More Female Shopkeepers in Afghanistan – افغان خواتین دکاندار

افغانستان میں دکانداری مردوں کا کام سمجھا جاتا ہے، اور کابل میں خواتین دکاندار صرف ایک مارکیٹ مزار شریف میں ہی نظر آتی ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

یہ کابل کی مزار شریف مارکیٹ ہے جو صرف خواتین کیلئے مخصوص ہے، یہاں ستر سے زائد دکانوں میں خواتین کی تیار کردہ دستکاری مصنوعات فروخت ہوتی ہیں، یہ مارکیٹ تین برس قبل مقامی حکومت نے قائم کی تھی، اور یہاں سب دکانوں کی ملکیت خواتین کے پاس ہے۔

پچاس سالہ نسیمہ ماولا ذادا یہاں ایک دکان چلارہی ہیں، جس میں خواتین کے کپڑے اور دیگر دستکاری مصنوعات فروخت ہوتی ہیں۔

نسیمہ”اس قبل میں درزی کا کام کرتی تھی، مگر اس وقت بھی بہتر آمدنی کیلئے اس طرح کا کوئی اور کام کرنے کی خواہشمند تھیں”۔

وہ ماہانہ چار سو ڈالرز کمالیتی ہیں۔

نسیمہ”جب کوئی خاتون کام کرتی ہے تو وہ اپنا اور اپنے خاندان کا تحفظ اور ضروریات پوری کرسکتی ہے، ماضی میں خواتین پر متعدد پابندیاں تھیں، میرے خاندان نے مجھے پہلے تو دکانداری کی اجازت نہیں دی، مگر اب نئی آزادی ملنے کے بعد میں آسانی سے کام کرسکتی ہوں”۔

خواتین کی دکانوں سے خریداری کاتجربہ خواتین صارفین کیلئے کافی فرحت بخش ثابت ہوتا ہے، 35 سالہ گھریلو خاتون فہیمہ سلطانی یہاں مستقل چکر لگاتی رہتی ہیں۔

فہیمہ سلطانی”میں یہاں خریداری کیلئے آتی ہوں، جب میں خواتین دکانداروں کو دیکھتی ہوں تو مجھے کافی اچھا لگتا ہے، کیونکہ دوسرے بازاروں میں تو ہمیں مرد دکانداروں کا سامان کرنا پڑتا ہے، اور میرے لئے ان سے خواتین کے کپڑے خریدنا مشکل ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں خواتین دکاندار کافی مددگار ہوتی ہیں اور مجھے آزادی کا بھی احساس ہوتا ہے، میں چاہتی ہوں کہ ان خواتین دکانداروں کی تعداد مزید بڑھے”۔

افغانستان جیسے قدامت پسند معاشروں میں تجارت کو مردوں کا کام سمجھا جاتا ہے اور خواتین کو اپنی دکانیں کھولنے کی اجازت نہیں ہوتی، مگر حکومت کی حمایت سے اب زیادہ سے زیادہ خواتین اس مارکیٹ میں دکانیں کھول رہی ہیں۔ پروین رحیمی افغان ہیومین رائٹس کمیشن کی عہدیدار ہیں، انکا کہنا ہے کہ مستقبل میں افغان خواتین متعدد شعبوں میں کام کرتی نظرآئیں گی۔

پروین”گزشتہ چند برسوں کے دوران خواتین میں اپنے حقوق کے حوالے سے شعور اجاگر ہوا ہے، میرے خیال یہی وہ بنیادی وجہ ہے جس کی وجہ سے مختلف شعبوں میں خواتین اعلیٰ پوزیشنز پر کام کرتی نظر آرہی ہیں، ہمارے سروے کے مطابق خواتین صارفین اپنی ہم صنفوں کی دکانوں سے خریداری کرکے زیادہ اعتماد محسوس کرتی ہیں، اور وہ آسانی سے ان کی مدد بھی طلب کرلیتی ہیں”۔

چالیس سالہ زبیدہ الوکوزائی یہاں دو سال سے کام کررہی ہیں۔

زبیدہ”میں عوامی مارکیٹ میں خاتون ہونے کی وجہ سے دکان نہیں کھول سکتی، وہاں ہمیں یہاں کے مقابلے میں کسی قسم کی سہولیات نہیں ملتیں، میرے شوہر کے رشتے دار دکان پر میرے کام کو پسند نہیں کرتے اور انھوں نے ہم سے قطع تعلق کرلیا ہے”۔

اکیس سالہ فوزیہ کریمی نے حال ہی میں کابل کے امیری شاپنگ سینٹر میں دکان کھولی ہے، وہ اس وقت یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں اور انہیں توقع ہے کہ وہ مستقبل میں اپنے کاروبار کو توسیع دے سکیں گی۔

فوزیہ”اگر خواتین خود کو کسی ایک جگہ تک محدود رکھیں گی تو تبدریج وہ معاشرے سے کٹ کر رہ جائیں گی، میرے خیال میں خواتین کو عوامی مارکیٹس میں آکر اپنی صلاحیت کو منوانا چاہئے۔میں اس شاپنگ سینٹر میں واحد خاتون دکاندار ہوں، اور میں یہاں مردوں کے کپڑے بھی فروخت کررہی ہوں مگر مجھے کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ میں مستقبل میں اپنا کاروبار مزید بڑھانا چاہتی ہوں”۔