم برادری کے متعدد گھروں کو نذر آتش کردیا، جبکہ درجنوں افراد بھی مارے گئے۔ ان فسادات میں کم از کم 43 افراد ہلاک اور تیرہ ہزار مسلم افراد بے گھر ہوگئے۔
مسلم برادری کو ان فسادات میں بہت زیادہ نقصانات کا سامنا ہوا ہے اور اب بھی متعدد اپریل سے مختلف پناہ گاہوں میں رہنے پر مجبور ہیں، ابھی بھی ان کی جلد گھروں کو واپسی کا امکان نظر نہیں آتا۔ تاہم اب کچھ مسلمان خاندان جن کے گھر محفوظ رہے، اپنے گھروں کو واپس لوٹ رہے ہیں۔
تھندر”اب یہاں فوجی اور پولیس اہلکار کھڑے ہیں، اب میں بے فکری سے سو سکتی ہوں”۔
مسلم برادری کے علاقوں میں خصوصی سیکیورٹی چیک پوسٹیں قائم کردی گئی ہیں، تاہم حکومتی اقدامات کے باوجود بدھ افراد اور مسلم برادری کے درمیان تعلقات معمول پر نہیں آسکے ہیں۔
تھندر”جب بدھ افراد نے ہمیں دیکھا، تو انھوں نے ہمیں نظرانداز کردیا اور لگتا ہی نہیں کہ وہ ہم سے کوئی تعلق رکھنا چاہتے ہیں”۔
اونگ کھن ایک بدھ شہری ہیں۔
کھن”ماضی میں ہم آپس میں بات چیت کرتے تھے، ہمارے درمیان کوئی تنازعہ نہیں تھا، تاہم ان فسادات کے بعد ہمارے درمیان بات چیت ختم ہوچکی ہے”۔
اونگ کھن نے اسی علاقے میں پوری زندگی گزاری ہے، انکا کہنا ہے کہ ان کے متعدد دوست مسلمان ہیں، تاہم فسادات کے بعد سے تعلقات میں دراڑیں پڑگئی ہیں۔
کھن”اب ہم ایک دوسرے پر اعتماد نہیں کرسکتے، وہ ہم پر اعتماد نہیں کرتے، ماضی میں ہم لوگ اکھٹے کام کرتے تھے، ہم ان کی دکانوں سے سامان خریدتے تھے، ہم ایک دوسرے سے تجارت کرتے تھے اور دوست تھے، مگر فسادات کے بعد سے ہمارے درمیان اعتماد ختم ہوچکا ہے”۔
اونگ اورتھندر ہلا کی کوشش ہے کہ وہ ایسی دکانوں سے ہی راشن خریدیں جو ان کے ہم مذہبوں کی ہوھن ای ہیو،تھندرہلا کی بیٹی ہیں۔
ہن”پہلے میں اپنی مرضی سے کچھ بھی کرسکتی تھی، مگر اب مجھے ماضی جیسی آزادی دستیاب نہیں”۔
حکومت کا کہناہ ے کہ وہ تشدد کے نتیجے میں تباہ ہونے والے گھروں کی تعمیر کرے گی، مگر ابھی تک یہ تعمیرنو مکمل نہیں ہوسکی ہے۔یہی وجہ ہے کہ بیشتر افراد پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہے۔