برمی رہنماءآنگ سان سوچی نے حال ہی میں برما کی پہلی موبائل لائبریری کا افتتاح کیا،ہزاروں کتابوں سے بھری یہ دو بسیں ینگون کے مختلف دیہات میں جارہی ہیں۔ اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
برما کی پہلی موبائل لائبریری سن چین میں پہلی بار اآہی ہے، ڈا کھن کی فاونڈیشن کے تعاون سے اس موبائل لائبریری کو پندرہ ہزار کتابیں مل چکی ہیں، جو کہ اس علاقے کے نوجوانوں میں تعلیم کا جذبہ بڑھانے کے کام آئیں گی۔ بچوں کو ممبرشپ کارڈز کیلئے قطار لگائے دیکھ کر فضاءمیں موجود جوش کو محسوس کیا جاسکتا ہے۔ ڈاکٹر تھینٹ تھا کونگ اس منصوبے کے منیجر ہیں۔
ڈاکٹر تھینٹ”کسی اور لائبریری کے مقابلے میں یہ موبائل لائبریری مقامی افراد پر زیادہ اثرات مرتب کرسکتی ہے، کیونکہ یہ خود پڑھنے والوں تک پہنچ جاتی ہے۔ ہر شخص اس لائبریری کا رکن بن سکتا ہے، چاہے وہ مرد ہو یا عورت، جبکہ کسی رنگ و نسل کی پروا بھی نہیں کی جاتی”۔
اس لائبریری کے ذریعے لگ بھگ 58 ہزار افراد کو کتابیں مفت فراہم کی جاسکتی ہیں، پڑھنے والوں کا کہنا ہے کہ انہیں اس منصوبے سے بہت زیادہ توقعات ہیں، تن اون ایک مقامی شہری ہیں۔
تن اون” ڈاکھن کی فاونڈیشن کی موبائل لائبریری کی بدولت بچے علم حاصل کرسکیں گے، ہم اس ادارے کے مشکور ہیں جو وہ اپنی موبائل لائبریری ہمارے بچوں کیلئے یہاں لیکر آئے”۔
آنگ سان سوچی نے اس منصوبے کی حمایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کی تعلیم منتخب سیاستدانوں کی ترجیحات میں سرفہرست ہونی چاہئے، نوبل انعام یافتہ سوچی نے 2012ءکے ضمنی انتخابات میں کاہمو کے علاقے سے پارلیمنٹ کی نشست جیتنی تھی، ڈاکٹر تھینٹ تھا کا کہان ہے کہ برما کو متعدد چیلنجز کا سامنا ہے مگر سب سے ضروری کام یہ ہے کہ پڑھنے کی طرف عوامی توجہ بڑھائی جائے۔
ڈاکٹر تھینٹ”میرا بچوں اور بڑوں کو مشورہ ہے کہ وہ زیادہ سے زیادہ مطالعہ کریں، ہم تمام کام تنہا نہیں کرسکتے، میں این جی اوز اور سماجی کارکنوں کو بھی اپنے کام میں شمولیت کی دعوت دیتا ہوں”۔