دہائیوں سے جاری خانہ جنگی کے باعث برما بارودی سرنگوں سے متاثرہ چند بڑے ممالک کی فہرست میں شامل ہے، تھائی لینڈ کی سرحد کے قریب رہائش پذیر افراد اس سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں، چھ سال قبل بارودی سرنگوں سے متاثر ہونے والے افراد کی مدد کیلئے مصنوعی اعضاءبنانے کی ایک فیکٹری قائم کی گئی،اسی بارے میں سنتے ہیں آج کی رپورٹ
کیاﺅ ون، برمی فوج سے دہائیوں تک لڑنے والے علیحدگی پسند گروپ کرینی آرمی کے ایک فوجی رہ چکے ہیں، ایک جنگ کے دوران بارودی سرنگ کے دھماکے سے ان کی ٹانگ کٹ گئی تھی، کئی برس تک اپاہج کی زندگی گزارنے کے بعد انہیںکرینی نیشنل پیپلز لیبریشن فرنٹ نے تھائی لینڈ بھیجا تاکہ وہ مصنوعی اعضاءبنانے کی تربیت حاصل کرسکیں۔ اب وہ اپنے جیسے دیگر متاثرین کی مصنوعی ٹانگیں بناتے ہیں۔
کیا ﺅ ون”ہمیں مئے ساٹ میں تین سال تک تربیت دی گئی اور پھر ہم نے 2007ءدو ہزار سات میں اس فیکٹری کو کھولا، ہم ہر سال سو مصنوعی ٹانگیں بنارہے ہیں، جن میں سے بیشتر فوجیوں کیلئے ہیں، تاہم سرحدی علاقوں میں متعدد عام افراد بھی ان بارودی سرنگوں سے متاثر ہوئے ہیں”۔
یہ فیکٹری اب تک چھ سو کے لگ بھگ مصنوعی ٹانگیں بناچکی ہیں، اکثر افراد بارودی سرنگوں کے دھماکوں سے زخمی ہوئے، مگر دس فیصد ایسے بھی افراد ہیں جو فائرنگ یا زیابیطس کے زخموں سے اپاہج ہوئے۔
کیا ﺅ ون”مصنوعی اعضاءکیلئے میٹریل تھائی لینڈ سے منگوایا جاتا ہے”۔
کیا ﺅ ون جیسے افراد کو یہ ملازمت دینے کا ایک فائدہ یہ بھی ہے کہ وہ جانتے ہیں کہ مصنوعی ٹانگوں کے ذریعے چلنا کیسا تجربہ ہوتا ہے۔ ماﺅنگ مینٹ برمی فوج کے سابق اہلکار ہیں۔
ماﺅنگ مینٹ”وہ مصنوعی اعضاءجو ماضی میں فوج بناتی رہی تھی وہ مختلف تھے، اب ان اعضاءکو ہمارے جیسے معذور افراد ہی بنارہے ہیں، جو کہ ہمارے لئے استعمال میں زیادہ بہتر ہیں”۔
سوئس این جی او جینیوا کال کے مطابق برما کی پچاس لاکھ آبادی بارودی سرنگوں سے بھرے علاقوں میں رہائش پذیر ہے، ان میں سے بیشتر تھائی سرحد سے ملحقہ علاقوں کے باسی ہیں۔ماﺅ کائی،مائے ساٹ میں ٹانگیں بنانے والوں کے انچارج ہیں۔
مائے ساٹ”فوج اور علیحدگی پسند دونوں بارودی سرنگیں استعمال کرکے لوگوں کو نقصان پہنچا رہے ہیں، اگر یہاں حقیقی امن بھی قائم ہوجائے تو بھی ہمیں ان بارودی سرنگوں کی صفائی کرنے میں کئی برس لگ جائیں گے”۔
برمی حکومت نے ایک این جی او نارویجن پیپلز ایڈ کیساتھ ایک مفاہمتی یاداشت پر دستخط کئے ہیں، جس کے تحت مشرقی برما میں بارودی سرنگوں کو صاف کیا جائے گا، مگر صفائی کے اس عمل کیلئے طویل عرصہ درکار ہے، جس کا مطلب ہے کہ کیاﺅ ون اور ان کی ٹیم کو ابھی بہت کام کرنا ہوگا۔