Maoist Fighters Hand Over Weaponsماﺅ باغیوں نے ہتھیار ڈال دیئے

 

(Nepal Maoist handover)نیپالی ماﺅ نواز

نیپال میں امن عمل کو شروع ہوئے چھ سال مکمل ہوچکے ہیں اور اب ماﺅ باغیوں کی بحالی نو آخری مرحلے میں داخل ہوگئی ہے۔یہ باغی اب اپنے ہتھیار نیپالی فوج کے حوالے کررہے ہیں، تاہم کچھ افراد اس کی مخالفت کررہے ہیں

گزشتہ دنوں نیپالی فوجی اہلکار وںنے ماﺅ باغیوں کے علاقوں کا دورہ کیا اور ان کے ہتھیار اپنے قبضے میں لئے۔ یہ علاقے فوج کے حوالے کرنے کا عمل ایک خصوصی کمیٹی کے فیصلے کے بعد شروع ہوا، یہ کمیٹی سابق ماﺅ جنگجوﺅں کی بحالی نو کیلئے قائم کی گئی ہے۔وزیر خزانہ Barsha Man Pun اس کمیٹی میں ماﺅ پارٹی کی نمائندگی کررہے ہیں۔

 (male) Barsha Man Pun “ہم نے سابق جنگجوﺅں کی تمام چھاﺅنیوں اور ان کے ہتھیاروں کو حکومتی کنٹرول میں لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس فیصلے کے تحت آج نیپالی فوج نے ما ﺅ با غیو ں کی تما م چھاﺅنیوں کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لیکر وہاں سیکیورٹی کی ذمہ داری سنبھال لی ہے”۔

گزشتہ سال نومبر میں امن عمل میں اس وقت نمایاں پیشرفت دیکھنے میں آئی، جب تمام سیاسی جماعتیں سابق ماﺅ باغیوں کو نیپالی فوج کا حصہ بنانے پر متفق ہوگئیں، جبکہ ہزاروں افراد کو پیسے دینے کا وعدہ کیا گیا تاکہ وہ عام شہری کی طرح زندگی گزار سکیں، مگر متعدد ماﺅ باغی اس معاہدے سے خوش نہیں، اور مبصرین کے خیال میں ان تحفظات کے باعث ماﺅ پارٹی کی قیادت کو اندرونی طور پر تقسیم ہونے کا خطرہ لاحق ہوچکا ہے۔Kiran Nepal، ایک بڑے جریدے Himal Khabar Patrika کے ایڈیٹر ہیں۔

 (male) Himal Khabar Patrika “قومی قیادت اور بین الاقوامی برادری ماﺅ نوازوں پر دباﺅ بڑھا رہی تھی، مگر اچانک ہی وہ سب اس معاہدے پر متفق ہوگئے، جو کہ ناقابل یقین ہے۔ اب ماﺅ پارٹی اندر سے تقسیم ہوتی نظر آرہی ہے، خصوصاً جنگجوﺅں کے معاملے پر، اس چیز نے ماﺅ قیادت کو خوفزدہ کردیا ہے، یہی وجہ ہے کہ انھوں نے فوری طور پر اپنے ہتھیار فوج کے حوالے کردیئے ہیں”۔

ماﺅ جماعت میں سخت گیر موقف اپنانے والے دھڑے کی قیادت وائس چیئرمین موہن ودیا کررہے ہیں، انھوں نے ماﺅ چھاﺅنیوں کا کنٹرول فوج کے حوالے کرنے کے فیصلے کیخلاف احتجاج کی کال دی۔

دو سو سے زائد ماﺅ نوازوں نے کھٹمنڈو کے مختلف علاقوں میں ٹرانسپورٹ کو بند کروادیا، انھوں نے پارٹی چیئرمین اور ماﺅ جماعت سے ہی تعلق رکھنے والی نیپالی وزیراعظم کے پتلے نذر آتش کئے۔ سنیئر ماﺅ رہنماءPampha Bhusal بھی اس احتجاج میں شریک تھی۔انھوں نے گزشتہ سال نومبر میں ہونیوالے معاہدے کی مخالفت کی تھی۔

