(Malaysia: Safe as Houses?) ملائیشیا بالکل گھر جیسا محفوظ؟

 

ایک عالمی سروے کے مطابق ملائیشیاءکو جنوب مشرقی ایشیاءکا سب سے محفوظ ملک قرار دیا گیا ہے، سرکاری اعدادوشمار کے مطابق بھی یہاں گلی کوچوں میں جرائم کی شرح میں گزشتہ دو برسوں کے دوران 40 فیصد کمی ہوئی ہے۔تاہم حالیہ دنوں میں پرتشدد جرائم کی لہر نے حکومتی اعدادوشمار کو مشکوک بنادیا ہے۔

Wong Chin Huat ایک سیاسی کارکن اور Monash یونیورسٹی کے لیکچرار ہیں۔گزشتہ دنوں ایک صبح انہیں مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑا تھا۔

 (male) Wong “میں نے خود کو اچانک دو موٹرسائیکلوں کے گھیرے میں پایا، مجھے یاد نہیں کہ ان موٹرسائیکلوں پر کتنے افراد سوار تھے، ان لوگوں نے ہیلمٹوں اور گھونسوں سے مجھے مارا۔ وہ بہت خوفناک تجربہ تھا”۔

Wong Chin Huat کے خیال میں یہ حملہ سیاسی مخالفت کا نتیجہ ہے تاہم انکا یہ بھی کہنا ہے کہ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ملائیشیاءکتنا غیر محفوظ ملک ہے۔

 (male) Wong Chin Huat “مجھ پر حملہ سیاسی سرگرمیوں کی وجہ سے ہوا، یہ اچھا اشارہ نہیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ سیاست ایک پرتشدد شعبہ ہے۔ تاہم ہوسکتا ہے کہ میں ایسا بدقسمت شخص بنا ہوں جو لڑکوں کی تفریح طبع کا شکار ہوگیا، میرا ماننا ہے کہ جب آپ صبح کی چہل قدمی یا کسی شاپنگ پلازہ میں خود کو محفوظ نہ سمجھیں تو اسکا مطلب ہوتا ہے کہ ہمارا ملک محفوظ نہیں”۔

Wong Chin Huat پر حملہ گزشتہ دو ماہ کے دوران میڈیا میں سامنے آنے والے تشدد کے چند بڑے واقعات میں سے ایک ہے، گزشتہ ماہ ایک ڈچ لڑکے کو اس کے اسکول کے باہر تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اسکے بعد ایک لڑکی کو دو مردوں نے مصروف شاپنگ سینٹر سے اغوا کیا اور زیادتی کا نشانہ بنایا، وہ لڑکی کسی طرح فرار ہونے میں کامیاب ہوگئی اور اب یہ قصہ فیس بک پر گردش کررہا ہے۔ یہ فہرست یہیں تک ہی محدود نہیں۔

Idris Jala ملائیشین وزیر ہیں، انکا دعویٰ ہے کہ حکومتی پالیسیوں کے باعث ملک میں جرائم کی شرح کم ہوئی ہے، انکا اصرار ہے کہ پرتشدد واقعات کبھی کبھار ہونے والے واقعات ہیں، میڈیا ان کو اچھال کر لوگوں میں ہراس پیدا نہ کرے۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ دو برسوں کے دوران جرائم کی شرح میں چالیس فیصد کمی ہوئی ہے، مگر متعدد ملائیشین شہریوں کو ان اعدادوشمار پر یقین نہیں۔54 سالہ فیروزہ برہان الدین ریاست Selangor کی رہائشی ہیں۔

فیروزہ(female) “مجھے تو حکومتی دعوﺅں میں حقیقت نظر نہیں آتی، مجھے نہیں معلوم کہ حکومت نے کہاں سے یہ اعدادوشمار حاصل کئے ہیں، ہمیں تو لگتا ہے کہ شہری علاقوں میں جرائم بڑھ گئے ہیں، جو کہ مجھ جیسے لوگوں کیلئے انتہائی خوفناک امر ہے۔ اب ہم کسی بھی جگہ جاتے ہیں تو ہم بہت زیادہ ہوشیار رہتے ہیں”۔

فیروزہ فکر مند ہیں کہ تشدد کا نشانہ بننے والے افراد کی اکثریت خواتین پر مشتمل ہے۔

فیروزہ(female) “اغوا کے بڑھتے ہوئے واقعات کو دیکھتے ہوئے میں اپنی تین سالہ پوتی کے ساتھ باہر جاتے ہوئے انتہائی محتاط رہتی ہوں، جبکہ تیس برس قبل اپنی بیٹی کے ساتھ گھومتے ہوئے مجھے یہ فکر نہیں ہوتی تھی۔ اب صورتحال زیادہ خراب ہوچکی ہے اگر آپ ہمارے آس پاس کا جائزہ لیں تو معلوم ہوگا کہ ہر جگہ سیکیورٹی گارڈز تعینات ہیں، گزشتہ دو ماہ کے دوران مسلح افراد ہمارے علاقے میںدو بار گھسنے کی کوشش کی جوناکام بنا دی گئی، جس پر وہ کسی اور علاقے کی طرف چلے گئے۔ ان لوگوں نے گارڈ کو تشدد کا نشانہ بنایا جسے ہسپتال میں داخل کرانا پڑا۔ ہر طرف سیکیورٹی گارڈز کو دیکھتے ہوئے ہمیں تو لگتا ہے کہ جیسے ہم کسی محاصرے کی زد میں ہیں”۔

سیکیورٹی گارڈز کی بڑھتی ہوئی تعداد سے لگتا ہے کہ ملائیشین عوام کا پولیس سے اعتماد اٹھ چکا ہے۔ Wong Chin Huat اس حوالے سے اظہار خیال کررہے ہیں۔

 (male) Wong Chin Huat “اس رجحان سے ثابت ہوتا ہے کہ ریاست ناکام ہورہی ہے، حکومت اور ریاست کا فرض ہے کہ وہ لوگوں کو تحفظ فراہم کرے۔ مگر جب آپ کو اپنی جیب سے اپنے تحفظ کیلئے اضافی رقم ادا کرنا پڑے تو اسکا مطلب ہے کہ ہماری پولیس فورس ناکام ہوچکی ہے”۔

Lee Lam Thye ایک این جی او Malaysian Crime Prevention Foundation سے تعلق رکھتے ہیں، انکا کہنا ہے کہ انتظامیہ کو جرائم کی بنیادی وجوہات کا جائزہ لینا چاہئے۔

لی(male) “سفاک ملزمان ہمیشہ مواقعوں کی تلاش میں رہتے ہیں، لوگوں کو لوٹنے کے ساتھ ساتھ وہ دیگر جرائم جیسے جنسی زیادتی اور تشدد وغیرہ کرنے سے بھی نہیں چوکتے۔ ہمارے ملک میں جرائم میں اضافے کی بڑی وجہ خراب معاشی حالات، بیروزگاری اور منشیات کا استعمال ہے”۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *