Defence Day OF Pakistan – یوم دفاع پاکستان

یوم دفاع پاکستان آج قومی جوش و جذبے سے منایا جارہا ہے،چھ ستمبر 1965کا دن پاکستان کی عسکری تاریخ کا ناقابل فراموش دن ہے۔ اس روز پڑوسی ملک بھارت نے رات کے آخری پہرکسی اشتعال کے بغیرلاہور کے قریب واہگہ بارڈر پار کرکے لاہور پر تین اطراف سے حملہ کردیا۔بھارتی فوجوں کے کمانڈر جنرل چوہدری نے اعلیٰ سیاسی قیادت کو یقین دلایا تھا کہ وہ دوپہر کا کھانا لاہور میں کھائیں گے بلکہ انہوں نے لاہور جم خانہ کلب میں افسروں کو چائے کی دعوت بھی دے دی تھی۔ جنرل چوہدری لاہور تو نہ فتح کرسکا البتہ اسے جنگ میں بدترین شکست پر سبکدوش کردیا گیا۔

6 ستمبر کو جب بھارتی فوج نے لاہور پر حملہ کیا تو اس وقت وہاں گشتی پولیس، ستلج رینجرز اور سرحدی دستے حفاظت پر مامور تھے۔ ان تینوں دستوں کے سپاہیوں کے پاس مشین گن سے بڑا کوئی ہتھیار ہی نہیں تھا۔ اس معمولی سی نفری نے 60 ہزار بھارتی فوجیوں کوپانچ گھنٹوں تک روکے رکھا۔ اس دوران قریبی دیہاتوں سے مسلح کسان بھی ان کی مدد کے لیے پہنچ گئے۔ پانچ گھنٹے بعد پاک آرمی کے جوان بھی سرحدوں کی حفاظت کے لیے پہنچ گئے۔ ریڈیو پاکستان سے جب بھارت کے لاہور پر حملے کی خبرنشر ہوئی تولوگوں کے جذبات کا یہ عالم تھا کہ جس کو جو میسر آیا، اپنی لاٹھیاں، کلہاڑیاں، برچھیاں اور دیگر اسلحہ لے کر اپنی فوج کی مدد کرنے کے لیے پہنچ گئے۔

بھارت نے بی آربی نہر پر قبضہ کرنے کے لیے بیدیاں، راوی اور بمبانوالہ کے پاس سے حملہ کیا،لیکن پاک فوج کی بٹالین نے اس حملے کو کئی دن تک روکے رکھا، برکی کے علاقے میں دشمن کی فوج کیخلاف شجاعت اور غیرمعمولی قیادت کے مظاہرے پر میجرعزیز بھٹی شہید کو نشان حیدر کا اعزاز بھی دیا گیا۔ پاک فضائیہ نے اس جنگ میں وہ شاندار کارنامے سرانجام دےے کہ دنیا دنگ رہ گئی، جبکہ پاک بحریہ بھی کسی سے پیچھے نہ رہی۔

پاکستانی افواج نے جنگ کے دوران بھارتی فوج کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا، پٹھان کوٹ کے اسلحہ ڈپو کی تباہی، انبالہ کے اڈے کی تباہی، کھیم کرن اور موناباو¿ ریلوے اسٹیشن پرقبضہ، جیلسمر اور رام گڑھ میں بھارتی مورچوں پر قبضہ کرکے دیا۔پاکستانی فوجیوں نے بھارت کے تقریباً 500مربع میل علاقے پرقبضہ کرلیا تھا۔ اس صورتِ حال میں بھارت اقوام متحدہ پہنچا اور جنگ بندی کی اپیل کردی۔