دہائیوں کی فوجی آمریت کے بعد پہلی بار برما میں لڑکیوں کی آواز ابھرنے لگی ہے۔ یہ آواز لڑکیوں پر مشتمل ایک میوزک بینڈ Me N Ma Girls کی ہے، یہ رقاصاﺅں اور گلوکاراﺅں پر مشتمل بینڈ ہے جس نے عالمی برادری کی بھی توجہ حاصل کرلی ہے۔
Welcome to Burma یہ گیت Me N Ma Girls نامی بینڈ کی پانچ نوجوان لڑکیوں نے گایا، اس گیت کی شاعری کی طرح ان لڑکیوں کا کہنا ہے کہ وہ بھی دنیا کی دیگر لڑکیوں جیسا بننا چاہتی ہیں۔ یہ گیت انگریزی اور برمی دونوں زبانوں میں گایا گیا۔Me N Ma Girls برما میں موسیقی کی دنیا کا منظر تبدیل کرنا چاہتی ہیں۔ گروپ کی ایک رکن Htike Htike اس حوالے سے وضاحت کررہی ہیں۔
(female) Htike Htike “ہمارے بیشتر گانے ہم نے خود لکھے ہیں، جبکہ چند گیت برما کے معروف شخصیات کے ہیں۔ جب تک ہمارے ملک میں موجودہ صدر نہیں آئے تھے ہم بس رومانوی یا المیہ گانے ہی لکھ اور گا سکتے تھے۔ المیہ گانے یاد رکھنا آسان ہوتے ہیں، مگر اب لوگ جمہوریت اور سیاست پر زیادہ توجہ دے رہے ہیں، اب نئے صدر کے آنے کے بعد قوانین میں تبدیلی آئی ہے اس لئے ہم سیاست پر گیت لکھ سکتے ہیں۔ ہم اب ہر وہ چیز کہہ سکتے ہیں جو ہمارے دلوں میں ہوتی ہے۔ ہمیں بولنے کی مکمل آزادی حاصل ہے”۔
یہ بینڈ 2010ءمیں اس وقت تشکیل پایا تھا جب ایک آسٹریلین رقاصہ Nikki May نے فیصلہ کیا کہ برما میں ایک برطانوی گروپ Spice Girls جیسا بینڈ تشکیل دیا جائے۔ اب وہ اس بینڈ کی منیجر ہیں۔ انھوں نے ایک پروڈیوسر کی خدمات حاصل کی اور اس بینڈ کو The Tiger Girls کا نام دیا۔مگر وہ بہت زیادہ کام کرنا چاہتی تھی، اس لئے انھوں نے گزشتہ سال پروڈیوسر سے علیحدگی اختیار کی اور بینڈ کا نام Me N Ma Girls رکھ دیا۔ برمی زبان کے اس لفظ کا مطلب ہے میں اور میری لڑکیاں۔ گزشتہ سال دسمبر میں اس بینڈ نے اپنا پہلا البم Minga Lar Par متعارف کرایا۔
بینڈ کے اراکین ہفتے میں ایک بار رنگون میں اکھٹے ہوکر گانے کی مشق کرتے ہیں، مگر آج ان کی تربیت گاہ میں لائٹ گئی ہوئی ہے۔ Hitke Hitke اس بارے میں اظہار خیال کررہی ہیں۔
(female) Hitke Hitke “گزشتہ برسوں کے مقابلے میں اب صورتحال زیادہ بہتر ہے۔ ماضی میں بجلی بہت زیادہ جاتی تھی اور ہمیں کام کیلئے محدود وقت ہی ملتا تھا۔ مگر اب کبھی کبھار ہی بجلی غائب ہوتی ہے، اکثر اوقات اب بجلی موجود ہوتی ہے تاہم آج کی طرح کبھی کبھار مشکل بھی پیش آتی ہے”۔
یہ لڑکیاں بغیر میوزک کے گانے اور رقص کی مشق ایک بڑے شیشے کے سامنے کھڑے ہوکر کرتی ہیں۔ اب اس بینڈ کو اپنی بہترین کارکردگی پر عالمی میڈیا کی توجہ بھی حاصل ہوگئی ہے، تاہم ان کے اپنے ملک میں مقبولیت کا ابھی آغاز ہوا ہے۔
(female) Htike Htike “ہماری جلد کا رنگ سانولا ہے، ہمارے ملک میں لوگ گورے رنگ کے لوگوں یا خوبصورت لڑکیوں کو پسند کرتے ہیں۔ اور ہم سب زیادہ خوبصورت نہیں ہا ہا ہا ہا۔ مگر ہم بہت خوبصورتی سے گا سکتی ہیں، ہم دنیا کو دکھانا چاہتے ہیں کہ برمی لڑکیاں بھی دنیا کی دیگر لڑکیوں کی طرح ہیں”۔
تاہم گلوکاری اور رقص کے علاوہ بھی ان لڑکیوں کی زندگی بہت مصروف ہے، Htike Htike کمپیوٹر سائنس کی تعلیم حاصل کررہی ہیں، ان کی ساتھی Cha Cha نے zoology میں ڈگری حاصل کررکھی ہے۔ اسی طرح دیگر لڑکیاں جیسے Ah Moon روسی زبان سیکھ رہی ہے، جبکہ Wai Hnin Khaing کیمسٹری میں گریجویشن میں مصروف ہے۔ یہ پانچوں لڑکیاں برما کے مختلف حصوں سے تعلق رکھتی ہیں اور ان کے مذاہب بھی مختلف ہیں۔ Ah Moon، Kachin state سے تعلق رکھتی ہیں۔
