(Marsinah Radio Indonesias first radio for female workers) انڈونیشین خواتین ورکرز کا پہلا ریڈیو

 

عالمی ادارہ محنت آئی ایل او نے گزشتہ برس اپنی ایک رپورٹ میں بتایا تھا کہ ایشیاءمیں خواتین ورکرز انتہائی مشکل حالات میں کام کررہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایشیاءمیں خواتین کو مردوں کے مقابلے میں 70 سے 90 فیصد کم تنخواہیں دی جاتی ہیں۔ایسی ہی کچھ صورتحال انڈونیشیاءمیں بھی خواتین کو درپیش ہے، تاہم اب ایک کمیونٹی ریڈیو اس حوالے سے جدوجہد کررہا ہے۔

Ari Widiastari شمالی جکارتہ میں واقع ٹوتھ پک بنانے والے ایک کارخانے میں کام کرتی ہیں، اور کل ان کی ہفتہ وار تعطیل ہوگی۔

 (female) Ari “جی ہاں میری ہفتہ وار تعطیل شروع ہونے والی ہے”۔

اس وقت وہ ایک موٹرسائیکل میں مقامی کمیونٹی ریڈیو اسٹیشن جارہی ہیں۔

 (female) Ari “چونکہ اب تعطیل شروع ہورہی ہے اس لئے ہم اپنے سننے والوں کو خیرمقدمی پیغامات بھیجتے ہیں، اور ان سے کہتے ہیں کہ وہ رواں ہفتے کے دوران کارخانوں میں اپنے کام کے حوالے سے تجربات سے ہمیں آگاہ کریں”۔

Ari ایک ریڈیو Marsinah میں براڈکاسٹر کی حیثیت سے بھی کام کرتی ہیں، Marsinah ایک ایسی خاتون کا نام ہے، جنھیں انیس برس قبل ایک کارخانے میں کام کے دوران زیادتی کرکے قتل کردیا گیا تھا۔

Ari Widiastari نے ریڈیو کیلئے اپنا نام Dias رکھا ہوا ہے۔

 (female) Ari “میں بہت خوش ہوں، کارخانے میں آٹھ گھنٹے کام کرنے کے بعد میں یہاں آکر بیٹھ جاتی ہوں، موسیقی سنتی ہوں، اپنے سامعین سے رابطہ کرتی ہوں، ہمیں لوگوں کی جانب سے کافی فیڈ بیک اور براہ راست فون آتے ہیں، یہاں کام کرکے مجھے تھکن بھی نہیں ہوتی، کیونکہ یہاں سب میرے دوست ہیں”۔

Ari اپنے سامعین کو خوش آمدید کہنے کے بعد ایس ایم ایس پیغامات پڑھ کر سنارہی ہیں۔ ایسا لگ رہا ہے جیسے وہ پیشہ ور براڈ کاسٹر ہیں۔

 (female) Ari “پہلی بار تو میں بہت زیادہ گھبرائی ہوئی تھی، مجھے سمجھ نہیں آرہا تھا کہ مائیک کے سامنے کیا کروں۔ اسٹوڈیو میں اس وقت کافی لوگ موجود تھے، جو آن ائیر جانا چاہتے تھے، ہم میں سے کسی کو بھی ریڈیو نشریات چلانے کا تجربہ نہیں تھا”۔

اس ریڈیو میں لوگ کارخانوں میں پیش آنے والے روزمرہ کے واقعات دوسرے افراد سے شیئر کرتے ہیں۔ Titin Wartini بھی ایک کارخانے میں کام کرتی ہیں، وہ Marsinah ریڈیو کی پرستار ہیں۔ آج وہ فون پر اپنا ایک قصہ سنارہی ہیں۔

 (female) Titin “ہم صبح ساڑھے سات بجے سے سہ پہرساڑھے چار بجے تک کام کرتے ہیں، ہم سے ایک گھنٹہ اضافی کام لیا جاتا ہے، مگر ہمیں اس کے پیسے ادا نہیں کئے جاتے۔ یہ قانون کی واضح خلاف ورزی ہے”۔

انڈونیشین لیبر قوانین کے مطابق ملک میں مزدوروں سے ایک ہفتے میں چالیس گھنٹے تک ہی کام کرایا جاسکتا ہے، مگر قوانین کی اکثر خلاف ورزی کی جاتی ہے، اور لوگوں سے اضافی کام بغیر کسی ادائیگی کے کرایا جاتا ہے۔

