(Malaysia’s Largest Demo in a Decade) ملائیشیا میں ایک دہائی کے دوران سب سے بڑا احتجاج


گزشتہ دنوں ملائیشین دارالحکومت میں انتخابی اصلاحات کیلئے این جی اوز کے اتحاد نے ایک بہت بڑی ریلی کا انعقاد کیا۔این جی اوز کے اتحاد Bersih کا کہنا ہے کہ موجود انتخابی قوانین حکمران اتحاد کو فائدہ پہنچارہے ہیں۔

علی الصبح کوالالمپور میں چلنے والی لوکل ٹرینیں لوگوں سے بھری ہوئی ہیں،تاہم بیشتر افراد نے شہر کے دل تک پہنچنے کیلئے پیدل جانے کو ترجیح دی۔ Gary Too ایک بزنس مین ہیں، وہ اس وقت آزادی چوک تک پہنچنے کیلئے ٹرین کا انتظار کررہے ہیں۔

 (male) Gary Too “ہم یہ مہم اچھے مقصد کیلئے چلا رہے ہیں، تاکہ مستقبل میں ملائیشیاءکو اپنے بچوں کیلئے بہتر ملک بناسکیں”۔

سوال” این جی اوز کا اتحاد Bersih انتخابی آزادی اور انتخابی شفافیت کا مطالبہ کررہا ہے، اس حوالے سے حکومت کو کیا کرنا چاہئے؟

 (male) Gary Too “لوگ اس چیز کی حوصلہ افزائی کیوں کررہے ہیں؟ اس لئے کہ عوام کو احساس ہورہا ہے کہ حکومت اپنی مشینری کو استعمال کرکے انتخابی قوانین میں دھوکے بازی کررہی ہے۔ ان غیرمنصفانہ انتخابی قوانین کے ہوتے ہوئے تو اپوزیشن کیلئے کامیابی کا کوئی امکان ہی نہیں”۔

دوپہر کے وقت ہزاروں افراد آزادی چوک میں کھڑے شفاف انتخابات کا مطالبہ کررہے ہیں۔ حکومت نے حال ہی میں انتخابی فراڈ کے حوالے سے موجود بل میں تبدیلیاں کی ہیں، جس کے تحت اب انتخابات کے دوران مبصرین کو کام کرنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ جس کے بارے میں این جی اوز کا کہنا ہے کہ اس سے انتخابی عمل کی شفافیت متاثر ہوگی۔گزشتہ برس بھی Bersih کی ریلی میں ہزاروں افراد نے شرکت کی تھی، جس میں ایک ہزار سے افرادزائد کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔ملائیشین ہیومین رائٹس کمیشن کے چیئرمین James Nayagam کا کہنا ہے کہ موجودہ ریلی کے موقع پر پولیس کو زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہئے۔

 (male) James Nayagam “میں پولیس کے ساتھ مذاکرات کررہا ہوں تاکہ وہ کوئی کریک ڈاﺅن نہ کرسکے۔ یہاں پولیس کی جانب سے کسی کارروائی کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔مجھے توقع ہے کہ ہر شخص دوسروں کے حقوق کا احترام کرے گا، اگر ہر شخص اسی طرح پرامن رہا تو یہ بہت اچھا احتجاج ثابت ہوگا، تاہم اگر لوگوں نے قانون کو اپنے ہاتھوں میں لیا تو صورتحال بالکل مختلف ہوگی”۔

ریلی کے موقع پر پولیس کی بھاری نفری علاقے میں تعینات تھی، Daniel Lo ملائیشین بار کونسل کی نمائندگی کررہے ہیں۔

 (male) Daniel Lo “ہم صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ بار کونسل کا موقف ہے کہ احتجاج کرناعوام کا بنیادی حق ہے، جس کی ضمانت آئین میں بھی دی گئی ہے۔ یہ ٹھیک ہے کہ انتظامیہ کا نقطہ نظر مختلف ہے تاہم ہمیں توقع ہے کہ آج کا احتجاج پرامن ثابت ہوگا”۔

مگر بدقسمتی سے ایسا نہیں ہوسکا۔

پولیس نے واٹر کینن اور آنسو گیس کے شیل مظاہرین پر فائر کئے، جبکہ دو سو سے زائد افراد کو آزادی چوک کی باڑیں توڑنے کے بعد حراست میں لے لیا گیا۔ ملائیشین قوانین کے مطابق آزادی چوک میں احتجاج ممنوع ہے، مگر ملائیشین بار کونسل کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پولیس نے بغیر کسی وجہ کے انتہائی ظالمانہ کریک ڈاﺅن کیا، جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہوئے، جبکہ گاڑیوں اور عمارات کو نقصان پہنچا۔حکومت نے پولیس کے ایکشن کا ذمہ دار ریلی کی انتظامیہ کو قرار دیا، وزیراعظم نجیب رزاق کا کہنا تھا کہ حزب اختلاف اس احتجاج کے ذریعے ملک میں امن و امان کی صورتحال خراب کرنا چاہتی ہے، دوسری جانب Bersih اس واقعے کی تحقیقات کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔

اس وقت ملائیشیاءمیں وزیراعظم کی مقبولیت انتہائی کم سطح پر پہنچ چکی ہے، جس کی وجہ گزشتہ سال جولائی میں Bersih کی ریلی پر پولیس کا تشدد تھا۔رواں برس کے احتجاج سے Gary Too کو توقع ہے کہ اس سے لوگوں میں تبدیلی کی خواہش پیدا ہوگی۔

 (male) Gary Too “مجھے بہت اچھا محسوس ہورہا ہے اور مختلف برادریوں کی جانب سے احتجاج پر ملنے والی مبارکباد سے میں اپنے اندر ایک نیا حوصلہ دیکھ رہا ہوں۔ہم سب شفاف اور آزادانہ انتخابات چاہتے ہیں، تاکہ لوگ اپنی پسند کی حکومت منتخب کرسکیں۔ اگر ملک میں آزادانہ انتخابات ہوں گے تو کوئی بھی شخص اس طرح کا احتجاج نہیں کرسکے گا”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *