Double Suicide Attack on Church in Peshawar – پشاور خودکش حملہ

پاکستان بھر میں مسیحی برادری اپنے تتحفظ کیلئے احتجاج کررہی ہے، جس کی وجہ گزشتہ دنوں پشاور میں ایک گرجا گھر کے باہر خودکش حملے میں اسی سے زائد افراد ہلاکت ہے۔اسی بارے میں سنتے ہیںآج کی رپورٹ

یہ پشاور میں ہفتہ وار تعطیل یعنی اتوار کی ایک عام صبح کا آغاز تھا، سینکڑوں افراد تاریخی گرجا گھر سے عبادت کے بعد نکل رہے تھے کہ اچانک دو خودکش بمباروں نے خود کو اڑا لیا۔

چالیس سالہ ڈاکٹر غضنفر مسیح اس وقت اپنی اہلیہ اور بیٹے کے ہمراہ گرجا گھر کے اندر تھے، جو معمولی زخمی ہوگئے۔

غضنفر”ہر طرف مکمل تاریکی چھا گئی تھی، دو بمباروں نے گرجا گھر کو تباہ کردیا تھا، اور ہر جگہ انسانی اعضاءبکھرے پڑے تھے، وہ منظر بہت خوفناک تھا، اس کا تو کوئی تصور تک نہیں کرسکتا تھا”۔

یہ پاکستانی مسیحی برادری پر اب تک سب سے بدترین حملہ تھا، جس میں اسی سے زائد افراد ہلاک اور سو سے زائد زخمی ہوئے۔ سدرہ مسیح اس واقعے میں اپنی ماں، بھائی، انکل اور کزن سے محروم ہوگئیں۔

سدرہ”میرا پورا خاندان اس میں ختم ہوگیا، ہمارے پانچ سے زائد پیارے ہلاک ہوئے، ہم اپنے بھائیوں، بہنوں اور ماں سے محروم ہوگئے، ہمارے لئے زندگی میں اب کچھ نہیں بچا”۔

اس حملے کے خلاف پاکستان بھر میں احتجاجی مظاہرے ہوئے اور اقلیتوں کو مزید تحفظ فراہم کرنےکا مطالبہ کیا گیا۔

اس حملے کے بعد حکومت نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا، چوہدری نثار علی خان وفاقی وزیر داخلہ ہیں۔

چوہدری نثار”ہم پاکستان کی مسیحی برادری سے معذرت کرتے ہیں، یہ دہشتگردوں کا سب سے خطرناک حملہ تھا، ہم اس المناک گھڑی میں مسیحی برادری کے ساتھ کھڑے ہیں”۔

مسیحی برادری کا کہنا ہے کہ حکومت اقلیتوں کو تحفظ دینے میں ناکام ہوگئی ہے، جبکہ حکومت پر طالبان عسکریت پسندوں کے حوالے سے نرم موقف اپنانے پر بھی تنقید کی گئی۔ سلمان خان پشاور پولیس کے عہدیدار ہیں۔

پولیس”ہم اس معاملے کی تفتیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں، تاہم ہمارے پاس زیادہ سراغ نہیں اور ہم ابھی تک مجرموں کیخلاف کسی قسم کی معمولات حاصل نہیں کرسکے۔ اس حوالے سے کافی کنفیوژن موجود ہے اور ابھی تک کسی نے اس حملے کی ذمہ داری بھی قبول نہیں کی”۔

تاہم دو گروپس نے اس حملے کی زمہ داری قبول کی، جن کے ماضی میں پاکستانی طالبان سے رابطے ثابت ہوئے ہیں، تاہم تحریک طالبان نے اس حملے کی مذمت کی۔ مسلم علماءجیسے مولانا عبدالرزاق فکرمند ہیں کہ اس طرح کے حملے سے ملک میں مذہبی ہم آہنگی متاثر ہوگی۔

مولانا”اسلام کسی بھی شخص کے قتل کی اجازت نہیں دیتا، یہ اسلامی تعلیمات کے خلاف ہے، جو عناصر اس طرح کے حملے کرتے ہیں، درحقیقت وہ انسان نہیں، وہ جانور اور درندے ہیں”۔

ہلاک شدگان کی آخری رسومات پشاور کے مختلف علاقوں میں ہوئیں، 45 سالہ استاد محمد اعجاز مقتولین کی یاد میں شمع روشن کررہے ہیں۔

محمد اعجاز”حالیہ سانحہ امن پسند افراد کیلئے بہت خوفناک اور شرمناک تھا، عیسائی برادری بہت پیار کرنے والی ہے، وہ کسی کو نقصان نہیں پہنچاتے، اس واقعے نے پاکستانی سیکیورٹی اداروں کی اہلیت پر بھی سوالات اٹھادیئے ہیں”۔