India: No Country for Old Peopleبھارتی بزرگ آبادی

بزرگ آبادی کے لحاظ سے بھارت دوسرا بڑا ملک ہے، مگر ایک حالیہ عالمی سروے میں ضعیف افراد کیلئے بھارت کو سب سے بدتر ملک قرار دیا گیا۔ بھارت بھر میں لاکھوں افراد بہتر پنشن اسکیم کا مطالبہ کررہے ہیں، اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ

75پچھتر سالہ مائینی مو سمات ریاست بہار سے تعلق رکھنے والی بیوہ خاتون ہیں، ان کی بنیائی کمزور ہے اور چلنا بھی بہت مشکل ہوچکا ہے، وہ بھیک مانگ کر گزارا کرتی ہیں اور اپنی راتیں گلیوں میں گزارتی ہیں۔

مائینی مو سمات”میرے چار بیٹے ہیں مگر کوئی بھی میرا خیال نہیں رکھتا، وہ مجھے مارتے ہیں اور گھر سے نکال دیتے ہیں کیونکہ میں ان سے خرچے کیلئے کچھ رقم مانگی ہوں، میری طبعیت ٹھیک نہیں اور مجھے علاج کیلئے رقم کی ضرورت ہے۔ مگر وہ کہتے ہیں ہم نے تمہیں پیسے دیئے تو ہمارے بچوں کا کیا ہوگا، کیا تم انہیں لٹکانا چاہتی ہو؟ میری بہوئیں مجھے کھانا دینے سے انکار کردیتی ہیں کیونکہ میں گھر کا کام جو نہیں کرپاتی”۔

مو سمات اس وقت دیگر سینکڑوں بزرگ افراد کے ہمراہ نئی دہلی میں موجود ہے۔

یہ بزرگ افراد کئی ہفتوں سے یو نیورسل اولڈ ایج پنشن کا مطالبہ منوانے کیلئے دھرنا دیئے ہوئے ہیں، یہ احتجاج این جی اوز کے اتحاد پنشن پر ی شاد کے تحت ہورہا ہے، پر نیمااس گروپ کی رکن ہیں۔

پر نیما”ہر بزرگ شہری کو پنشن ملنی چاہئے، یہ پنشن کم از کم چالیس ڈالر ماہانہ یا عام تنخواہوں کی نصف کے برابر ہونی چاہئے، پنشن کی رقم میں افراط زر کے مطابق اضافہ بھی ہوتا رہنا چاہئے”۔

بھارتی حکومت کی جانب سے بزرگ افراد کیلئے ایک پنشن پروگرام پہلے ہی چلایا جارہا ہے، مگر اس میں صرف ان افراد کو شامل کیا گیا ہے جو غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہے ہیں اور انہیں ماہانہ صرف چار ڈالر دیئے جاتے ہیں۔

65پینسٹھ سالہ آمنہ بی ریاست مہاراشٹر سے تعلق رکھتی ہیں، وہ اپنے بیٹے کے ہمراہ رہتی ہیں، تاہم وہ اپنے خاندان کے گزارے کے لائق آمدنی کما نہیں پاتا۔

آمنہ”بزرگی کی زندگی بہت سخت ہوتی ہے، آپ کی آمدنی کم اور ضروریات زیادہ ہوتی ہیں، اس عمر میں صرف خوراک ہی واحد ضرورت نہیں، میں کام کرتی ہوں اور جس حد تک ممکن ہو کماتی ہوں، مگر میرے پاس زیادہ توانائی نہیں بچی، اب نہ تو مجھ سے کام ہوتا ہے اور نہ ہی زندگی کی سختیاں برداشت ہوتی ہیں”۔

حکومت نے اس سے قبل بھی اسی طرح کے احتجاج کے بعد پنشن اسکیم پر نظرثانی کا وعدہ کیا تھا، مگر کچھ بھی نہیں ہوسکا تھا۔

اب یہ مظاہرین اس بات کی ضمانت چاہتے ہیں کہ ان کے مسئلے کا حل پارلیمنٹ کے آئندہ اجلاس میں نکالا جائے گا۔منجیرا کھرانا، ایک این جی او ہیلپ ایج انڈیاکی کنٹری ہیڈ ہیں۔

کھُرانہ”ہم ہر سال ایک سروے کراتے ہیں، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ بھارت میں بزرگوں پر مظالم بڑھ رہے ہیں، شہری علاقوں میں ان مظالم میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے، جس کی وجہ مہنگائی میں ڈرامائی اضافہ اور مدت عمر بڑھنا ہے۔ ان بزرگ افراد کو کوئی سوشل سیکیورٹی حاصل نہیں، انہیں طبی سہولیات سے محروم رکھا گیا ہے اور انہیں مکمل طور پر بچوں کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے”۔

انکا کہنا ہے کہ بھارت کو بزرگ افراد کے تحفظ کیلئے خصوصی قوانین کی ضرورت ہے، وہ حکومت پر اولڈ ہوم ایچ قائم کرنے پر بھی زور دیتی ہیں۔

کھُرانہ”ہمارا معاشرہ اب ایسا نہیں رہا جو بزرگوں کی نگہداشت پر فخر کرتا تھا، ہمارا معاشرہ اب ایسا نہیں رہا جہاں بزرگوں کو احترام ملتا تھا اور انہیں عقل و دانش کا مظہر سمجھا جاتا تھا”۔