(female) Ah Moon “کئی بار میں بھول جاتی ہوں کہ میں Kachin لڑکی ہوں۔ میں ایک Kachin، برمی یا امریکی بننے کی بجائے ایک اچھی انسان بننا چاہتی ہوں۔ یہی بات میری شاعری میں بھی نظر آتی ہے۔جب میں کچھ لکھتی ہوں تو میں دنیا کی دیگر لڑکیوں کے احساسات کو سمجھتی ہوں۔ جب میں کوئی سیاسی گیت لکھتی ہوں تو میں برمی عوام کے جذبات کا احساس کرتی ہوں”۔
ان کے نئے گیت Come Back Home میں ان لاکھوں برمی افراد کا ذکر کیا گیا ہے جو فوجی مظالم اور غربت کے باعث ملک چھوڑ کر چلے گئے۔
Ah Moon نے اس گیت کی شاعری لکھی۔
(female) Ah Moon “اس طرح کے زیادہ سے زیادہ سیاسی گیت لکھے جانے چاہئے۔ ہمارے ملک میں پہلے ایسے گانے تیار ہوتے تھے مگر ان پر پابندی عائد ہوجاتی تھی، مگر اب ہمیں اظہار رائے کی آزادی حاصل ہے، ہم آزادی سے کسی بھی موضوع پر لکھ سکتے ہیں۔ یہ برمی عوام کو حاصل ہونے والی آزادی ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ بیرون ملک مقیم برمی افراد اب واپس آجائیں، کیونکہ ہمیں ان کی ضرورت ہے”۔
انکے نئے البم کیلئے ایک اور گانا بھی تیار ہوچکا ہے، War نامی اس گیت میں Ah Moon نے اپنی آبائی ریاست Kachin میں جاری شہری خانہ جنگی کو تنقید کا نشانہ ہے۔
برمی لڑکیوں کیلئے خاندان کو اس بات پر قائل کرنا آسان نہیں کہ وہ موسیقی کے میدان میں قدم رکھ سکیں۔ Cha Cha کا کہنا ہے کہ اس نے فیصلہ کیا تھا کہ وہ اپنے صلاحیت منواکر رہے گی۔
(female) Cha Cha “پہلے تو میرے والدین نے مجھے فنکار کی حیثیت سے زندگی گزارنے کی اجازت نہیں دی۔ میرے والد چاہتے تھے کہ میں کاروباری خاتون بنوں، مگر مجھے اس میں دلچسپی نہیں تھی۔ میں موسیقی اور رقص کی دیوانی ہوں، اسی لئے میں نے اس میدان کو اپنایا۔ اب میرا خواب تعبیر پاچکا ہے اور اب میں اپنے بینڈ کے ساتھ ہالی وڈ جانا چاہتی ہوں”۔
اب اس خواب کی تعبیر بھی زیادہ دور نہیں ، کیونکہ اس بینڈ کو عالمی میڈیا میں خوب تشہیر مل رہی ہے۔ Ah Moon کا کہنا ہے کہ انہیں پیشکش ہوئی ہے کہ وہ اپنا نیا البم امریکی شہر لاس اینجلس میں ریکارڈ کرائیں۔
(female) Ah Moon “عالمی میڈیا ہم پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہے، اور وہ ہم میں انتہائی دلچسپی کا اظہار کررہا ہے۔ وہ ہماری صلاحیت کو تسلیم کرتے ہیں، اگر ایسا نہ ہوتا تو عالمی میڈیا ہمیں اتنی اہمیت نہیں دیتا۔ ہماری منیجر Nikki ہمیں نصحیت کرتی ہے کہ خود پر یقین رکھواور سخت محنت جاری رکھو۔وہ کہتی ہے کہ ہم امریکہ جائیں گے البم ریکارڈ کرائیں اور واپس آجائیں گے۔ اس سے ہمیں کسی قسم کا نقصان نہیں ہوگا”۔
شہرت حاصل ہوجانے کے باوجود Cha Cha کو اس کے والدین شام سات بجے کے بعد گھر سے باہر دیکھنا پسند نہیں کرتے۔
(female) Cha Cha “جی ہاں یہ حقیقت ہے۔ یہ آپ کو کس نے بتایا ہاہاہاہاہاہا۔ کیونکہ میری ماں دیر سے گھر واپسی کو پسند نہیں کرتی۔ یہی وجہ ہے کہ اگر گانے کی مشق کے دوران دیر ہورہی ہو تو میں گھر چلی جاتی ہوں۔میری ساتھی لڑکیاں میری مشکل کو سمجھتی ہیں”۔
Ah Moon کے والد عیسائی پادری ہیں اور والدہ Lu Nan ایک گھریلو خاتون۔ Lu Nan کا کہنا ہے کہ وہ ہر حال میں اپنی بیٹی کی حمایت کریں گی۔
(female) Lu Nan “یہاں ایسے لوگ موجود ہیں جو میری بیٹی کو گلوکاری کرتے نہیں دیکھنا چاہتے، مثال کے طور پر گرجا گھر کا عملہ، مگر میرے شوہر اس طرح نہیں سوچتے۔ ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ ہماری بیٹی اپنی پسند کے میدان میں کامیاب ہو۔ ہم رقص اور گلوکاری کیلئے اس کے جذبے کو سمجھتے ہیں، اور ہم تنگ نظری کا مطاہرہ کرنے کی بجائے اس کی حمایت کرنا چاہتے ہیں”۔