Mothers Fear for Their Children Following Rape of 5-year-old in India – بھارت میں پانچ سالہ بچی سے زیادتی

نئی دہلی میں ایک طالبہ سے اجتماعی زیادتی کے واقعے کو اب کئی ماہ گزر چکے ہیں، تاہم اب ایک بار پھر بھارت زیادتی کے سفاکانہ واقعے کی وجہ سے خبروں کی سرخیوں میں ہے۔ اس بار ایک پانچ سالہ بچی ہدف بنی ہے، اسے پہلے بند کرکے تشدد کیا گیا اور پھر زیادتی کی گئی۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

سینکڑوں مظاہرین کا نئی دہلی میں پولیس ہیڈکوارٹر کے باہر اہلکاروں سے تصادم ہورہا ہے، یہ لوگ رکاوٹیں ہٹا کر اندر داخل ہونا چاہتے ہیں اور انکا مطالبہ ہے کہ شہر کے پولیس کمشنر کو فوری طور پر ہٹایا جائے۔ رنجنا کماری ان مظاہرین میں شامل ہیں۔

رنجنا”انہیں کوئی فکر نہیں، وہ کسی کو روکنے کیلئے تیار نہیں، ہمیں پولیس والوں کی بے حسی صاف نظر آرہی ہے، ان کے ذہن بند ہیں اور یہ ہمارے لئے قابل برداشت نہیں”۔

اسی طرح کے مظاہرے پارلیمنٹ ہاﺅس، وزیراعظم کی رہائشگاہ اور دیگر شہروں میں بھی ہورہے ہیں، یہ مظاہرے اس وقت شروع ہوئے جب دہلی میں ایک پانچ سالہ بچی سے زیادتی کا واقعہ سامنے آیا۔والدین کے مطابق یہ بچی اپنے گھر کے باہر کھیل رہی تھی کہ اسے اغوا کرلیا گیا۔ دو روز بعد اسے ایک پڑوسی کے گھر میں اس حالت میں بندھا ہوا پایا گیا کہ اس کا جسم اپنے ہی خون میں نہایا ہوا تھا۔ طبی معائنے نے تصدیق کی کہ بچی کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے۔آر کے بسل نئی دہلی کے سوامی دیانند ہسپتال کے ایک سرجن ہیں۔

آر کے بسل”ہم نے اس کے جسم کے اندر سے بڑی مقدار میں تیل اور موم بتیاں ڈھونڈیں۔ اس کی وجہ سے اسکے جسم کے نازک اعضاءبری طرح متاثر ہوئے ہیں”۔

انکا مزید کہنا ہے کہ بچی کے جسم پر ایسے نشانات بھی ملے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے ملزمان نے اسے مارنے کی بھی کوشش کی۔ متاثرہ بچی کے والدین کا کہنا ہے کہ پولیس نے ابتداءمیں بچی کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرنے سے انکار کردیا تھا، بعد ازاں بچی کے ساتھ ہونے والے خوفناک ظلم کا انکشاف ہوا تو پولیس نے انہیں خاموش رہنے کیلئے رقم کی پیشکش بھی کی۔

والد”انکا کہنا تھا کہ آخر تم اس معاملے پر اتنا شور کیوں مچارہے ہو؟ کوئی اور اس معاملے میں کیا کرسکتا ہے؟ کسی کو اس بارے میں نہ بتاﺅ، وہ کچھ بھی نہیں کرسکتے۔ اس کے بعد انھوں نے ہمیں کچھ رقم دی اور کہا کہ اسے رکھو اور کچھ خوراک لاﺅ اور اپنی بچی کا خیال رکھو”۔

اس معاملے نے پارلیمنٹ کو بھی ہلا کر رکھ دیا، جبکہ اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے دارالحکومت میں امن و امان کی ناقص صورتحال پر حکومت کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ سمرتی ایرانی اپوزیشن جماعت بی جے پی کی رکن پارلیمنٹ ہیں۔