 (female) Pampha Bhusal “پہلے ہماری جماعت نے فیصلہ کیا تھا کہ بحالی نو کے عمل میں ذاتی سلیکشن کی بجائے جنگجوﺅں کو بھی ایک گروپ کی حیثیت سے شامل کیا جائیگا، مگر ایسا نہ ہوسکا اور اب نیپالی فوج میں بھرتیاں گروپ کی جگہ انفرادی سطح پر ہورہی ہے۔ ہم اس چیز سے متفق نہیں، کیا یہی مصالحتی عمل ہے؟ ہمارے خیال میں تو یہ ہماری طاقت کو ختم کرنے کی واضح کوشش ہے، ہماری جماعت کے چیئرمین اور وائس چیئرمین جو نیپال کے وزیراعظم بھی ہیں، نے ماﺅ جماعت کے فیصلوں کی خلاف ورزی کی ہے”۔

وزیراعظم ڈاکٹر Baburam Bhattarai نے ہتھیار رکھے جانے کے بعد ٹیلیویژن پر خطاب کے دوران ماﺅ جنگجوﺅں اور فوج دونوں کے عزم کو سراہا، انکا کہنا تھا کہ اس عمل کو خراب کرنے کی کوشش کرنے والے افراد کو تاریخ کبھی معاف نہیں کرے گی۔

 (male) Baburam Bhattarai “یہ امن عمل لگ بھگ مکمل ہوچکا ہے، اب صرف تیکنیکی پہلوﺅں کو ہی حتمی شکل دینا باقی رہ گیا ہے۔ یہ ایک تاریخی کامیابی ہے اور اب ہم اس سے پیچھے نہیں ہٹ سکتے۔ یہ ایک اور انقلاب کیلئے موزوں وقت نہیں، اب ہم تمام مسائل کو پرامن طریقے سے حل کررہے ہیں، جبکہ نئے آئین کے مسودے کی تیاری بھی جاری ہے۔ میں اپنے تمام ایسے دوستوں سے جو اس امن عمل سے متفق نہیں، سے درخواست کرتا ہوں، کہ وہ امن عمل کو خراب کرنے کی کوشش نہ کریں”۔

اب جبکہ بڑی تعداد میں سابق ماﺅ جنگجو فوج کا حصہ بن رہے ہیں، سیاسی جماعتوں کو توقع ہے کہ ملک میں مستقل امن قائم ہوجائے گا۔Jhalalnath Khanalسابق وزیراعظم اورنیپال کی تیسری بڑی سیاسی جماعت United Marxist Leninist کے چیئرمین ہیں۔

 (male) Jhalalnath Khanal “میرے خیال میں نیپالی امن عمل بہت مثبت انداز سے آگے بڑھ رہا ہے۔ امن معاہدے پر اتفاق اس عمل کو تکمیل تک پہنچانے کیلئے ایک اہم سنگ میل تھا۔ اب ملک میں امن عمل ایسے مقام پر پہنچ چکا ہے جہاں سے وہ واپس نہیں ہوسکتا”۔

سوال”ایک ماﺅ دھڑا اس امن عمل کے تازہ فیصلوں کی مخالفت کررہا ہے، کیا اس کی وجہ سے چیلنجز کا سامنا ہوسکتا ہے؟

 (male) Jhalalnath Khanal “تمام سیاسی جماعتیں امن معاہدے پر عملدرآمد کیلئے متحد ہیں، ہم اس معاہدے پر عملدرآمد کیلئے سنجیدہ ہیں۔ مجھے توقع ہے کہ ماﺅ جماعت بھی اس پر سنجیدگی سے عملدرآمد کرے گی۔ہمارے اور ان کے پاس اس معاہدے کا کوئی متبادل نہیں۔ تو مجھے اعتماد اور یقین ہے کہ نیپال میں امن عمل کامیابی سے اختتام پذیر ہوگا”۔

عالمی برادری نے بھی نیپال کے حالیہ اقدامات پر مثبت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے توقع ظاہر کی ہے نیپال میں نئے آئین کی تیاری کا کام مقررہ مدت میں مکمل ہوجائے گا۔

کچھ سابق ماﺅ جنگجو اپنے مستقبل کے منصوبوں پر بات کررہے ہیں۔ Biswo Kranti نے فوج میں جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھرتی کا یہ عمل آئندہ چند روز میں شروع ہوگا۔

 (male) Biswo Kranti “ہم سب بہت جلد فوج کا حصہ بن جائیں گے، ہم اکھٹے تربیت حاصل کریں گے، ہم ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کریں گے اور ہم آہنگی سے کام کریں گے۔ ہمارے پاس اس کے علاوہ کوئی اور متبادل نہیں”۔

 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *