Call center workers: the new breed of heroes? – فلپائنی کال سینٹر ورکرز

فلپائن نے بھارت کو پیچھے چھوڑ کر دنیا میں کال سینٹرز کا دارالحکومت بننے کا اعزاز حاصل کرلیا، انگریزی بولنے والے کی بھرمار اور مغربی ثقافت سے قربت کے باعث فلپائن کال سینٹرز کیلئے دنیا کا نمبرون مقام بنتا جارہا ہے۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

فلپائن کال سینٹرز قائم کرنے کی خواہشمند عالمی کمپنیوں کی اولین ترجیح بنتا جارہا ہے۔

ایک کمرے میں قطار سے کمپیوٹر رکھے ہیں، ہر شخص اپنے سروں پر ہیڈ سیٹ لگائے دنیا کے مختلف حصوں سے آنیوالی فون کالز کا جواب دے رہا ہے ۔ یہ لوگ اس وقت بھی کام کررہے ہوتے ہیں جب اکثر لوگ سو چکے ہوتے ہیں۔

جانا کیلیبرٹ، ایمسٹرڈم کی لیکچرار ہیں، وہ فلپائنی کال سینٹر کے استعمال کا فائدہ بتارہی ہیں۔

کیلیبرٹ”اصل کشش اس حقیقیت میں پوشیدہ ہے کہ یہاں بہت بڑی تعداد میں انگریزی بولنے والی باصلاحیت ورک فورس موجود ہے، اور ان کی انگریزی سمجھنا امریکی شہریوں کیلئے سمجھنا بہت آسان ہے۔ دوسری بات یہ ہے کہ یہ افرادی قوت تعلیم یافتہ ہے جس سے انہیں کال ٹرانسفر سے متعلق کام سمجھنا آسان ہوجاتا ہے، جبکہ شمالی امریکی ثقافت سے قربت کے باعث بھی وہ رابطہ کرنے میں کافی مددگار ثابت ہوتے ہیں”۔

رونی زچس ایک امریکی کمپنی پی سی ایم کے جنرل منیجر ہیں۔

رونی”آپ کو معلوم ہے کہ یہاں نوجوانوں کو وہ مضبوط بنیاد حاصل ہے جو کسی شخص کو متعدد مضامین کی تعلیم حاصل کرکے عوامی رابطوں کو سیکھتے ہیں، جس سے انہیں آسٹریلیا، یورپ، انگلینڈ، آئرلینڈ اور میرے ملک امریکہ کے لوگوں سے رابطہ کرنے میں مدد ملتی ہے”۔

کال سینٹر کی صنعت اب سیاحت اور ترسیلات زر کے بعد فلپائن کیلئے ڈالرز کمانے والا تیسرا بڑا شعبہ بن چکا ہے۔کم از کم چار سو ڈالرز ماہانہ تنخواہ پانے والے آٹھ لاکھ ورکرز اس صنعت کا حصہ بنے ہوئے ہیں۔ چوبیس سالہ ماریہ کوسپکن اینڈریس نے کمیونیکیشن آرٹس میں گریجویشن کی ہے، انھوں نے چار سال قبل کال سینٹر انڈسٹری میں شمولیت اختیار کی۔

ماریہ”ایمانداری کی بات تو یہ ہے کہ یہاں تنخواہیں بہت اچھی ملتی ہیں۔ اس سے قبل مجھے مقامی ملازمتوں میں تجربہ ہوا تھا کہ ہمیں تنخواہیں اور مراعات بہت دی جاتی تھیں۔ اس کے مقابلے میں غیرملکی کمپنیاں ہمیں زیادہ مراعات دے رہی ہیں یہی وجہ ہے کہ میں مقامی کمپنیوں کے مقابلے میں ملازمت کیلئے انہیں ترجیح دوں گی”۔

تاہم ایک کال سینٹر ورکر لوئی ڈیلوسٹریکو کا کہنا ہے کہ یہ کام بہت پرتناﺅ ہے۔

لوئی”پہلی بات تو یہ ہے کہ ہمیں دن کے اوقات میں سونا پڑتا ہے، جسکی وجہ رات کی ڈیوٹی ہے۔ اور دوسرا معاملہ صارفین ہیں۔ متعدد صارفین بہت زیادہ چڑچڑے ہوتے ہیں، جن سے بات کرنے کیلئے آپ کو بہت زیادہ تحمل کی ضرورت ہے، خصوصاً اس وقت جب کوئی صارف آپ پر چیخ چلا رہا ہو”۔
فلپائن یونیورسٹی کی محقق لین مارسیگن کا کہنا ہے کہ اس کے صحت پر بھی مضر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

مارسیگن”یہ کام کی نوعیت کا نتیجہ ہوتا ہے۔ آپ ہر وقت فون کالز کا جواب دیتے رہتے ہیں، جس کے صحت پر بہت برے اثرات پڑتے ہیں، مثال کے طور پر گلا سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے، اور جب آپ بدمزاج صارفین سے بات کرتے ہیں تو وہ وقت ذہنی صحت کو متاثر کرتا ہے”۔

یہ ایک ممتاز کال سینٹر کمپنی کا ایک اشتہار ہے، جس میں اس نے اپنے ورکرز کو ہیروز کی نئی نسل قرار دیا ہے۔ یہ وہ ہیروز ہیں جو اپنے خاندان اور سماجی زندگی کی قربانی دیکر ملکی معیشت کو بہتر اور اپنے خاندانوں کی فلاح کو یقینی بناتے ہیں۔

غیر متوقع کام کے اوقات کی وجہ سے یہ ورکرز دن کے اوقات میں مذاق کرتے نظر آتے ہیں۔ اس وقت صبح کے نو بجے ہیں اور رونی زچس اپنی شفٹ ختم ہونے بعد اپنے ساتھیوں سے بات چیت کررہا ہے۔

رونی”میں رات کو دس بجے کام پر آیا تھا، میں دیگر تمام افراد کی طرح ساری رات یہاں رہا، یہ کام بہت سخت ہے، مگر میں اسے پسند کرتا ہوں۔ خیر اب اس بات چیت کو ختم کرتے ہیں کیونکہ مجھے نیند آرہی ہے”۔