سندھ کی ثقافت کی پہنچان اور تھر کی کوئل کا خطاب رکھنے والی مشہور لوک گائیکا مائی بھاگی مٹھی شہر کے قریب انیس سو بیس کی دہا ئی میں پیداہوئی۔شادی بیاہ کی تقریبات اور مزاروں پر لوک گیت گا کر نام کمانے والی مائی بھاگی کی ملاقات جب تھر کے ریگستان میں اس وقت کے ریڈیوپروڈیوسر شیخ غلام حسین سے ہوئی توانہوں نے مائی بھاگی کو ریڈیو پاکستان حیدرآباد آنے کی دعوت دی جو مائی بھاگی نے قبول کرلی اور اس طرح مائی بھاگی نے اپنا پہلا مشہور لوک گیت ریڈیو پاکستان کے لئے ریکارڈ کرایا۔مائی بھاگی نے یوں تو موسیقی کی باقاعدہ تربیت حاصل نہیںکی۔ لیکن پھر بھی انکی آواز اورانداز میں ایسا جادو تھا جو انکے سننے والوں کو اپنے سحر میں جکڑ لیتا تھا۔تھر کی وادیوں میں گونجنے والی آواز جب جگہ جگہ مشہورہوئی تو مائی بھاگی کے سرکاری اور غیرسرکاری دوروں میں اضافہ ہوگیا۔اور انہوں نے متعدد ممالک میں سندھ ،سرائیکی،ٹھاٹکی اور مارواری زبان میں لوک گیتوں کے ساتھ بھٹائی ،سچل سر مست،مصری شاہ،حمل اور بھلے شاہ کاکلا م بھی گایا۔صوفیانی طبعیت اور پیروں فقیروں سے عقیدت رکھنے والی مائی بھاگی کوتمغہ حسن کارکردگی کے علا وہ ،شاہ عبدالطیف اور سچل سرمت سمیت متعدد ایوارڈ ز سے نوازا گیا۔سات جولائی انیس سو چھیاسی کو مائی بھاگی اس دنیافانی سے کوچ کرگئیں۔تاہم مائی بھاگی سندھ کی موسیقی کا وہ سنہرا باب ہیں جسکو کبھی بھلایا نہیں جاسکتا۔