سمرتی ایرانی”میں خود بھی ایک نوسالہ بچی کی ماں ہوں اور میں اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھ سکتی جب تک میں فون پر یہ نہ معلوم کرلوں کہ میری بیٹی محفوظ ہے۔ میری جیسی تمام ورکنگ خواتین یا تمام گھریلو خواتین اپنی بیٹیوں کی اسکولوں یا کالجز سے بحفاظت واپسی تک پریشان رہتی ہیں۔ ہر بھارتی آج خوفزدہ ہے اور پوچھ رہا ہے کہ اسکے بچے محفوظ ہیں یا نہیں؟ کیا ان سب کو بناءکسی خوف کے زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے، کیا وہ یقین کرسکتے ہیں کہ ان کے بچے جہاں بھی ہیں وہ محفوظ ہیں؟”

پولیس نے اب دونوں مشتبہ ملزمان کو گرفتار کرلیا ہے، جبکہ حکام نے متاثرہ بچی کے والدین کی شکایت پر توجہ نہ دینے والے کچھ پولیس اہلکاروں کیخلاف ایکشن لیا ہے۔ متعدد اراکین پارلیمنٹ نے بھی دہلی کے پولیس کمشنر کے استعفے کا مطالبہ کیا ہے، تاہم کمشنر نیرج کمار نے اسے مسترد کردیا ہے۔

نیرج کمار”مسئلہ ذہنی بدکاری، ذہنی مریضوں اور ذہنی بیماری کا ہے، اور یہ کسی ایک کے مستعفی ہونے سے حل نہیں ہوسکتا۔کم از کم پولیس کے سربراہ کے استعفے سے تو نہیں”۔

بھارت میں حال ہی میں خواتین کے خلاف جنسی جرائم کے حوالے سے ایک سخت قانون متعارف کرایا گیا ہے، اس کے علاوہ حکومت نے گزشتہ برس دہلی میں ہی ایک طالبہ سے چلتی بس میں اجتماعی زیادتی کے واقعے کے بعد خواتین کے تحفظ کیلئے متعدد اقدامات نافذ کئے ہیں، تاہم جنسی حملوں کی شرح میں بھی ڈرامائی اضافہ ہوا ہے، اور اقلیتی فرقے خاص طور پر ہدف بن رہے ہیں۔سماجی کارکن البینا شیکل کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ خواتین کی عوامی زندگی میں شمولیت بڑھنا ہے۔

البینا”خواتین کے کردار میں عظیم ترین تبدیلی آئی ہے، ہزاروں برسوں سے انہیں گھروں میں قید رکھا جاتا تھا، بچوں اور خاندان کے دیگر افراد کی دیکھ بھال ان کی ذمہ داری تھی، مگر اب وہ عوامی زندگی میں دانشور، پیشہ ور اور لیڈرز کی حیثیت سے شریک ہیں۔ ایک طرف وہ باہری دنیا سے اپنے حقوق کا مطالبہ کررہی ہیں، وہیں دوسری جانب وہ گھروں کے اندر اپنے اوپر لادے گئے اضافی بوجھ کے خلاف بھی آواز اٹھا کر تبدیلی کی خواہشمند ہیں۔ اس تبدیلی کیخلاف کافی مزاحمت موجود ہے، اور جنسی تشدد کے ذریعے انہیں یاد دلانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ وہ صرف مردوں کی دلبستگی کیلئے پیدا ہوئی ہیں وغیرہ وغیرہ”۔

حالیہ مظاہروں میں پولیس کے اندر بنیادی اصلاحات کا مطالبہ بھی کیا جارہا ہے مگر تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تازہ واقعات کا ذمہ دار صرف پولیس کو ٹھہرانا ناانصافی ہے۔ منوج کمار جھا دہلی یونیورسٹی کے پروفیسر ہیں۔

منوج کمار جھا”جب ہم ان مسائل پر احتجاج کرتے ہیں تو ہم اداروں جیسے پولیس، سیاستدانوں اور پارلیمنٹ کو مرکز بناکر ان میں موجود کمزوریوں کی نشاندہی کرتے ہیں۔ مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ امر بھی اہمیت رکھتا ہے کہ ہم اپنی ذات کا بھی جائزہ لیں، کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ نوے فیصد سے زائد یہ واقعات بنددروازوں کے پیچھے ہوتے ہیں، یعنی ہمارے گھروں کی چار دیواری میں، جن میں وہ لوگ ملوث ہوتے ہیں جو متاثرہ فریق کے جاننے والے ہوتے ہیں۔ یہ صرف پولیس کی ناکامی نہیں بلکہ یہ سوچ تبدیل کرنے میں ناکامی کا بھی مظہر ہے”۔