ٹریجڈی کوئین کا خطاب حاصل کرنے والی بھارتی ادارہ مینا کماری کو آج دنیا سے گزرے 40 سال بیت گئے۔
مہ جبیں بانو المعروف مینا کماری یکم اگست 1932ءکو بمبئی میں پیدا ہوئیں اور صرف 7 سال کی عمر میں یعنی 1939ءمیں ہی انھوں نے اپنی فرزند وطن نامی فلم میں اداکاری کرکے اپنے فنی کیرئیر کا آغاز کیا، جس میں ہی انہیں میناکماری کا نام دیا گیا۔
جس زمانے میں برصغیر میں فلم سکرین پر مینا کماری جلوہ گر ہوتی تھیں تو اسی دور میں ان کا مقابلہ نرگس، مدہوبالا ، وحیدہ رحمان اور وجینتی مالا جیسی اداکاروں کے ساتھ تھا جو اپنے فن میں یکتا تھیں ان کے ساتھ مقابلے میں فلم انڈسٹری میں اپنے لئے ایک علیحدہ مقام بنانا کوئی آسان کام نہ تھا۔ مینا کماری کی آواز میں ایک درد تھا اور سننے والے کو اندازہ ہوجاتا تھا کہ ان کے الفاظ ان کی زباں اور ان کے چہرے سے جو کرب نمایاں ہورہا ہے وہ ان کے جذبات کی صحیح عکاسی کررہا ہے
انہیں 1952ءمیں ریلیز ہونے والی فلم بیجو باورا سے شہرت ملی اور وہ بہترین اداکارہ کا فلم فیئر ایوارڈ بھی حاصل کرنے میں کامیاب رہیں۔
اس کے بعد یکے بعد دیگرے پرینیتا (Parineeta)، دیدار، ایک ہی راستہ، شردا اور دل اپنا اور پریت پیاری جیسی سپر ہٹ فلمیں دے کر مینا کماری نے المیہ کردار نگاری میں اپنی صلاحیتوں کو منوا لیا۔
تاہم انہیں عروج کی بلندیوں پر پہنچانے والی 1962ءکو ریلیز ہونے والی فلم صاحب بیوی اور غلام رہی، جس نے ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کو متاثر کیا۔
ان کی فلم پاکیزہ اپنی مثال آپ تھی اسے بننے میں 14سال کا عرصہ لگا،اس فلم کی ہدایت کاری ان کے سابق شوہر کمال امرو ہوی نے کی تھی۔اس فلم کے گانے خصوصا انہی لوگوں نے اور’سرراہ چلتے چلتے آج بھی روز اول کی طرح مشہور ہیں۔
1964ءمیں کمال امروہوی سے ان کی شادی ٹوٹ گئی جس کا غم انہیں اس شدت سے ہوا کہ وہ جگر کی بیماری میں مبتلا ہوکر عالم شباب میں ہی 31 مارچ 1972ءکو اس دنیا سے چلی گئیں۔
آج وہ ہم میں نہیں تاہم ان کی المیہ اداکاری آج بھی لوگوں کے ذہنوں میں زندہ ہیں۔
