مولانا محمد علی جوہر کی 81ویں برسی آج منائی جارہی ہے
برصغیر پاک وہند کے معروف رہنماءمولانا محمد علی جوہر دس دسمبر1878 میں رام پور میں پیدا ہوئے۔آپ نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد علی گڑھ کالج سے بے اے کا امتحان اول درجہ سے پاس کیا۔ آپ نے تاریخ میں آنرز بھی کیا۔
مولانا نے ٹائمز آف انڈیا اورآبزرورمیں سیاسی مضامین لکھ کر صحافت کا آغاز کیا۔ 1910 میں اپنا روزنامہ کامریڈ اور1913 میں ہفتہ وارہمدرد جاری کیا۔
جنگ عظیم اول میں ترکی کی حمایت میں لکھنے پر برطانوی حکومت نے مولانا کا اخبار اور پریس کی آزادی ضبط کر لی۔
انیس سو نو میں آپ اور آپ کے بھائی مولانا شوکت علی کوقید کر دیا گیا، جہاں سے رہا ہونے کے بعد آپ نے تحریکِ خلافت کی قیادت سنبھالی۔1921 میں کراچی میں خلافت کمیٹی کا اجلاس منعقد ہوا۔ آپ نے اس اجلاس میں انگریز کا قانون ماننے سے انکار کر دیا۔ جس پر انگریز حکومت نے انہیں باغی قرار دے کر تاریخی مقدمہ چلایا اور دو سال کے لیے آپ کو قید کر دیا۔ رہا ہونے کے بعد آپ نے دوبارہ مسلمانوں کے حقوق کے لیے جدوجہد شروع کر دی۔ آپ نے انگریزوں سے مطالبہ کیا کہ مسلمانوں کے اکثریتی صوبوں کو خود مختاری دی جائے۔
انیس سو تیس میں آپ بیمار ہو گئے لیکن اسی بیماری کی حالت میں آپ نے لندن میں پہلی گول میز کانفرنس میں شرکت کی اور اس میں صاف الفاظ میں آزادی ہند کا مطالبہ کیا۔اور اس گول میز کانفرینس کو بین الاقوامی میڈیا میں سرخیوں می بھی جگہ ملی۔
آپ نے کہاکہ اب میں ایک غلام ملک میں واپس نہیں جاوں گا۔ اگر آپ ہمیں آزادی نہیں دے سکتے تو آپ کو یہاں میری قبر کے لیے جگہ دینی ہوگی۔
اس کے بعد بیماری نے آپ کو مزید گھیرے میں لے لیا اور 4 جنوری 1931 کو لندن میں آپ کا انتقال ہو گیا، اس وقت آپ کی عمر 52 سال تھی۔ آپ کا مقبرہ مسجدِ عمر، بیت المقدس میں ہے۔