متعدد خواتین ورکرز کو ان کے حقوق جیسے دوران زچگی تعطیلات سے محروم رکھا جاتا ہے، اور انہیں ڈرایا جاتا ہے کہ اگر وہ احتجاج کریں گی تو انہیں فارغ کردیا جائے گا۔ تاہم Marsinah Radio خواتین کو اس حوالے سے جدوجہد کرنے کیلئے حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ Dian Septi Trisnanti، اس ریڈیو کی سربراہ ہیں۔

 (female) Dian Septi Trisnanti “خواتین بطور ورکر اپنے حقوق سے ہی واقف نہیں، یہی چیز ہم انہیں سمجھانے کی کوشش کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنے حقوق کو سمجھ سکیں۔ اگر ان میں آگاہی ہوگی تو وہ قوانین کے مطابق کام کریں گی۔ ہمارے ریڈیو کو پروپگینڈہ پھیلانے والا چینیل نہ سمجھیں، یہ تو ہماری ساتھی خواتین ورکرز کو معلومات فراہم کرتا ہے، تاکہ وہ اپنے حقوق کیلئے جدوجہد کرسکیں”۔

Marsinah Radio اپنے صارفین کیلئے کافی شوز نشر کرتا ہے۔

 (female) Dian “ہم مارننگ شو چلاتے ہیں، جبکہ دوپہر میں بگ ورلڈ کے نام سے شو چلتا ہے، جس میں خواتین ورکرز کو ان کے حقوق سے متعلق معلومات فراہم کی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر ہمارے پانچ مختلف قسم کے ٹاک شوز ہیں، جن میں ہم حقوق، قوانین اور مزدور یونینزوغیرہ پر بات کرتے ہیں، جبکہ ہم اپنے سامعین کے ایس ایم ایس بھی پڑھ کرسناتے ہیں،

جبکہ گھریلو خواتین کیلئے بھی ایک شو نشر کیا جاتا ہے”۔

Marsinah Radio نشریات صرف صبح اور دوپہر کے اوقات میں نشر کی جاتی ہیں، یہ ایک نیا ریڈیو اسٹیشن ہے جسکے سامعین کی تعداد بہت زیادہ نہیں۔ تاہم Dian کا کہنا ہے کہ ہم نئے صارفین تک رسائی کیلئے سخت محنت کررہے ہیں۔

 (female) Dian “ہم اپنی سہیلیوںاور ایسی خواتین ورکرز کو ایس ایم ایس بھیجتے ہیں ، جن کو ہم جانتے ہیں۔ ہمیں توقع ہے کہ اس طرح ہم نئے صارفین تک رسائی حاصل کرسکیں گے”۔

Marsinah ریڈیو کا افتتاح 21 اپریل کو ہوا تھا، یہ وہ دن ہے جب انڈونیشیاءمیں خواتین کے حقوق سے متعلق معروف Ajeng Kartini کا یوم پیدائش منایا جاتا ہے۔ Titin Wartini اپنی ساتھی خواتین ورکرز کو بھی اس ریڈیو کو سننے کا مشورہ دیتی ہیں۔

 (female) Titin Wartini “میں نے اپنی پوری زندگی کے دوران خواتین کے بارے میں یہی تصور دیکھا ہے کہ وہ باورچی خانے یا گھریلو کاموں کیلئے ہی موزوں ہیں۔ مگر Marsinah ریڈیو نے ہماری آنکھیں کھول دی ہیں، میری ساتھی خواتین ورکرز کو اپنے حقوق کے بارے میں جاننا چاہئے، اور اس کیلئے جدوجہد کرنا چاہئے۔ ہمیں ماضی کے مقابلے میں آج کے دور میں دلیری سے حالات کا سامنا کرنا ہوگا۔ ہم کام ضرور کرنا چاہتے ہیں مگر ہم ظلم برداشت نہیں کرنا چاہتے۔ ہمارے ملک میں ملازمتوں کے حوالے سے قوانین موجود ہیں، جن کے بارے میں یہ ریڈیو ہمیں بتاتا ہے۔ تمام خواتین ورکرز کو اکھٹے جدوجہد کرنی چاہئے او اب ہر ڈر کو دل سے نکال دینا چاہئے”۔

اسٹوڈیو میں واپس چلتے ہیں جہاں Ari اپنے شو کا اختتام کررہی ہیں۔

Marsinah” (female) Ari ورکرز ریڈیو کا پیغام ہے کہ خواتین ورکرز کو یکساں حقوق حاصل ہوں اور ان کی حالت اچھی ہو”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *