Hazara Music Silenced in Pakistan – پاکستان ہزارہ برادری

بلوچستان میں ہزارہ برادری سے تعلق رکھنے والے گلوکار و موسیقار بھی ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بن رہے ہیں، جس کے باعث انھوں نے دوبارہ کنسرٹ کرنے کی توقع ہی ختم کردی ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

ہزارہ کی گلیاں بالکل خاموش ہیں، دوپہر کا وقت ہوچکا ہے مگر گلیاں بالکل سنسان پڑی ہیں۔

ہم لوگ اس وقت کوئٹہ کے مضافات میں واقع ایک رہائشی علاقے میں موجود ہیں، یہاں بیشتر رہائشی ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں۔

ہم نے اس قصبے کے ایک معروف ہزارہ گلوکار کے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، جس پر ایک جھری سے کسی نے ہمارا جائزہ لیا، چند منٹ بعد چودہ سالہ فریدوں یوسف آذاد نے دروازہ کھول دیا۔

فریدوں خوفزدہ نظر آرہا تھا اور اس نے فوری طور پر دروازہ بند کردیا۔

فریدوں حبیب یوسف زادہ کا بیٹا ہے، جو کوئٹہ کے مقبول ترین ہزارہ گلوکاروں میں سے ایک ہیں، مگر اب وہ کبھی کبھار ہی گاتے ہوئے نظر آتے ہیں، روزگار کیلئے انھوں نے ایک دکان چلانا شروع کردی ہے۔

حبیب یوسف زادہ”پاکستان میں ہر شخص میرے بیٹے، میرے خاندان اور خود میرے خلاف نظر آتا ہے، جسکی وجہ ہمارا ہزارہ برادری سے تعلق ہے۔ یہاں لوگ بغیر کسی وجہ سے ہزارہ افراد کو قتل کردیتے ہیں، ہم پر کئی بار حملہ ہوچکا ہے، جس کی وجہ ہمارا فن موسیقی سے تعلق ہے اور یہاں لوگ فن موسیقی کو پسند نہیں کرتے”۔

یہ خاندان 1990ءکی دہائی میں افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد فرار ہوکر یہاں آیا تھا، مگر پاکستان میں بھی انہیں مشکل حالات کا سامنا ہے۔ لشکر جھنگوی نامی عسکریت پسند گروپ ہزارہ برادری پر ہونے والے حملوں میں ملوث ہے۔فریدوں پر گزشتہ برس ایک میوزک ایونٹ میں شرکت کے بعد حملہ ہوا تھا۔

فریدوں”ایک شام دو نوجوانوں نے ہمارا دروازہ کھٹکھٹایا، جب میں دروازہ کھول کر باہر گیا، تو انھوں نے پوچھا کہ کیا تم فریدوں ہو؟ میں نے کچھ نہیں کہا اور پھر وہ مجھے مارنے لگے۔ ایک نوجوان نے مجھے گولی ماردی، جس کے بعد میں خود کو بچانے کے لئے گھر کی طرف بھاگا، جبکہ وہ نوجوان اپنی موٹرسائیکل پر بیٹھ کر فرار ہوگئے۔ مجھے اب بھی اپنے جسم پر اس گولی کا درد محسوس ہوتا ہے”۔

بیشتر ہزارہ افراد آسٹریلیا میں سیاسی پناہ لینے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم فریدوں اور ان کے والد اس کی سکت نہیں رکھتے۔

فریدوں”میرے والد ایک گلوکار ہیں اور میں بھی بچپن سے ہی اس کام کو پسند کرتا ہوں۔ مجھے موسیقی سے محبت ہے اور میں اسے سیکھنے کیلئے سخت محنت کررہا ہوں، میں ایک اچھا گلوکار بننا چاہتا ہوں اور چاہتا ہوں کہ ایک دن یہ معاشرہ میری عزت کرے”۔

محمد ادریس ایک ہزارہ صحافی ہیں، انہیں خطرہ سمجھنے پر ایک نجی چینیل کی ملازمت سے نکال دیا گیا تھا، وہ ہزارہ گلوکاروں کے بارے میں اظہار خیال کررہے ہیں۔

محمد ادریس”ہم لوگ موسیقی پر پابندی نہیں لگاتے،پاکستان کے بیشتر معروف گلوکار و موسیقار ہزارہ برادری سے تعلق رکھتے ہیں، تاہم اب تک سینکڑوں ہزارہ افراد کو ہلاک یا زخمی کیا جاچکا ہے، یہی وجہ ہے کہ نوجوان میوزک کنسرٹ سے منہ موڑنے لگے ہیں۔ وہ بنیاد پرست بن رہے ہیں، اور موسیقی کے پروگراموں کی بجائے مذہبی اجلاسوں میں شرکت کو ترجیح دے رہے ہیں۔ یہ لوگ میوزک کنسرٹ کرانے والے افراد کو کافر قرار دے رہے ہیں”۔

طیبہ سحر ایک معروف شاعرہ ہیں، جو ہزارہ برادری کی کو درپیش مشکلات پر لکھ رہی ہیں۔انہیں فکر ہے کہ والدین اپنے بچوں خصوصاً لڑکیوں کو جانوں کو لاحق خطرات کے ڈر سے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت نہیں دیں گے۔

طیبہ”میں نے اپنی نظموں میں لکھا ہے کہ حکومت اور عالمی برادری خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں، وہ ہزارہ برادری کو درپیش حالات پر کچھ نہیں کررہے ہیں، وہ ہم پر بالکل توجہ نہیں دے رہے، میں نے اس خوفناک صورتحال کے بارے میں تفصیل سے لکھا ہے”۔

عدیلہ فضاءچوتھی جماعت کی طالبہ ہے، وہ کوئٹہ میں ہزارہ برادری کے ایک اسکول میں زیرتعلیم ہے اور اس وقت وہ ایک نئی نظم پڑھ کر سنا رہی ہے۔

عدیلہ فضائ”میں اپنی تحریروں سے پوری دنیا کو ہزارہ افراد کو درپیش مشکلات اور دکھ سے واقف کرانا چاہتی ہوں، میں اپنے آواز اٹھانا چاہتی ہے، اگر مجھے کبھی بھی ہزارہ افراد کیلئے لڑنے کا موقع ملا، چاہے وہ مباحثے میں ہو، شاعری، موسیقی یا کچھ اور میں اپنی آواز اٹھاتی رہوں گی”۔

مگر متعدد افراد کو خدشہ ہے کہ انہیں ہزارہ گلوکاروں کو سننے کا موقع طویل عرصے تک نہیں مل سکے گا۔

فریدوں”میں چاہتا ہوں کہ میرے گانے سنتے ہوئے لوگ اپنی مشکلات کو بھول جائیں، میں ان دکھی لوگوں کیلئے گانا چاہتا ہوں، مگر کچھ حلقے اسے پسند نہیں کرتے اور وہ ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں۔ مجھے ڈر ہے کہ کہ وہ مجھے مار دیں گے، مگر میں موسیقی سے بھی محبت کرتا ہوں، اور میں اپنی موت تک موسیقی کے ساتھ جینا چاہتا ہوں”۔